Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / آبادی میں اضافہ کیلئے مسلمان ہی ذمہ دار ، ساکشی مہاراج کی زہرافشانی

آبادی میں اضافہ کیلئے مسلمان ہی ذمہ دار ، ساکشی مہاراج کی زہرافشانی

۔4 بیویاں ، 40 بچے اور 3 طلاق ناقابل برداشت ، بی ے پی رکن پارلیمنٹ کے ریمارکس پر نیا تنازعہ ، الیکشن کمیشن کی رپورٹ طلبی، ایف آئی آر درج

میرٹھ ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے ایک لیڈر ساکشی مہاراج ملک کی آبادی میں اضافہ کیلئے بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے ایک نئے تنازعہ میں پھنس گئے ہیں ۔ ساکشی مہاراج نے گزشتہ روز یہاں سادھوؤں اور سنتوں کے ایک کنونشن (سَنت سمیلن) سے خطاب میں کہا:  ’’ملک کی آبادی کیلئے ہندو ذمہ دار نہیں ہیں ۔ ملک کی آبادی میں اضافہ کیلئے وہی ذمہ دار ہیں جن کی چار بیویاں اور 40 بچے ہیں ‘‘ ۔ یو پی کے حلقہ لوک سبھا اناؤ کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی رکن نے مزید کہا :  ’’ہم آبادی پر اگر فی الواقعی کنٹرول چاہتے ہیں تو ملک میں سخت قوانین کی ضرورت ہوگی ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ سیاست سے بالاتر ہوکر ملک کیلئے فیصلہ کریں ‘‘ ۔ ساکشی مہاراج کے ان ریمارکس کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت مذمت کی ہے اور الیکشن کمیشن نے بھی میرٹھ کے ضلع انتظامیہ سے اس بیان کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے ۔ یہ متنازعہ ریمارکس ایسے وقت منظر عام پر آئے ہیں کہ چنددن قبل ہی سپریم کورٹ نے یہ واضح کردیا تھا کہ کوئی بھی شخص مذہب یا ذات پات کے نام پر ووٹ نہیں مانگ سکتا۔ دریں اثناء ایس پی میرٹھ جے رویندر گوڑ نے کہا کہ ساکشی مہاراج کے خلاف ایف آئی آر صدر بازار پولیس اسٹیشن میں درج رجسٹر کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مقدمہ آئی پی سی مقدمات 298، 188، 295A اور 153b کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ساکشی کے ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے جے ڈی (یو) کے لیڈر کے سی تیاگی نے انہیں سیاست میں مذہب کے استعمال کے خلاف سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا ۔ تیاگی نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کے لئے حال ہی میں چند رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں ۔

جن میں مذہب ، ذات پات اور زبان کے استعمال کے خلاف انتباہ بھی شامل ہے ، جس کے بعد کسی بڑی پارٹی بی جے پی کی جانب سے یہ پہلی بڑی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس (بی جے پی) کے ایم پی نے یہ خلاف ورزی کی ہے، چنانچہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی طرف سے ساکشی مہاراج کے خلاف سخت کارروائی کرناچاہئے ‘‘ ۔ تیاگی نے مزید کہا کہ ’’وہ (بی جے پی قائدین) سماج کے ایک طبقہ کے خلاف اہانت آمیز ریمارکس کررہے ہیں ۔ ایک طبقہ کے خلاف دوسرے طبقہ کو اکسانا انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے ۔ کانگریس کے لیڈر کے سی متل نے کہا کہ ساکشی مہاراج کی تقریر اشتعال انگیز ہے کیونکہ وہ ذات پات اور مذہب پر مبنی اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے خلاف ہے ۔ متل نے کہا کہ یہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور کانگریس اس ضمن میں الیکشن کمیشن سے باضابطہ شکایت کرچکی ہے ۔ ساکشی مہاراج کے ریمارکس کے بارے میں ایک سوال پرسینئر بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے جواب دیا کہ ’’میں نے ان کا بیان نہیں دیکھا لیکن ہم سب کو ساتھ لیکر چلنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ ملک قانون اور دستور کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے ۔ یہ کسی لاٹھی سے نہیں چل سکتا ‘‘ ۔ نقوی نے مزید کہا : ’’اس قسم کے نظریات بی جے پی یا حکومت کے نہیں ہیں اور ایسے بیانات سے ہمارا کوئی سروکار نہیں ہے ‘‘ ۔ ساکشی مہاراج نے اپنے طور پر یہ وضاحت کی کہ وہ بی جے پی کی کسی تقریب سے خطاب نہیں کررہے تھے ۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ’’میں نے کہا تھا کہ ہندوستان کی آبادی تقریباً 132 کروڑ ہوگئی ہے ۔ ہندوستانی زمین کا رقبہ نہیں بڑھ رہا ہے ۔ لیکن ہماری آبادی بڑھتی جارہی ہے ہمیں اس لعنت پر قابو پانے کی ضرورت ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں خواتین کا احترام کرنا چاہئے اور میں نے کہا تھا کہ وہ (عورت) کوئی مشین نہیں ہے ۔ چنانچہ چار بیویاں ، 40 بچے اور تین طلاق قابل برداشت نہیں ہیں ۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا ہمیں ایک ، دو ، تین یا چار بچے ہونا چاہئے اور ہمیں یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ‘‘ ۔ اس کے علاوہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ ایک سنیاسی ہیں چنانچہ انہیں بچے ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ساکشی نے کہا کہ ’’جہاں تک میرا تعلق ہے ۔

ہم چار بھائی ہیں ۔ اور عمر تمام سنیاسی ہیں ۔ چنانچہ ہمیں بچے پیدا ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ ہمیں انعام دیا جانا چاہئے لیکن ہم پر تنقید کی جارہی ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا : ’’میں نے جس تقریب میں یہ سب کچھ کہا تھا وہ سنت سمیلن تھا جہاں بی جے پی یا کسی دوسری پارٹی کا کوئی ورکر نہیں تھا ۔ ہم آپس میں صرف بات چیت کررہے تھے ۔ کیا میں اپنے خاندان میں بھی کوئی بات نہیں کرسکتا ‘‘۔ رام مندر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’’ رام مندر بی جے پی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ موضوع سادھوؤں سے تعلق رکھتا ہے ۔ یہ کبھی بھی بی جے پی کا موضوع نہیں رہا اور رام مندر کے نام پر بی جے پی کبھی بھی ووٹ نہیں مانگے گی ‘‘ ۔  بی جے پی کے اس رکن پارلیمنٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گائے کی درآمدات سے ہونے والی آمدنی دہشت گردی کے لئے استعمال کی جارہی ہے ۔ اترپردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نے لکھنؤ میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے ساکشی مہاراج کے متنازعہ بیان پر میرٹھ ضلع انتظامیہ سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ میرٹھ ضلع انتظامیہ نے کہا ہے کہ اے ڈی ایم اور مجسٹریٹ اس مسئلہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کررہے ہیں ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بی چندرا کلا نے کہا کہ ’’سنت سمیلن میں کئے گئے چند تبصروں کے بارے میں ہمیں بعض اخبارات سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں ‘‘ ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT