Saturday , September 23 2017
Home / خواتین کا صفحہ / آؤ معلومات حاصل کریں…!

آؤ معلومات حاصل کریں…!

پیارے بچو!کیا تتلی کو پرواز کرنے کیلئے سورج کی شعاعوں کی ضرورت ہوتی ہے؟ ایک تتلی کا جسمانی درجہ حرارت پرواز کرنے کیلئے ایک خاص درجہ پر ہونا ضروری ہے۔ تتلی کا جسمانی درجہ حرارت اگر 28 ڈگری سینٹی گریڈ ہو تو وہ پرواز نہیں کرسکتی۔ ایسی صورتِ حال میں تتلی اپنے دونوں بازوؤں کو پھیلا دیتی ہے اور جسم کا بالائی حصہ سورج کی جانب کردیتی ہے تاکہ شعاعیں صحیح زاویہ سے جذب کرسکے۔ جب درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو تتلی 90 ڈگری درجے کے زاویئے پر مڑجاتی ہے۔ اس طرح افقی طور سے شعاعیں جذب کرتی ہے۔ جب مخصوص درجہ حرارت حاصل کرلیتی ہے تو پرواز کرنے لگتی ہے۔ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ تتلی کے پروں پر مختلف قسم کے جو دھبے نظر آتے ہیں، کیا اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کیلئے ہوتے ہیں یا ان کا مقصد کچھ اور ہے؟ د ھبے خوبصورتی میں اضافہ تو کرتے ہی ہیں، مگر زیادہ درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کا اہم کام بھی انجام دیتے ہیں۔ دھبے پروں کی مخصوص جگہوں پر ہوتے ہیں۔ یہ ان حصوں کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں جنھیں زیادہ تر گرم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مخصوص نقش و نگار کی بدولت ان کی جِلد سے گرم ہونے والے دھبوں سے جسم کے دیگر اعصاب کو حرارت کی ترسیل، کم سے کم فاصلہ کی وجہ سے کم سے کم وقت میں ممکن ہوجاتی ہے۔ مختلف اقسام کی تتلیاں مختلف طریقوں سے درجہ حرارت حاصل کرتی ہیں۔ بعض تتلیوں کے پروں پر دھبے قطعی نہیں ہوتے۔ تتلی کی ایک قسم جو پیئرس (Pieris) کہلاتی ہے۔ اس کا طریقہ عدسوں کے اُصول پر منحصر ہوتا ہے۔ ایک عدسہ جب شعاعیں منعکس کرتا ہے تو ایک نقطہ ایسا آتا ہے جہاں کاغذ رکھ دیا جائے تو جل جاتا ہے۔ اس اُصول کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تتلی اپنے پر سورج کے سامنے خاص زاویئے پر رکھ لیتی ہے۔ شعاعیں اس کے جسم کی گرمی حاصل کرنے والے حصوں پر مرتکز ہوجاتی ہے۔ جب وہ مخصوص درجہ حرارت حاصل کرلیتے ہیں تو تتلی مائل پرواز ہوتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT