Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / آئی بی ایم کمپنی پر نوکریاں ہندوستان و دیگر ملکوں کو منتقل کرنیکا الزام

آئی بی ایم کمپنی پر نوکریاں ہندوستان و دیگر ملکوں کو منتقل کرنیکا الزام

ٹرمپ نظم ونسق ایسی کمپنیوں پر 35 فیصد ٹیکس عائد کرے گا، ریپبلکن صدارتی امیدوار کی انتخابی تقریر

واشنگٹن ۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ریپبلکن صدارتی نامزد امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے آج بڑی امریکی کمپنی آئی بی ایم کو موردالزام ٹھہرایا کہ اس نے منیا پولیس میں 500 ورکرس کی نوکری برخاست کرتے ہوئے وہ نوکریاں ہندوستان اور دیگر ممالک کو منتقل کردیئے۔ اس دعویٰ کے ساتھ ریپبلکن امیدوار نے متنبہ کیا کہ اگر وہ منتخب ہوجاتے ہیں تو اس طرح کا اقدام کرنے والی کمپنیوں پر 35 فیصد ٹیکس عائد کریں گے۔ ٹرمپ گذشتہ روز منیاپولیس میں تقریر کررہے تھے۔ انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط گڑھ میں ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئی بی ایم نے منیاپولیس میں 500 ورکرس کو جاب سے ہٹا دیا اور ان کی نوکریاں ہندوستان کے ساتھ ساتھ دیگر ملکوں کو منتقل کردیئے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ ٹرمپ نظم و نسق نوکریاں امریکہ سے باہر منتقل کئے جانے کا رجحان روک دے گا اور اس کے ساتھ منیسوٹا کی نوکریوں کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کمپنی منیسوٹا چھوڑنا چاہتی ہے، اپنے ورکرس کو برخاست کرنا چاہتی ہے اور دیگر ملک کو منتقل ہوکر وہاں سے اپنی  اشیاء واپس امریکہ میں لانا چاہتی ہے، تو ہم ایسی کمپنی پر 35 فیصد ٹیکس عائد کریں گے۔ ہم امریکی وسائل توانائی بشمول شیل آئیل، قدرتی گیس اور صاف ستھرا کوئلہ کا بھی تحفظ کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایسے تمام مضرت رساں قواعد کو منسوخ کردیں گے جو اوباما نظم و نسق نے لاگو کئے، جن سے منیسوٹا کے کسانوں، ورکرس اور چھوٹے تاجروں کا  نقصان ہورہا ہے۔ ’’ہم پھر ایک بار متمول قوم بن جائیں گے، لیکن اس کیلئے ہمیں محفوظ اور سلامتی والی قوم بھی بننا ہوگا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ڈیموکریٹک صدارتی نامزد امیدوارہ ہلاری کلنٹن شامی پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلہ میں 550 فیصد اضافہ کردینا چاہتی ہیں، وہ عملاً غیرمحدود ایمیگریشن کی خواہاں ہیں اور دنیا کے نہایت خطرناک خطوں سے پناہ گزینوں کو ملک میں لانا چاہتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے دہشت گردی، انتہاء پسندی کی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا اور آپ کے (امریکیوں کے) اسکولس اور محلوں میں کٹر پسندی بڑھے گی۔ ’’اگر میں صدر منتخب ہوجاتا ہوں تو ہم سیرین رفیوجی پروگرام کو معطل کردیں گے اور مسلم دہشت گردوں کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرتے رہیں گے‘‘۔ ٹرمپ نے خصوصیت سے منی سوٹا کے مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے علاقہ میں بڑی تعداد صومالی پناہ گزینوں کے بس جانے سے نت نئے مسائل پیدا ہورہے  ہیں، ان میں سے بعض یا تو آئی ایس آئی ایس کی تائید کرتے ہیں یا اس میں عملاً شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح ان کے انتہاء پسند افکار کو پھیلانے کا خود ہم بالواسطہ سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے ادعا کیا کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کسی بھی علاقہ میں مقامی کمیونٹی کی تائید کے بغیر کوئی بھی پناہ گزینوں کو داخلہ کی اجازت نہیں دے گا۔ ٹرمپ نظم و نسق امریکہ کی سرحدوں کی حفاظت اوران کا دفاع بھی مستعدی سے کرتا رہے گا ۔ ٹرمپ نے اپنے اس ارادہ کو دہرایا کہ وہ میکسیکو کی سرحد کے پاس دیوار کی تعمیر کرائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT