Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / آئندہ سال سے سرکاری اداروں کو رمضان گفٹ سربراہی کی ذمہ داری

آئندہ سال سے سرکاری اداروں کو رمضان گفٹ سربراہی کی ذمہ داری

کپڑوں کے غیر معیاری ہونے پر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی ہدایت
حیدرآباد ۔28۔ جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے رمضان المبارک کے دوران غریب مسلم خاندانوں میں رمضان گفٹ کی تقسیم کے تحت معیاری کپڑوں کی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے خانگی کمپنیوں کے بجائے سرکاری ادارے کو یہ کام تفویض کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ گزشتہ دو برسوںسے ٹنڈرس کے ذریعہ کپڑوں کی سربراہی کا کام الاٹ کیا جارہا ہے ، تاہم کپڑوں کے معیار کے بارے میں مختلف شکایات کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ اسٹیٹ ہینڈلوم ویورس کوآپریٹیو سوسائٹی (TSCO) کے ذریعہ کپڑے حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے سرکاری ادارہ کے ذمہ داروں کو چیف منسٹر کی اس ہدایت سے واقف کرایا اور آئندہ سال سے رمضان پیکیج کے کپڑے سربراہ کرنے کی خواہش کی۔ ٹی ایس سی او نے محکمہ اقلیتی بہبود سے خواہش کی کہ کپڑوں کی سربراہی کے سلسلہ میں کم از کم 4 ماہ قبل آرڈر دیا جائے تاکہ مقررہ وقت پر معیاری کپڑے سربراہ کئے جا سکے ۔ رمضان پیکیج کے تحت غریب مسلم خاندانوں کو ایک ساڑی ، شرٹ شلوار اور کرتا پائجامہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔ گزشتہ سال اور جاریہ سال بھی کپڑوں کے معیار کے بارے میں کئی شکایات ملی ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ تقسیم کئے گئے کپڑے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ تاہم فی پیاکٹ 380 روپئے کا ٹنڈر منظور کیا گیا اور اس رقم میں کوئی بھی کمپنی تین معیاری جوڑے سربراہ کرنے کے موقف میں نہیں ہوسکتی۔ گزشتہ سال اور جاریہ سال کی شکایات کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے سرکاری ادارہ کے ذریعہ کپڑے حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ جاریہ سال رمضان گفٹ کے تحت 40 لاکھ سے زائد پیاکٹس کی تقسیم مکمل ہوچکی ہے ۔ تاہم حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی مساجد کے 8000 پیاکٹس ابھی تقسیم کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 50,000 پیاکٹس کا اضافی آرڈر دیا گیا تھا جس میں سے یہ پیاکٹس بچے ہوئے ہیں۔ شہر کے بعض کارپوریٹرس نے اپنے ڈیویژن کے تحت مساجد کے نام داخل نہیں کئے جس کے باعث محکمہ اقلیتی بہبود نے مقامی افراد کی مدد سے پیاکٹ کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 26 کارپوریٹرس نے مساجد کے نام پیش نہیں کئے تھے۔ عمر جلیل کے مطابق مقامی افراد کی مدد سے بچ جانے والے بلدی ڈیویژنس کی مساجد کا انتخاب کیاجائے گا ۔ اس کے علاوہ مزید بچ جانے والے گفٹ پیاکٹس اقامتی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے والدین میں تقسیم کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے گفٹ پیاکٹس بھی وقف بورڈ میں محفوظ ہیں۔ انہوں نے وقف بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ ان پیاکٹس کا جائزہ لیتے ہوئے کپڑوں کے بہتر حالات میں ہونے کی صورت میں غریب ملازمین میں تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کپڑوں کے معیار کے بارے میں مختلف شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تین مراحل میں کپڑوں کے معیار کی جانچ کی جارہی تھی۔ پیاکنگ کے مقامات پر پولیس عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تعینات کی گئی تھی ، اس کے علاوہ محکمہ ٹیکسٹائیلز کے عہدیداروں پر مشتمل ٹکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ فلائینگ اسکواڈ کے ذریعہ بھی کپڑوں کی منتقلی پر نظر رکھی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کرتا اور پائجامہ تقسیم کرنے کیلئے جملہ 23 لاکھ میٹر کپڑا سورت سے حاصل کیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT