Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / آبپاشی پر کانگریس کا پاور پوائنٹ گمراہ کن

آبپاشی پر کانگریس کا پاور پوائنٹ گمراہ کن

کانگریس ماضی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کوشاں ، ودیا ساگر راؤ
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت کے سیاسی مشیر برائے آبپاشی مسٹر ودیا ساگر راؤ نے کانگریس کی جانب سے پیش کردہ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے کا کانگریس پر الزام عائد کیا ہے ۔ آج سکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ودیا ساگر راؤ نے کہا کہ کانگریس کے 10 سالہ دور حکومت 2004 تا 2014 تک 51 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی سیراب کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے ۔ کانگریس کے 10 سالہ دورہ حکومت میں ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے صرف 5 لاکھ ایکڑ اراضی فاضل اراضی کو کاشت کے قابل بنایا گیا ہے ۔ تلنگانہ کو پانی کے مختص کرنے کے معاملے میں تلنگانہ حکومت ٹریبونل اور سپریم کورٹ میں انصاف کی لڑائی لڑ رہی ہے ۔ لیکن کانگریس نے پاور پوائنٹ پریزینٹیشن پیش کرتے ہوئے پڑوسی ریاستوں کو ہتھیار فراہم کیا ہے ۔ 2004 تک تلنگانہ کی 47 لاکھ ایکڑ اراضی کو کبھی سیراب نہیں کیا گیا ہے ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں مخالفین تلنگانہ نے جو رپورٹ تیار کی تھی اس کو بنیاد بناکر تلنگانہ کانگریس جھوٹا دعویٰ پیش کررہی ہے ۔ کانگریس پارٹی عوام میں سنسنی اور غیر یقینی صورتحال پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر تلنگانہ کے ہر ضلع میں 10 لاکھ اور ہر اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی سیراب کرنے کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کام کررہے ہیں ۔ نظام ساگر ، سنگور میں قطرہ پانی نہیں ہے ۔ سری رام ساگر میں تھوڑا پانی ہے ۔ تلنگانہ کو صرف دریائے گوداوری اور اندراوتی ندی سے پانی حاصل ہوسکتا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت سمندر میں ضائع ہونے والے ہر قطرہ پانی کو کاشت اور پینے کے پانی کے استعمال میں لانے کی کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کی قیمت 35 ہزار کروڑ روپئے سے بڑھاکر 85 ہزار کروڑ روپئے کردینے کا ٹی آر ایس حکومت پر جھوٹا الزام عائد کیا جارہا ہے جب کہ حقیقت میں کانگریس کے دور میں 42 ہزار کروڑ کا پراجکٹ تھا ۔ ملنا ساگر کے بارے میں بھی اپوزیشن جماعتیں عوام کو گمراہ کررہی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT