Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / آئندہ 3 برس میں تلنگانہ فاضل برقی والی ریاست بن جائے گی

آئندہ 3 برس میں تلنگانہ فاضل برقی والی ریاست بن جائے گی

اقلیتوں کی ترقی کیلئے حکومت کے موثر اقدامات ۔ کمیشن آف انکوائری نے تحفظات کی سفارش پیش کردی ۔ گورنر کا تلنگانہ مقننہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

٭     محکمہ برقی میں آوٹ سورسنگ اور کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کا منصوبہ
٭     انفارمیشن ٹکنالوجی شعبہ میں آمدنی کے لحاظ سے حیدرآباد کو ملک میں دوسرا مقام
٭     ہزاروں افراد کو روزگار کی فراہمی کا ادعا ۔ کانگریس نے گورنر کے خطبہ کا بائیکاٹ کیا

حیدرآباد /10 مارچ ( سیاست نیوز ) گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اقلیتوں کی ترقی و بہبود کیلئے بڑے پیمانے  پر اقدامات کر رہی ہے ۔ کمیشن آف انکوئری نے مسلمانوں کے تحفظات کیلئے سفارشات پیش کردی ہے ۔ جاریہ سال کے اواخر تک 4130 میگاواٹ برقی پیداوار میں اضافہ ہوگا ۔ آئندہ تین سال میں برقی خسارہ پر مکمل کنٹرول کرتے ہوئے تلنگانہ کو فاضل برقی والی ریاست میں تبدیل کردیا جائے گا ۔ ٹی ایس آئی پاس کے ذریعہ ریاست میں صنعتی ترقی کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔ جس میں ریاست میں 54 ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری سے 3451 صنعتیں قائم ہوئی ہیں ۔  2.20 لاکھ افراد کو روزگار ملا ہے ۔ ریاست میں 36 لاکھ افراد کو وظیفے فراہم کئے جارہے ہیں ۔ تاحال 27481 سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں ہیں ۔ 17 ہزار کروڑ روپئے کے زرعی قرض معاف کردئے گئے ۔ بدعنوانیوں کا خاتمہ کرنے اور رشوت سے پاک نظم و نسق کی فراہمی میں حکومت موثر رول ادا کر رہی ہے ۔ جس سے جمہوری نظام و اقدار پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ کانگریس نے گورنر کے خطبہ سے واک اوٹ کردیا ۔ گورنر تلنگانہ ای ایس ایل نرسمہن نے آج اسمبلی میں تلنگانہ مقننہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اقلیتوں کی ترقی و بہبود کیلئے متعدد پروگرامس مثلاً قبل میٹرک و مابعد میٹرک اسکالرشپس ، فیس بازادائیگی ۔ بیرون ممالک اعلی تعلیم حاصل کرنے اوورسیز اسکالرشپس پر عمل کر رہی ہے ۔ مسلمانوں کی سماجی تعلیمی و معاشی صورتحال کا جائزہ لینے ایک کمیشن آف انکوائری تشکیل دی گئی تھی ۔ کمیشن نے پالیسی اقدامات اور ساتھ ہی مسلمانوں کو تحفظات کیلئے سفارشات پیش کردی ہیں ۔ ایک لاکھ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے تحت تاحال مختلف محکمہ جات میں 5936 جایئدادوں پر تقررات کئے گئے ۔ سنگارینی کالریز میں 4500 برقی شعبہ میں 2681 آر ٹی سی میں 3950 محکمہ پولیس میں 10422 جائیددادوں تلنگانہ کے قیام کے بعد جملہ 27471 جائیدادوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کیا جائے گا ۔ برقی شعبہ میں 24 ہزار آوٹ سورسنگ ملازمین کے علاوہ 20 ہزار کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا حکومت ارادہ رکھتی ہے ۔ نئے قائم ہونے والے ریزیڈنشیل اسکولس میں 24 ہزار جائیدادوں کو منظور کرنے پر سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔ جن میں جاریہ سال 8000 آئندہ دو سال کے دوران مابقی 16 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ حکومت بڑے پیمانے پر ٹیچرس کا تقرر کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے ۔  ان تمام عہدوں پر ایک مقررہ مدت کے ایکشن پلان کے ذریعہ تقررات کرتے ہوئے ایک لاکھ افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدے کو پورا کیا جائے گا ۔ تلنگانہ حکومت نے گذشتہ 33 ماہ کے دوران مختلف شعبوں کی ترقی کیلئے جو اقدامات کئے ہیں اس کے نتائج سامنے ہیں ۔ بلاوقفہ برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ نئی ریاست کیلئے یہ بہت بڑا چیالنج تھا ۔ برقی کے شعبہ میں تشکیل ریاست سے ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے اور اس شعبہ کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ ختم ہوا ہے۔ ریاست کی تشکیل کے اندرون 6 ماہ حکومت کی بہتر منصوبہ بندی اور ٹھوس اقدامات برقی بحران پر قابوپانے میں کارآمد ثابت ہوئے ہیں ۔ برقی کٹوتی اب قصہ پارینہ بن چکی ہے ۔ گذشتہ ماہ برقی کی طلب اگرچہ کہ 9000 میگا واٹ کی اعلی ترین سطح تک پہونچ گئی تھی تاہم حکومت نے بلاوقفہ برقی کی سربراہی کو یقینی بنایا ۔ یہ قابل ستائش اقدام ہے ۔ آئندہ موسم گرما کے دوران 9500 میگاواٹ یا 10 ہزار میگاواٹ برقی کی طلب کا امکان ہے ۔ حکومت اتنی مقدار میں بلاخلل برقی سربراہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔ ریاست کی تشکیل کے وقت تنصیب شدہ پیداواری صلاحیت 6574 میگاواٹ تھی ۔ گذشتہ ڈھائی سال کے دوران 4190 میگاواٹ کی اضافی پیداوار صلاحیت تخلیق کی ہے ۔ جاریہ سال کے اختتام تک مزید 4130 میگاواٹ برقی پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا ۔ آئندہ تین سال کے اختتام تک برقی کی جملہ دستیابی 12306 میگاواٹ ہوگی ۔ تلنگانہ نئی ریاست ہونے کے باوجود کاروبار کو آسان بنانے میں سارے ملک میں سرفہرست مقام حاصل  ہوا ہے ۔ حکومت نے قانون ٹی ایس آئی پاس وضع کیا جس سے سرمایہ کاری کے معاملے میں نیا انقلاب امڈ پڑا ہے ۔ ریاست میں 54 ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے ۔ 3451 صنعتیں قائم ہوئی 2.20 لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوئے ہیں ۔ خدمات کا شعبہ حالیہ دہائیوں میں ریاست کی معیشت کا ترقی کا اہم وسیلہ بن گیا ۔          ( باقی سلسلہ صفحہ 8 پر )

TOPPOPULARRECENT