Monday , September 25 2017
Home / کھیل کی خبریں / آئی سی سی کا فکسنگ کے ثبوت اکٹھا کرنے کا غیرپیشہ ورانہ طریقہ : مک کلم

آئی سی سی کا فکسنگ کے ثبوت اکٹھا کرنے کا غیرپیشہ ورانہ طریقہ : مک کلم

لارڈز ، 7 جون (سیاست ڈاٹ کام) نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان برینڈن مک کلم نے آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ (اے سی یو) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرس کینز کے حوالے سے اُن کے بیان سے غیرپیشہ ورانہ انداز میں نمٹا گیا۔ ’ڈیلی ٹیلیگراف‘ کی رپورٹ کے مطابق مک کلم لارڈز میں ایم سی سی کے سالانہ ’’کاؤرڈی لیکچر‘‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ برینڈن نے کہا: ’’میں نے پہلے کبھی کینز کی جانب سے کی گئی پیشکش سے واقف نہیں کرایا تھا کیونکہ میں خوفزدہ تھا اور میں اس حوالے سے تذبذب کا شکار تھا لیکن ایک ناخوشگوار انداز میں اس طرف جانا پڑا‘‘۔ نیوزی لینڈ کے سابق کپتان نے ورلڈ کپ 2011ء کے دوران آئی سی سی کے تفتیش کار جان روڈز کو کینز کی پیشکش کی تفصیلات بتائی تھیں۔ آئی سی سی کے تفتیش کار کے غیر پیشہ ورانہ طریقے پر کیوی اسٹار نے کہا کہ ’’روڈز نے ہماری گفتگو ریکارڈ نہیں کی، صرف لکھتے رہے اور کہا کہ جو کچھ انھوں نے بتایا ہے اس کا جائزہ لیا جائے گا لیکن ممکنہ طورپر یہ سردخانے کی نذر ہوا ہوگا۔ میں ثبوت کو جمع کرنے کیلئے اپنائے جانے والے غیر پیشہ ورانہ طرز عمل پر بہت حیران تھا، مجھے کسی چیز کو بیان کرنے کیلئے نہیں کہا گیا اور میں نے ایک بیان پر دستخط کردیئے جو بنیادی طورپر ایک سرسری جائزے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا‘‘۔ کرس کینز کو گزشتہ سال نومبر میں آئی پی ایل کے سابق سربراہ للت مودی کے دائر کردہ فکسنگ کے مقدمے میں ایک عدالت نے بری کردیا تھا۔ مک کلم نے کہا کہ ’’یہاں (کرکٹ کے مرکز) میں کھڑے ہوکر میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ جو ثبوت میں نے عدالت کو دیئے تھے اس پر آج بھی قائم ہوں‘‘۔ انھوں نے کہا: ’’میرے خیال میں کھلاڑی آئی سی سی کی جانب سے بہتری کی توقع رکھتے ہیں اور مستقبل میں ثبوت اکھٹا کرنے کے کام کو زیادہ پیشہ ورانہ طریقے سے کیا جائے۔‘‘ مک کلم نے کہا کہ لو وِنسنٹ نے بھی کرس کینز کے خلاف ثبوت دیئے تھے لیکن ان کی جانب سے کاؤنٹی کرکٹ میں میچ فکسنگ کے اعتراف پر 2014ء میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی جانب سے تاحیات پابندی عائد کی گئی جس پر مستقبل میں نرمی برتنے کو کہا۔

TOPPOPULARRECENT