Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / آئی ایس آئی کو راز کی فراہمی کا کیس : ملزم فریدخان کو ضمانت نہیں

آئی ایس آئی کو راز کی فراہمی کا کیس : ملزم فریدخان کو ضمانت نہیں

نئی دہلی ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے پاکستان کے آئی ایس آئی کارندوں کو حساس نوعیت کی دستاویزات مبینہ طور پر سربراہ کرنے کی پاداش میں گرفتار پانچ ملزمین میں سے ایک کو ضمانت عطا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔ جسٹس پی ایس تیجی نے ملزم فریدخان کو جو فوجی حوالدار ہے، اس مرحلہ پر راحت دینے سے انکار کیا۔ سمجھا جاتا ہیکہ فریدخان نے خفیہ نوعیت کی معلومات کا دیگر شریک ملزمین کے ساتھ تبادلہ کیا جو مالی فوائد کیلئے پاکستان میں موجود انٹلیجنس کارندوں کو یہ معلومات فراہم کیا کرتے تھے۔ عدالت نے کہا کہ حقائق اور حالات کی روشنی میں یہ عدالت کی رائے ہیکہ درخواست گذار کے خلاف الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں، وہ دیگر شریک ملزمین کے ساتھ پاکستانی انٹلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کو ہندوستانی قومی سلامتی سے متعلق معلومات بہم پہنچانے میں ملوث ہے۔ اس قسم کے معاملوں میں جہاں درخواست گذار کے رول کا اصل ملزم یا ملزمین انکشاف کرتے ہیں اور درخواست گذار کے قبضہ سے دستاویزات درآمد ہوتے ہیں، عدالت اسے راحت نہیں دے سکتی کیونکہ ضمانت ملنے کے بعد آزادی کا غلط استعمال ہوسکتا ہے اور ثبوت مٹانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ مخالف قوم دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ملزم کو راحت کی توقع نہیں رکھنا چاہئے۔ عدالت نے کیس کی محتاط تنقیح اور عرضی اور ایف آئی آر کے مشتملات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ درخواست گذار کا نام اصل ملزم کیفیت اللہ خان نے بتایا ہے، جو آئی ایس آئی ایجنٹ ہے۔ پاکستان کی انٹر سرویسیس انٹلیجنس (آئی ایس آئی) کے کارندے کو خفیہ ہندوستانی دستاویزات کی مبینہ سربراہی کے سلسلہ میں تمام 5 ملزمین گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ کیفیت اللہ گرفتار کیا جانے والا پہلا شخص رہا جسے گذشتہ سال 26 نومبر کو یہاں سے حراست میں لیا گیا جبکہ وہ بھوپال جانے کی کوشش کررہا تھا تاکہ وہاں مذہبی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے مزید جاسوسوں کی مبینہ طور پر بھرتی کرسکے۔ اس کارروائی کے بعد اس وقت کے برسرخدمت بی ایس ایف ہیڈ کانسٹیبل عبدالرشید، سابق فوجی حوالدار منور احمد میر اور سرکاری اسکول ٹیچر صابر کو گرفتار کیا گیا جو تمام موجودہ طور پر عدالتی تحویل میں ہیں۔ ان تمام کو قانون سرکاری راز کے تحت ملزم بنایا گیا ہے۔ عدالت میں بحث کے دوران فرید نے دعویٰ کیا تھا کہ جموں و کشمیر حکومت میں کرائم برانچ کے حکام کو دانستہ ہدایت دی کہ اسے زدوکوب کیا جائے اور یہ الزام بھی لگایا کہ پولیس نے اس کے گھر سے برآمد اشیاء کے تعلق سے جھوٹ کہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT