Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / آئی آر ایف عاجلانہ امتناع کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع

آئی آر ایف عاجلانہ امتناع کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع

Mumbai: National Investigation Agency (NIA) team and Mumbai Police raids the Islamic Research Foundation office headed by Zakir Naik at Dongri in Mumbai on Saturday. PTI Photo(PTI11_19_2016_000195A)

تنظیم اور مرکز کے دلائل کی جزوی سماعت ۔ عاجلانہ پابندی کا ریکارڈ 17 جنوری کو پیش کیا جائے : عدالت

نئی دہلی ۔ 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مبلغ اسلام ذاکر نائک کے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن (آئی آر ایف) نے آج دہلی ہائیکورٹ میں مرکز کے اس فیصلہ کے جواز کو چیلنج کیا جس کے ذریعہ اس تنظیم پر فوری امتناع عائد کردیا گیا، اور دعویٰ کیا کہ قانون انسداد غیرقانونی سرگرمیوں کے تحت اس طرح کی کارروائی کرنے کی کوئی وجوہات نہیں بتائی گئی۔ جسٹس سنجیو سچدیو جن کے روبرو اس معاملہ کو رکھا گیا، انہوں نے تنظیم اور مرکز کی طرف سے دلائل کی جزوی سماعت کی اور حکومت کو 17 جنوری کو متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی تاکہ عدالت یہ دیکھ سکے کہ آیا آئی آر ایف پر ہنگامی امتناع عائد کرنے کا کوئی ٹھوس مواد موجود ہے یا نہیں۔ آئی آر ایف نے اپنی عرضی میں 17 نومبر 2016ء کو وزارت امور داخلہ کے جاری کردہ اعلامیہ کے جواز کو چیلنج کیا ہے جس نے اس تنظیم پر یو اے پی اے کے تحت فوری اثر کے ساتھ امتناع لاگو کردیا تھا۔ آئی آر ایف کے مطابق اس اعلامیہ میں اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور سپریم کورٹ کے طئے کردہ قانون کی ضرورت کے مطابق اس طرح کے اقدام کیلئے کوئی ٹھوس مواد کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا۔ آئی آر ایف نے کہا کہ انہیں کوئی وجہ بتاؤ نوٹس جاری کئے بغیر فوری امتناع لاگو کردیا گیا۔ مرکز کے اعلامیہ کے مطابق جسے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل (اے ایس جی) سنجے جین نے عدالت میں پڑھ کر سنایا، اس طرح کا ہنگامی اقدام کرنے کی ضرورت اس اندیشہ کے تناظر میں محسوس کی گئی کہ ہندوستانی نوجوان آئی آر ایف اور اس کے ارکان بشمول اس کے صدر ذاکر نائک کے مبینہ بیانات اور تقاریر سے متاثر ہوکر کٹر پسندی کی طرف راغب ہوسکتے ہیں اور دہشت گرد گروپوں جیسے آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کا اندیشہ ہے جو عالمی تشویش کا سبب ہے۔ اس عرضی کی قبولیت کی مخالفت کرتے ہوئے اے ایس جی نے کہاکہ حکومت نے نہیں چاہا کہ کوئی سانحہ پیش آئے اور ایسا فیصلہ کرنے سے قبل کسی ناخوشگوار واقعہ کے وقوع کا انتظار کیا جائے۔ انہوں نے دلیل پیش کی کہ اعلامیہ میں ذکر ہیکہ ذاکرنائک ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے نہ صرف اسامہ بن لادن کی مبینہ پذیرائی ہوئی بلکہ دہشت گردی کی تائید و حمایت بھی ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اعلامیہ کے مطابق ذاکر نائیک پر ایسے بیانات دینے کا الزام بھی ہے جو دیگر مذاہب کی تضحیک کرتے ہیں اور اس طرح فرقہ وارانہ عدم ہم آہنگی پھیلانے کے مؤجب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی پولیس نے پہلے ہی آئی آر ایف کے 6 دیگر ارکان کے خلاف ایف آئی آر درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ کیرالا کے ایک نوجوان کے والد کی شکایت پر درج ہوا، جو آئی ایس آئی ایس میں شامل ہوگیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT