Monday , August 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / آبپاشی پراجکٹس کی منسوخی پر کے سی آر حکومت کا خاتمہ یقینی

آبپاشی پراجکٹس کی منسوخی پر کے سی آر حکومت کا خاتمہ یقینی

کریم نگر میں راجیو شاہراہ پر کانگریس کا زبردست احتجاجی مظاہرہ ، کے مرتنجیم اور دیگر کا خطاب
کریم نگر ۔ 13 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) آبپاشی پراجکٹوں کے تعمیری کاموں کو روک دینے اور منسوخ کردینے پر کے سی آر حکومت کو کانگریس نے انتباہ دیا۔ ضلع کانگریس پارٹی صدر کے مرتنجیم کی قیادت میں یہاں راجیو شاہراہ پر دھرنا دیا، جس سے ٹریفک میں خلل واقع ہوا۔ کانگریس قائدین نے ٹوٹہ پلی پراجکٹ کی منسوخی کا کے سی آر حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے اس فیصلہ سے دستبرداری کا کے سی آر حکومت سے مطالبہ کیا۔ کانگریس قائدین کی زیرقیادت سڑک پر پکوان اور کھانے کا انتظام کیا گیا۔ اس موقع پر ٹی پی سی صدر اتم کمار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹوٹہ پلی پراجکٹ کی تعمیر تک کانگریس کسانوں کے ساتھ رہے گی جبکہ ریاستی حکومت آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے متعلق تساہل اور لاپرواہی برت رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کئی پراجکٹس کو معرض التواء رکھا گیا ہے۔ کے سی آر چیف منسٹر ریاستی وزیر آبپاشی ہریش راؤ کے آمرانہ طرزعمل پر کانگریس قائدین سخت برہم تھے۔ رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی، سابق وزیر سریدھر بابو، سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر، سابق حکومتی وہپ آرے پلی موہن، سابق ایم ایل اے پروین ریڈی، بوما وینکٹیشور راؤ، کانگریس پارٹی ریاستی مہیلا صدر نرملا شاردا اور دیگر قائدین نے اس موقع پر خطاب کیا۔ یہاں راستہ روکو احتجاج کے دوران صدر ریاستی مہیلا کانگریس نرملا شاردا کی زیرقیادت بونال بتکما کا اہتمام کیا گیا۔ سابق ایم پی پونم پربھاکر اور سابق وہپ آرے پلی کی زیرقیادت کبڈی، کرکٹ کھیل کھیلا گیا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے ریاست تلنگانہ میں محمد تغلق کا دورحکومت آ گیا ہے۔ یہ سمجھ ہی نہیں آتا کہ کے سی آر کب کونسا فیصلہ لے لیں گے۔ کے سی آر حکومت آبپاشی پراجکٹوں کو ایک متنازعہ مسئلہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے سابق حکومتوں کو نشانہ بنانے اور ان پر تنقیدوں کے سوائے کوئی کام انجام نہیں دیا ہے۔ ٹوٹہ پلی پراجکٹ پر 500 کروڑ خرچ کئے جانے کے بعد اس پراجکٹ کو منسوخ کرنے کا خیال حیرت انگیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجکٹ کی تعمیر کیلئے کانگریس کی ہمدردیاں کسانوں کے احتجاجی پروگراموں کے ساتھ رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کے متعلق مرکزی قائدین سے بات چیت تو کی تاہم دہلی سے واپس آنے کے بعد ان کا ارادہ پراجکٹ کے تعلق سے تبدیل ہوگیا ہے اور پالمور پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ اس طرح زیرتعمیر پراجکٹس کو متنازعہ بنادیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں خوشحال زندگی عوام کا دن کا خواب بن چکا ہے جبکہ چند دولت مند سرمایہ داروں کے سوائے ریاست کے عوام پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کسان خودکشی کررہے ہیں۔ چیف منسٹر اور ان کے کسی وزیر نے خودکشی کرنے والے کسانوں کے ارکان خاندان کو دلاسہ تک نہیں دیا جبکہ کانگریس قائد راہول گاندھی نے عادل آباد کا دورہ کرتے ہوئے کسانوں کے ارکان خاندان کو حوصلہ ہمت دی۔ غیرموسمی بارش سے کسانوں کو ہوئے نقصان پر ایک روپیہ نہیں دیا گیا۔ ریاست کے زرعی مالی حالت بہتر نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی متبادل انتظامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت کے قیام کے بعد سے عام اور اوسط درجہ کا آدمی پریشان ہے۔ کانگریس رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی نے کہا کہ کے سی آر سرمایہ داروں، صنعتکاروں کو زرعی اراضیات حوالے کررہے ہیں اور ٹوٹہ پلی پراجکٹ کی منسوخی اس سازش کا حصہ ہے۔ چیوڑلہ پراجکٹ کی 1800 اراضی زیرآب آنے پر اس پراجکٹ کے مقام کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ پولاورم پراجکٹ کے 7 منڈلس ریاست آندھراپردیش میں چلے جانے پر کے سی آر خاموشی اختیار کرچکے ہیں۔ کے سی آر کا یہ دوغلاپن ہی ہے۔ سابق ایم پی پونم پربھاکر نے توٹہ پلی پراجکٹ کی منسوخی کو ضلع سے ٹی آر ایس کی شکست کا نقطہ آغاز ہوگا کہہ کر انتباہ دیا۔ سابق وزیر سریدھر بابو نے کہا کہ کے سی آر نے عوام سے جو وعدے کئے اس کو پورا کرنے کے انہیں ایک مہلت دی گئی ہے۔ کے سی آر عوام سے جھوٹے وعدے اعلان کرتے ہوئے کسانوں اور عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کو ایک لاکھ روپئے تک قرض معاف کردینے کا اعلان کیا محض 25 ہزار قرض کو معاف کرتے ہوئے ماباقی 75 ہزار روپئے پر سود عائد کیا جارہا ہے۔ سابق وہپ آرے پلی موہن نے کہا کہ ٹوٹہ پلی پراجکٹ کو رد کرتے ہوئے یہاں کے پانی کو اپنے علاقوں تک منتقل کرنے کی سازش ہے۔ کانگریس کے دیگر قائدین بوما وینکٹیشورا پراوین ریڈی، بوما سری رام چکراوانی، کے راجہ شیکھر، کے لنگا مورتی گوپال کشن راؤ، نرملا شاردا نے بھی مخاطب کرتے ہوئے توٹہ پلی پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کا چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا اور کہا کہ ریاست کے کسان، عوام اس پراجکٹ کی منسوخی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور شدید احتجاج کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT