Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / آئندہ سال انجینئرنگ کالجس کی تعداد میں مزید کمی کا امکان

آئندہ سال انجینئرنگ کالجس کی تعداد میں مزید کمی کا امکان

حکومت کے سخت قوانین پر کالجس انتظامیہ کا کالجس بند کرنے پر غور
حیدرآباد۔10فروری(سیاست نیوز) ریاست میں چلائے جانے والے انجینئرنگ کالجس کی تعداد آئندہ سال مزید گھٹ جائے گی۔ حکومت کی جانب سے انجینئرنگ کالجس کے قواعد میں لائی جانے والی سختی کے سبب مزید کالج انتظامیہ اپنے کالجس کو بند کرنے کے متعلق منصوبہ بندی کر رہے ہیں کیونکہ ان سخت شرائط کے اطلاق کے ساتھ کالجس چلانا ان کیلئے انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے ۔ حکومت تلنگانہ اور جے این ٹی یو کی جانب سے اختیار کردہ سخت گیر موقف کے سبب اب تک 150سے زائد انجینئرنگ کالجس بند کئے جا چکے ہیں اور اب مزید 100انجینئرنگ کالجس بند ہونے جا رہے ہیں۔ جے این ٹی یو کی جانب سے مسلمہ حیثیت کی فراہمی کیلئے شرائط اور قواعد پر سختی سے عمل آوری اور معمولی وجوہات کی بناء پر مسلمہ حیثیت نہ دیئے جانے کے سبب کالجس کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی تھی اور 150کالجس کے بند ہوجانے کے بعد ریاست میں انجینئرنگ نشستوں میں بھاری کمی واقع ہوئی تھی لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے مزید منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں کیونکہ آئندہ سال انجینئرنگ کالجس کی موجودہ تعداد 207سے گھٹ کر 100یا110تک محدود ہو جائے گی۔ آل انڈیا کو نسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے قواعد کے بموجب ہر اس کالج میں جہاں ایک کورس میں 120طلبہ کے داخلہ کی گنجائش موجود ہے وہاں ایک کورس کیلئے ایک انجینئرنگ کے مخصوص کورس میں پی ایچ ڈی استاذ کا تقرر لازمی ہے لیکن AICTEکے ان رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری نہیں کی جاتی جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد کافی کم ہے اور وہ بہ آسانی دستیاب نہیں ہیں اور اسی طرح ایم ٹیک کے ہر کورس کے لئے ایک پی ایچ ڈی کا تقرر لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس میں بھی اسی طرح کی رعایت سے کام چلایا جاتا تھا لیکن اب جے این ٹی یو کی جانب سے اس شرط کی عدم تکمیل پر کسی بھی کالج کو مسلمہ حیثیت فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے منفی اثرات کالجس پر مرتب ہونے لگے ہیں۔کالجس کے انتظامیہ کے بموجب حکومت کی جانب سے اس طرح کے شرائط کے اطلاق پر نرمی کے بجائے سختی کے سبب ترک تعلیم کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔ بعض گوشوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بعض کالج انتظامیہ کے اشاروں پر ہی اس طرح کی کاروائیاں انجام دی جا رہی ہیں تاکہ ریاست میں نشستوں کی تخفیف کا انہیں راست فائدہ پہنچے۔ انجینئرنگ کالجس کی نشستوں میں ہونے والے زبردست اضافہ کے سبب نوجوان بہ آسانی انجینئر بننے کے متعلق منصوبہ بندی کررہے تھے لیکن اب جب حکومت کی جانب سے ان شرائط پر سختی کرتے ہوئے مسلمہ حیثیت فراہم کرنے سے انکار کیا جانے لگے گا تو صرف چند ایک کالجس باقی رہ جائیں گے اور جو باقی رہ جائیں گے ان کالجس میں ایک مرتبہ پھر سے انجینئرنگ میں داخلہ کیلئے بھاری ڈونیشن کا دور شروع ہوجائے گا کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے نشستوں میں کمی اور طلب میں اضافہ ہونے لگے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ جے این ٹی یو کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہونے کے سبب سال گذشتہ 150سے زائد کالجس بند کئے جا چکے ہیں اور اب 100سے زائد کالجس بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گے کیونکہ کالجس کے ذمہ داروں کو اس بات کی شکایت ہے کہ انہیں انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کرنے والے اساتذہ کی قلت کا سامنا ہے اور اس قلت کے دور ہونے تک AICTEکی طرح قواعد میں نرمی سے کام لیا جانا چاہئے ایسا نہ کرنے کی صورت میں ریاست کی تیزی سے بڑھ رہی شرح خواندگی میں گراوٹ ریکارڈ ہونے کا خدشہ ہے اور انجینئرنگ کورسس ایک مرتبہ پھر سے متمول طبقہ کے نوجوانوں کے لئے مخصوص ہو جائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT