Thursday , July 20 2017
Home / مضامین / آبادی میں اضافہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینا

آبادی میں اضافہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینا

آبادیاتی ڈاٹا کو سمجھنا ضروری

رام پنیانی

فرقہ پرست طاقتوں نے سماج کو تقسیم کرنے کیلئے تبدیلی مذہب اورآبادی میں اضافہ کے تعلق سے تعصب اور غلط فہمیوں کا استعمال کیا ہے ۔ یہ بات اسی وقت واضح ہوگئی جب مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ کرن رجیجو نے ٹوئیٹ کیا کہ ملک میں ہندووں کی آبادی میں کمی ہو رہی ہے کیونکہ ہندووں میں مذہب تبدیل نہیں ہوتا اور ہندوستان میں اقلیتی آبادی اپنے پڑوسی ممالک کی بہ نسبت زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہندووں کی آبادی میں کمی اور اقلیتوں کی آبادی میں اضافہ کے خطرہ کا وقفہ وقفہ سے پروپگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ 2011 کی مرسم شماری کے اعداد و شمار کے بموجب ملک میں ہندووں کی آبادی کا تناسب 79.8 فیصد اور مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 14.23 فیصد ہے ۔ مردم شماری کے مذہبی برادریوں کی آبادی سے متعلق ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ 2001 سے 2011 کے درمیان ہندووں کی آبادی میں 16.76 فیصد سے اضافہ ہوا جبکہ مسلمانوں کی آبادی میں 24.6 فیصد سے اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے سابقہ دہے میں دونوں ہی برادریوں کی آبادی میں زیادہ شرح سے اضافہ ہوا تھا ۔ اس دہے میں ہندووں کی آبادی میں 19.92 فیصد سے اور مسلمانوں کی آبادی میں 29.52 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا تھا ۔ ماہرین آبادیات کے بموجب ایک طویل مدتی رجحان کے مطابق برادریوں کے مابین آبادی میں اضافہ کا تناسب ایک دوسرے سے میل کھاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہی برادریوں کے مابین ایک دہے کا تناسب ایک دوسرے سے قریب ہوتا جا رہا ہے ۔
اس حقیقت کی سمت یہ اشارہ بھی ہے کہ مستقبل کے اندازوں کا تعین کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں کمی آئے گی اور ان کی آبادی میں اضافہ کا تناسب بھی ہندووں کی آبادی میں اضافہ کے تناسب کے آس پاس ہوجائیگا ۔ بحیثیت مجموعی مسلمان آبادی آئندہ وقتوں میں بھی اس ملک میں مذہبی اقلیت ہی رہے گی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2001 سے 2011 کے دہے میں ہندووں کی آبادی میں اضافہ 133 ملین کا رہا ہے جو 2001 میں ملک میں مسلمانوں کی جملہ آبادی کے قریب ہے ۔ زبانی مہم کے ذریعہ اور سوشیل میڈیا کے توسط سے یہ اندیشے پھیلائے جا رہے ہیںکہ ملک میں مسلمانوں کی آبادی ‘ ہندووں کی آبادی پر سبقت لے جائیگی ۔ اس مہم میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ ایک دہے کے دوران مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کی شرح میں بھی گراوٹ کے واضح رجحانات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ماہرین آبادیات کا کہنا ہے کہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کی اضافی شرح در اصل تعلیم کی کمی اور ناقص نگہداشت صحت سہولیات کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔ کیرالا میں مسلمانوں میںاولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کی شرح شمالی ہندوستان اور خود کیرالا کے ہندووں سے بھی کم پائی گئی ہے ۔ کیرالا کے مسلمانوں کا معاشی منظر نامہ آسام ‘ مغربی بنگال ‘ اتر پردیش اور مہاراشٹرا کے مسلمانوں سے یکسر مختلف ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ہم اس نکتہ کو واضح کریں تو دیکھیں گے کہ دلتوں ( درج فہرست ذاتوں ) اور آدی واسیوں ( درج فہرست قبائل ) میں آبادی میں اضافہ کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے بموجب درج فہرست قبائل کی آبادی 8.6 فیصد ہے جبکہ 1951 کی مردم شماری میں ان کی تعداد 6.23 فیصد تھی ۔ اسی طرح درج فہرست ذاتوں کی آبادی کا تناسب 16.6 فیصد ہے جبکہ 1951 میں یہ لوگ 15 فیصد تھے ۔
اس سے یہ ساری سچائی سامنے آجاتی ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے جو پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے جس کا سماج کی حقیقت اور اس کے کاز سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اسی پس منظر میں پروین توگاڑیہ نے یہ کہا تھا کہ ملک میں دو بچوں کا لزوم عائد کیا جانا چاہئے جبکہ ساکشی مہاراج اور سادھوی پراچی جیسے لوگ ہندووں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے صدر نے شمال مشرق کی سمت دیکھئے کا نعرہ دیا تھا جسکا مقصد شمال مشرق میں عیسائیوںکی آبادی کا خوف پیدا کرنا تھا ۔ یہ عموما قبائلی علاقہ ہے اور یہاں عیسائیوںکی آبادی میں 1931 سے 1951 کے درمیان اضافہ ہوا تھا ۔ عیسائیوں کی آبادی میں اضافہ کا آزادی کے ساتھ سیول انتظامیہ میں توسیع اور علاقہ میں تعلیم کی حالت بہتر ہونے سے گہرا تعلق ہے ۔ ملک بھر میں ہم دیکھ سکتے ہیںکہ عیسائیوں کی آبادی گذشتہ کچھ دہوں میں تقریبا وہی رہی ہے ۔ اگر کچھ تبدیلی آئی ہے تو اس میں معمولی کمی آئی ہے اور یہ اب ایک شرح پر برقرار ہے ۔ اگر ہم 1971 سے جائزہ لیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عیسائیوں کی آبادی 2.60 فیصد 1971 میں تھی ۔ 1981 میں یہ تناسب 2.44 فیصد ہوگیا ۔ 1991 میں یہ تناسب 2.34 فیصد ہوگیا ۔ 2001 میں یہ 2.30 فیصد ہوگیا اور 2011 میں یہ فیصد 2.30 پر برقرار رہا ۔ اس دوران تاہم مشنریز کی سرگرمیوں میںاضافہ کا پروپگنڈہ ہی چھایا رہا ۔ مخالف عیسائی تشدد اس وقت منظر عام پر آگیا جب گراہم اسٹیورٹس اسٹینس کا 1999 میں بہیمانہ قتل کردیا گیا ۔ بجرنگ دل کیدارا سنگھ نے جو آر ایس ایس سے ملحقہ تنظیم ہے مقامی عوام کو اکسایا تھا کہ گراہم اسٹینش تبدیلی مذہب کو فروغ دے رہے ہیں جو ہندووں کے خلاف ہے ۔ گراہم اسٹینس کیقتل کی تحقیقات کرنے والے وادھوا کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسٹینس کیونجھار ‘ منوہر پور ( اوڈیشہ ) میں تبدیلی مذہب کی سرگرمیوں میں ملوث نہیںتھے ۔ جس علاقہ میں وہ کام کرتے تھے وہاں عیسائیوں کی آبادی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔ اسی طرح کندھامل میں مخالف عیسائی تشدد سوامی لکشمانند کے قتل کے عذر کے ساتھ برپا کیا گیا ۔ گجرات میں بھی مخالف عیسائی سرگرمیاں بڑھ گئیں کیونکہ یہ پروپگنڈہ کیا جا رہا تھا کہ مشنریز کی جانب سے تبدیلی مذہب کیا جا رہا ہے ۔ ساتھ ہی ہم دیکھتے ہیںکہ عیسائیوں کی آبادی ایک ہی تناسب پر برقرار رہتی ہے ۔ کچھ لوگ الزام عائد کرتے ہیں کہ عیسائیوں میں تبدیلی مذہب ہو رہا ہے لیکن مذہب تبدیل کرنے والے اپنا مذہب چھپاتے ہیں۔ یہ بھی صرف قیاس کا مسئلہ ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہے بھی تو ان کی تعداد زیادہ نہیں ہوسکتی ۔
یہ سب کچھ وقفہ وقفہ سے ہندو نیشنل ازم کے ایجنڈہ کا حصہ رہا ہے ۔ جدوجہد آزادی کے دوران تبدیلی مذہب کے دو متوازی طریقے چل رہے تھے ۔ ایک تھی تنظیم جو لوگوں کو اسلام میں داخل کر رہی تھی تو دوسرا طریقہ شدھی تحریک کا تھا جس کا مقصد ان لوگوں کو اپنے مذہب میں واپس لانے کا تھا جو مذہب ترک کرچکے ہیں۔ اس تحریک کے ذمہ داروں کا کہنا تھا کہ جو لوگ اپنے مذہب کو ترک کرچکے ہیں وہ نجس ہوچکے ہیں اور انہیں خالص بناتے ہوئے دوبارہ مذہب میں واپس لانا ضروری تھا ۔ گذشتہ کئی دہوں کے دوران آر ایس ایس۔ وی ایچ پی ون واسی کلیان آشرم گھر واپسی کی تحریک میں مصروف ہیں تاکہ ان دلتوں اور آدی واسیوں کو اپنے مذہب میں واپس لایا جائے جو زبردستی مسلمان بنادئے گئے ہیں یا پھر دھوکہ یا لالچ کے ذریعہ عیسائی بنادئے گئے ہیں۔ ان کی گھر واپسی مہم کے دوران کئی نئے نئے طریقہ اور مراسم شروع ہوگئے تھے جیسے گرم پانی سے نہلانا یا پھر آگ کے گرد کچھ مراسم تھے ۔ یہ سب کچھ آدی واسی علاقوں اور سلم اور گاووں میں عام بات ہوگئی ہے ۔ آدی واسیوں کے کچھ الگ مذہبی رسوم ہوتے ہیں جنہیں آر ایس ایس ہندو قرار دیتی ہے ۔ ان لوگوں کو دوبارہ ہندو بنانے کیلئے ون واسی کلیان آشرم سرگرم ہے اور یہ شمال مشرق میں اپنے اسکولس اور ہاسٹلس کا ایک جال بچھاتا جارہا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT