Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / آئی ایس آئی ایس کے 6مشتبہ کارکنوں کی درخواست ضمانت مسترد

آئی ایس آئی ایس کے 6مشتبہ کارکنوں کی درخواست ضمانت مسترد

قانون انسداد منظم جرائم کے تحت گرفتار 2نوجوانوں کی باعزت رہائی
نئی دہلی۔/8جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک خصوصی عدالت نے آج ملک کے مختلف مقامات سے گرفتار آئی ایس آئی ایس کے مشتبہ 6 کارندوں ( آپریٹیوس ) کی ضمانت منظور کرنے سے انکار کردیا جن کے خلاف ممنوعہ تنظیم کے نظریات اور سرگرمیوں کو فروع دینے اور نوجوانوں کو رجھانے کا الزام ہے ۔ بند کمرہ کی عدالت میں سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ جج امرناتھ نے ملزمین محمد عظیم، محمد اسامہ، عقیل الرحمن، معراج، محسن ابراہیم سعیداورمدبر شیخ کو راحت فراہم کرنے سے انکار کردیا اور ان کی عدالتی تحویل میں مزید توسیع کردی ۔ دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے آئی ایس آئی ایس سے تعلقات کے الزام میں انہیں گرفتار کیا ہے ۔ بعد ازاں مرکزی وزارت داخلہ نے اس کیس کو نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی ( این آئی اے ) کو منتقل کردیا۔ ان ملزمین کو ملک کے مختلف شہروں بشمول بنگلور، حیدرآباد، ممبئی اور اورنگ آباد سے اٹھالیا گیا تھا۔ ملزمین کے وکیل ایم ایس خان نے درخواست سماعت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے تفتیش کیلئے 10جون تا 8 جولائی حراست میں رکھنے کی اجازت دی تھی جو کہ آج ختم ہوگئی چونکہ استغاثہ نے چارج شیٹ داخل کی ہے اور نہ ہی تفتیش کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔ لہذا ملزمین، ضمانت پر رہائی کا استحقاق رکھتے ہیں۔

تاہم این آئی اے نے وکیل دفاع کے استدلال کی مخالفت کی اور بتایا کہ تحقیقات کی مدت میں پہلے ہی توسیع کردی گئی تھی۔ قبل ازیں قومی تفتیشی ادارہ ( این آئی اے ) یہ عذر پیش کرتے ہوئے ملزمین کو تحویل میں لے لیا تھا کہ ملک میں آئی ایس آئی ایس کی گہری سازش کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے۔ دہلی پولیس کی تحویل میں تفتیش کے دوران عدالت کو مطلع کیا گیا تھا کہ ملزمین نے بعض مشتبہ نام، کوڈ ورڈس ( خفیہ الفاظ ) اور موبائیل نمبر کا انکشاف کیا ہے جن کا ممنوعہ تنظیم سے ربط ضبط ہے۔ دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے ماہ جنوری میں ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کیا تھا دریں اثناء دہلی کی ایک عدالت نے 2افراد کو منسوبہ الزامات سے بری کردیا۔ جن کے خلاف مہاراشٹرا کے قانون انسداد منظم جرائم ( مکوکا ) کے تحت کیس دائر کیا گیا تھا جبکہ استغاثہ یہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا۔ عدالت نے وسطی دہلی کے مکین محمد شہاب اور محمد واصی کو باعزت رہا کرتے ہوئے کہا کہ پیش کردہ ثبوتوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دونوں ملزمین نے اگرچیکہ سرقہ کی واردات انجام دی ہیں لیکن مالی فوائدکیلئے کوئی تشدد سے کام نہیں لیا لہذا ان کے خلاف منظم جرائم کا کیس نہیں بن سکتا۔

فوجی جوان کی خود کشی سے قبل حوالدار پر فائرنگ
سرینگر ۔ 8 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : کشمیر کے ضلع گندیرابل میں فائرنگ کے تبادلہ کے دوران ایک فوجی جوان ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع گندیرابل کے صفاپور میں فائرنگ سے ایک جوان ہلاک دوسرا زخمی ہوگیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کا پتہ چلانے کے لیے ’ کورٹ آف انکوائری ‘ کا حکم دیدیا گیا ہے ۔ مہلوک کی بحیثیت سپاہی بی وینکٹیا اور زخمی کی حوالدار منوہر سنگھ کی حیثیت سے شناخت کرلی گئی ہے ۔ تاہم دفاعی ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ آپسی چپقلش کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے ۔ جس میں جوان نے خود کشی سے قبل اپنے ایک ساتھی پر فائرنگ کردی۔

TOPPOPULARRECENT