Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / آج بابری مسجد شہادت کی 23 ویں برسی، سخت سکیورٹی

آج بابری مسجد شہادت کی 23 ویں برسی، سخت سکیورٹی

ایودھیا میں نیم فوجی دستوں و پولیس کا فلیگ مارچ
ملک کے مختلف مقامات پر چوکسی میں اضافہ
نئی دہلی، 5 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بابری مسجد کی شہادت کی کل 6 ڈسمبر کو 23 ویں برسی ہے ۔ اس موقع پر ملک بھر میں وسیع تر سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں اور حساس مقامات پر سخت چوکسی برتی جا رہی ہے ۔ یہاں قومی دارالحکومت میں پولیس کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کو سخت کردیا گیا ہے ۔ ایودھیا میں ریاستی انتظامیہ کی جانب سے احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں اور سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔ یہاں بعض تنظیموں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے ۔ حکام نے مختلف مقامات پر اضافی پولیس دستے بھی متعین کردئے ہیں۔ ایودھیا میں آج کئی مقامات پر نیم فوجی دستوں ‘ پی اے سی اور ریاستی پولیس کی جانب سے فلیگ مارچ کا اہتمام کیا گیا ۔ ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی نے دونوں فرقوں کے افراد کے ساتھ آج اجلاس بھی منعقد کیا۔ حساس مقامات پر نظر رکھنے کا خاص طور پر اہتمام کیا گیا ہے ۔ کچھ مقامات پر تلاشی مہم بھی منعقد کی گئی ۔ ملک کے مختلف مقامات پر مختلف تنظیموں کی جانب سے 6 ڈسمبر کو یوم سیاہ اور بند کا اعلان کیا گیا ہے ۔

مندروں کے شہروں میں خاص طور پر سکیورٹی کو سخت کیا گیا ہے ۔ سابری مالا میں سکیورٹی انتظامات سخت کردئے گئے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے کیرالا کے اس شہر میں ہر سال 5 تا 7 ڈسمبر کو سکیورٹی سخت کردی جاتی ہے اور چوکسی برتی جاتی ہے ۔ یہاں مندر میں داخلہ کے مقامات پر میٹل ڈیٹکٹرس نصب کردئے گئے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو یونیفارم اور سادہ لباس میں مختلف مقامات پر متعین کردیا گیا ہے ۔ مندر میں آنے والے بھکتوں کو میٹل ڈیٹکٹرس سے گذارا جا رہا ہے اور مکمل تلاشی بھی لی جا رہی ہے ۔ تروپتی میں بھی بابری مسجد شہادت کی برسی کے موقع پر سکیورٹی کو سخت کردیا گیا ہے ۔ مختلف مقامات پر پولیس کی جانب سے تلاشی مہم منعقد کی گئی اور اضافی پولیس دستوں کو بھی یہاں متعین کردیا گیا ہے ۔ چینائی میں عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ بابری مسجد کی شہادت کے دن کسی طرح کے احتجاج کی اجازت نہ دے ۔ اس سلسلہ میں عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے پولیس کو یہ ہدایت دی ہے۔ ٹاملناڈو میں بھی چوکسی برتی جارہی ہے ۔ اور وہاں بھی حساس مقامات پر اضافی پولیس دستے متعین کردئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT