Friday , August 18 2017
Home / مضامین / آبادی 130 کروڑ اور اولمپک میں صرف 2 میڈلس … واہ !!

آبادی 130 کروڑ اور اولمپک میں صرف 2 میڈلس … واہ !!

محمد ریاض احمد
ہندوستان کا شمار دنیا کی تیزی سے ابھرتی معیشتوں میں ہوتا ہے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی میں ہمارے ماہرین نے ساری دنیا میں ایک منفرد پہچان بنا رکھی ہے ۔ خلائی سائنس میں ہمارے سائنسدانوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑدیئے ہیں ۔ خلائی سائنس کی پانچ سرفہرست طاقتوں میں ہمارا وطن عزیز بھی شامل ہے ، چاند پر ہم نے کمند ڈالدی ہے، آبادی کے معاملہ میں بھی ہندوستان کی رفتار بہت تیز ہے ۔ ملک کی آبادی  130 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے لیکن بڑے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہیکہ اولمپکس میں ہمارا مظاہرہ ہمیشہ انتہائی بدترین رہا ہے ۔ برازیل کے ریوڈی جنیرومیں 121  اتھلیٹس پر مشتمل ہمارے جھتے نے ناکامیوں اور بدترین مظاہرہ کا نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ یہ تو اچھا ہوا کہ ہریانہ کی رسیلر ( پہلوان ) ساکشی ملک اور حیدرآباد کی پی وی سندھو نے بالترتیب برائنز اور سلور میڈلس حاصل کرتے ہوئے ہندوستان کی لاج رکھ لی ورنہ ہمارے پہلوانوں ، باکسروں ، باڈمنٹس اور ٹینس کھلاڑیوںکے علاوہ شوٹرس کے مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب کی بار ہمیں خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑے گا ۔ ہاکی میں بھی ہمارا بُرا حال رہا ۔ یہ وہی ہاکی ہے جو اولمپکس میں ہندوستان کو 8 گولڈ میڈلس دلاچکی ہے ۔ جس میں 1928 تا 1956 مسلسل 6 مرتبہ حاصل کئے گئے گولڈ میڈلس بھی شامل ہیں لیکن آج حکومت اور کارپوریٹ اداروں کی عدم سرپرستی کے نتیجہ میں ہندوستانی ہاکی کے کھیل میں بھی اپنی شناخت کھوچکا ہے ۔ حیرت اس بات پر ہیکہ مرکزی وزارت امور نوجوانان نے حال ہی میں ایک آر ٹی اے جیتا کے سوال پر ہاکی کو ہندوستان کا قومی کھیل تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا ہے ۔ بہرحال 2016 ء کے ریو ڈی جنیرو اولمپکس میں 1.3 ارب ہندوستانیوں کو امید تھی کہ ہندوستانی جتھ اس مرتبہ اپنے ہموطنوں کو مایوس نہیں کرے گا لیکن جہاں کھلاڑیوں کا انتحاب سفارش تعصب اور جانبداری کی بنیاد پر ہو وہاں معیار اور جومسابقت ہی کہاں باقی رہتا ہے ۔ ہماری 121 رکنی ’’ ٹولی ‘‘ نے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دیا جبکہ جمیکا اور کنیا جیسے غریب ملکوں کے اتھیلٹس نے اپنے غیرمعمولی مظاہروں کے ذریعہ ساری دنیا کو انگشت بدندان کردیا اس مرتبہ جمیکا نے 6 گولڈ  ، دو برانز اور ایک سلور میڈل حاصل کر کے ہندوستان جیسے ملکوں کی حکومتوں کو پیام دیا ہیکہ غریبی کسی بھی شعبہ میں آپ کو ترقی سے نہیں روک سکتی بلکہ ترقی کی سمت آپ کی پیشرفت میں مذہبی تعصب ، جانبداری ، نسل پرستی اور فرقہ پرستی رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں ۔ باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو نتائج بہتر آسکتے ہیں ۔  جمیکا جیسے چھوٹے اور غریب ملک کی جملہ آبادی 295210 نفوس  پر مشتمل ہے اور جس کا جملہ رقبہ 10991 مربع کلو میٹر پر محیط ہے اس کا ایک اتھیلٹ یوسین بولٹ اپنا 9 واں گولڈ میڈل حاصل کرتا ہے ۔ اس طرح وہ اپنے شاندار مظاہرہ کے دریعہ ساری دنیا میں اپنے ملک کا پرچم بلند کردیتا ہے  اور ہمارے پاس ملک کا نام روشن کرنے والا کوئی کھلاڑی نہیں۔ آپ کو بتادیں کہ جمیکا نے 1948 سے اولمپکس میں حصہ لینا شروع کیا اور اس نے اب تک اولمپکس میں 23 گولڈ ، 31 سلور اور 27 برانز میڈلس حاصل کئے ہیں جبکہ 130 کروڑ آبادی کے حامل ہمارے ملک کو 1900 سے 2016 تک صرف 28 میڈلس حاصل ہوئے جن میں 9 گولڈ ، 7 سلور اور 12 برانز میڈلس شامل ہیں ۔

دلچسپی کی بات یہ ہیکہ 116 سال کے عرصہ میں حاصل کردہ 9 گولڈ میڈلس میں سے 8 گولڈ میڈلس تو ہماری ہاکی ٹیم نے حاصل کئے ۔ جہاں تک ہاکی میں ہندوستانی میڈلس کا سوال ہے ہمارے ہاکی کھلاڑیوں کی محنت کے باعث ہی اسے 8  گولڈ ایک سلور اور 2 برانز میڈل حاصل ہوچکے جبکہ شوٹنگ کے مقابلوں میں اب تک ہمارے عظیم وطن کو ایک گولڈ ، دو سلور اور ایک برنز اتھلیٹکس میں 2 سلور ، ریسلنگ میں ایک سلور چار برانز، بیاڈمنٹن میں ایک سلور دو برائنز ، باکسنگ میں دو برانز ، ٹینس میں ایک برنز اور ویٹ لفیٹنگ میں ایک برانز میڈل جملہ 26 میڈلس حاصل ہوئے ہیں ۔ ریو ڈی جنیرو اولمپکس میں اگر قسمت ساتھ دیتی تو جمناسٹ دیپاکرما کر بھی ہندوستان کو میڈل دلانے میں کامیاب ہوجاتی ۔ ہندوستان کے 116  سال کے دوران حاصل کردہ میڈلس کی تعداد پر غور کیا جائے تو یہ فلائنگ فش Michailphelps کے انفرادی طور پر حاصل کردہ میڈلس سے بھی کم ہے ۔ اس امریکی پیراک نے اولمپکس میں 28میڈلس حاصل کئے ہیں جن میں 23 گولڈ میڈلس ہیں ۔ اولمپکس میں اگر دیکھا جائے تو ہندوستانی مرد کھلاڑیوں کی بہ نسبت خواتین کا مظاہرہ بہتر رہا کہ کرنم ملہشوری نے 2000 کے سڈنی اولمپکس میں 69 کلو گرام کے زمرہ میں برانز میڈل حاصل کر کے ملک کی عزت بچائی تھی اسی طرح مری کوم نے لندن اولمپکس کے باکسنگ مقابلوںو میں برانز میڈل حاصل کر کے ملک کے وقار میں اضافہ کیا ۔ لندن اولمپکس میں سائنا نہوال نے برانز میڈل حاصل کر کے ہندوستانیوں کے چہروں پر مسرت کی لہر دوڑادی تھی اب کی مرتبہ ساکشی ملک اور پی وی سندھو نے برانز اور سلور میڈل حاصل کر کے ہندوستان کو مایوسی سے بچا لیا۔ سارے ملک کو ہریانہ اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی ان لڑکیوں کا شکر گذار ہونا چاہئے خاص کر حیدرآباد کی پی وی سندھو کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے ۔ جہاں تک اولمپکس میں ہندوستان کے مایوس کن مظاہرہ کا سوال ہے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو اس سلسلہ میں صرف مودی جی کی طرح بلند بانگ دعوؤں کی بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئے ۔ ا

کثر ماہرین کا یہ خیال ہیکہ ہندوستان میں اسپورٹس کلچر نہیں ہے ۔ یہاں کھلاڑیوں کیلئے مناسب انفراسٹرکچر کا فقدان ہے ۔ ایسا نہیں ہے ہندوستان میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی نہیں کی جاتی ۔ حکومت کو کارپوریٹ اداروں نے صرف کرکٹ پر ہی توجہ مرکوز کر رکھی ہے ۔ سچن تنڈولکر جیسے کھلاڑی کو ہندوستان کا باوقار بھارت تن اعزاز عطا کیا جاتا ہے ۔ ہاکی اور ہاکی کے عظیم کھلاڑیوں کو بالکلیہ طور پر نظرانداز کردیا گیا ہے ۔ ایسے میں دوسرے کھیلووں کو کیسے فروغ حاصل ہوگا ۔ ہاکی کھلاڑی کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ پہلوانوں ، شوٹرس اور باکسرس کے انتخاب میں جانبداری اور اقرباپروی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح کھیلوں کود کے شعبہ میں بھی رشوت خوری کا چلن عام ہے ۔ اسکولوں میں بھی کھیل کود کے فروغ پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ ویسے بھی اب اسکولوں میں میدان ہی باقی نہیں رہے ۔ آج ملک میں فرقہ پرستی کا زہر ہر شعبہ میں شرکت کرتا جارہا ہے ۔ اگر حکومت رشوت خوری ، فرقہ پرستی ، اقربا پروری اور مذہبی بنیاد پر کی جانی والی جانبداری پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے تو ہندوستان میں ایسے کھلاڑی ضرور پیدا ہوں گے جو ملک کو کھیلوں کے عالمی مقابلوں میں میڈلس دلائیں گے ۔ اس کیلئے کھیل کود کے اداروں سے سیاستدانوں کو دور رکھنا ہوگا تب ہی ملک میں اسپورٹس کلچر پیدا ہوگا اور کسی ہندوستانی کے ذہن میں یہ بات نہیں آئے گی کہ ملک کی آبادی 130 کروڑ اور اولمپک میں میڈلس صرف دو آخر کیوں …؟
[email protected]

TOPPOPULARRECENT