Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا

آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا

مولانا غلام محمد قادری
’’قربانی‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی نزدیکی کے ہیں، اس لئے قربانی کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوسکتا ہے، جس کے ذریعہ کسی کی قربت حاصل کی جائے، لیکن اسلام میں اس قربانی کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ کے لئے، اللہ کے نام پر، عید الاضحی کے ان مخصوص ایام میں جانور کی قربانی پیش کرکے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا قرب حاصل کرے۔
قربانی کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے، اس حقیقت کو قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ: ’’خدا کی بارگاہ میں قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ اس کے ذریعہ تمہارے تقویٰ کو باریابی کا موقع ملتا ہے‘‘۔ اب اگر قربانی کا عمل ہمارے اندر تقویٰ کی روح پیدا نہیں کرتا اور انسان کی فطرت بلند کی بنیاد پر عروج آدم کی بشارت نہیں دیتا تو وہ بے کیف و بے سود ہے، کیونکہ ایسی بے حقیقت قربانی کی خدا کو کچھ حاجت نہیں اور اس طرح کی قربانی سے ایک انسان گوشت کھاکر اپنا شکم تو پُر کرسکتا ہے، مگر تقویٰ کے تقاضوں کو پورا نہیں کرپاتا۔
واضح رہے کہ عید قرباں عام مسلمانوں کو بالعموم اور اقامت دین کی خاطر جدوجہد کرنے والوں کے لئے بالخصوص اپنے اندر دعوتِ فکر و نظر رکھتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اگر دنیا میں دین کو غالب کرکے اپنے رب کو راضی کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر اندازِ ابراہیمی پیدا کریں اور اگر اس راہ میں ان کا مال یا اولاد مزاحم ہوں تو اپنے ہاتھ سے ان کی محبت پر چھری پھیر دیں۔
اسوۂ ابراہیمی کی یادگار اللہ تعالیٰ کی راہ میں رشتہ و تعلق کو منقطع کردینے، وطن سے ہجرت کرجانے، ساری زندگی راہِ خدا میں تج دینے اور اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھوں سے دوست کی رضا کے لئے قربان کردینے کی یادگار ہے۔ اگر اس بے مثال قربانی سے ہمارا شعور و احساس بیدار نہ ہو تو جانور یقیناً قربان ہو جاتا ہے، مگر نفس قربان نہیں ہوتا۔

خداوند قدوس کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کا قربان کیا جانا مطلوب نہ تھا، بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور آپ کو عطا کردہ مقام خلت کے معیار بندگی سے ساکنانِ ارض و سماء کو آگاہ کرنا تھا، اسی لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت کا دنبہ قربان ہو گیا اور اللہ رب العزت نے اپنے کرم خاص سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سلامتی عطا فرماکر حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی قربانی قبول فرمالی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ بے مثال قربانی بارگاہِ خداوندی میں اس درجہ مقبول ہوئی کہ دنیائے اسلام کے لئے تاقیامت واجب قرار دی گئی اور قربانی کی منزل تک پہنچتے پہنچتے آپ کی ذات گرامی سے وابستہ کچھ مخصوص حالات و کوائف کو مناسک حج میں شامل فرماکر لازوال بنادیا گیا۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ادائے قربانی کو اپنے مبارک عمل سے زندہ جاوید بنادیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کے تاریخی حقائق کو تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کا یہ مضمون متحمل نہیں اور آپ کی مکمل تاریخ پیش کرنا ہمارا مقصد بھی نہیں، بلکہ یہاں ہمارا مقصد صرف اس قدر ہے کہ قربانی کے مقصد اور اس کے مضمرات کا خلاصہ عرض کردیا جائے، تاکہ آپ اچھی طرح جان لیں کہ ایام عید قرباں میں جانوروں کو ذبح کردینا اور گوشت بانٹ کر کھالینا دراصل قربانی نہیں، بلکہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت کو زندہ رکھنے کے لئے ہم اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے جان و مال قربان کردینے کا حقیقی جذبہ پیدا کریں۔ درحقیقت یہی جذبہ روح ایمان اور حقیقت اسلام بھی ہے، کیونکہ مؤمن صادق اور ایک وفادار اسلام کی پہچان تو یہی ہے کہ اس کو جو کچھ عطا کیا گیا ہے، اسے اللہ ہی کا شمار کرے اور اس کے ہی حکم پر اس کی رضا کے لئے قربان کردے۔ اگر آج ہمارے اندر سنت ابراہیمی کے تحت مطلوبہ ایمانی حرارت پیدا ہو جائے تو یقین جانیے کفر و شرک کے سارے طلسم تار عنکبوت ثابت ہوں گے۔ بقول علامہ اقبال:

آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
’’قربانی‘‘ رب جلیل کی بارگاہِ عظمت میں اس کی رضا جوئی کے لئے پیش کی جانے والی ایسی ادائے بندگی کا نام ہے، جس کے متعلق قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر الگ الگ انداز میں نشاندہی فرمائی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی امتوں کے لئے قربانی کا حکم نازل فرمایا گیا۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے: ’’ہر امت کے لئے ہم نے ایک قربانی مقرر کردی، تاکہ وہ بے زبان جانوروں پر اللہ کا نام ذکر کریں‘‘ (سورۃ الحج) اس آیت کریمہ کی روشنی میں اس بات کی بخوبی وضاحت ہو گئی کہ قربانی کا عمل صرف امت محمدیہ کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ یہ طرز عبادت اللہ رب العزت کو اتنی پسند ہے کہ اس کو امم سابقہ کے لئے بھی ضروری قرار دیا گیا تھا۔ ایک دوسرے مقام پر قربانی کے مقصد بلند کو کتنے واضح طریقے سے ارشاد فرمایا گیا کہ ’’ہرگز ہرگز خدا کے دربار میں نہ قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، لیکن تمہاری پرہیزگاری (وہ انمول نیکوکاری ہے، جو دربار باری تعالیٰ میں) باریاب ہو جاتی ہے‘‘۔ مالک کائنات نے قربانی کی اہمیت اور حصول تقویٰ کے متعلق ارشاد فرماکر درج ذیل آیت کریمہ میں اپنے بندوں سے اخلاص عمل کا مطالبہ فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’اے محبوب! آپ فرمادیجئے کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے، جو سارے جہان کا پالنے والا ہے‘‘۔ یعنی آپ کی جانب سے پیش کی جانے والی قربانی لوجہ اللہ ہونا چاہئے، لوگوں کے دکھاوے کے لئے یا سرمایہ داری کی نخوت کی جھوٹی نمائش اس قربانی کے اجر و ثواب کو ضائع کرنے کے بعد تکبر و ریا جیسے خطرناک و تباہ کن عمل کا مرتکب بھی بنا سکتی ہے۔

مذکورہ آیاتِ قرآنی میں قربانی کی اہمیت اور اس کے اعلیٰ مقاصد کو سمجھ لینے کے بعد اب کلام ربانی کی اس سب سے مختصر سورۂ مبارکہ کی زیارت کریں، جو صورۃً صرف تین آیات کریمہ پر مشتمل ہے، لیکن معنوی اعتبار سے علم و معرفت کا ایک بحر بیکراں اپنے مقدس دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور ہم روزانہ نمازوں میں اس کی تلاوت و سماعت کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ وہ سورۂ مبارکہ ’’سورۂ کوثر‘‘ ہے۔ خداوند قدوس نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قربانی کے متعلق سورۂ کوثر میں واضح حکم ارشاد فرمایا: ’’اے محبوب! آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی پیش کریں‘‘۔ ان آیات کے مفاہیم و مطالب سمجھنے کے بعد ضروری ہے کہ قربانی جیسے بے مثال طریقۂ بندگی کے فضائل سے باخبر ہونے کے لئے احادیث مبارکہ سے اکتساب فیض اور نور کی سعادت حاصل کریں۔ چنانچہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’قربانی کے دنوں میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک قربانی سے زیادہ پیارا نہیں ہے‘‘۔ سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پاک نے کسی لیت و لعل کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی اور انسان کی فطرت بلند کے اعتبار سے اس کے مقصد بلند کے حصول کے لئے نشان منزل تک قیادت فرمائی ہے۔ پھر ارشاد فرماتے ہیں: ’’اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا‘‘۔ مزید ارشاد فرمایا: ’’بے شک قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے خدا کے نزدیک مقام قبولیت میں پہنچ جاتا ہے، لہذا اس کو خوش دلی کے ساتھ کرو‘‘۔ (مشکوۃ شریف، صفحہ ۱۲۸)

ایک دوسری حدیث پاک حضرت سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قربانی کا خون تو زمین پر گرتا ہے، مگر خداوند قدوس کی حفاظت میں ہے، اس لئے جو شخص ثواب کی نیت سے قربانی کرے تو وہ قربانی اس کے لئے دوزخ سے آڑ بن جائے گی‘‘۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن صحابۂ کرام نے دربار نبوت میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ان قربانیوں کی حقیقت کیا ہے؟‘‘۔ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ تمہارے پدربزرگوار حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت ہے‘‘۔ پھر صحابۂ کرام نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ان قربانیوں سے ہم کو کتنا ثواب ملے گا؟‘‘۔ سرکار ابدقرار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے ایک ایک نیکی ملے گی‘‘۔ (احمد و ابن ماجہ)
اب ان بے شمار نیکیوں کی بشارت سے منہ موڑنے والے حرماں نصیب درج ذیل حدیث شریف سے سبق حاصل کریں، جس میں واضح طورپر تارکین قربانی سے مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نفرت و بیزاری کا اظہار فرما رہے ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کو خدائے تعالیٰ نے ہر طرح کی مالی سہولت و وسعت دے رکھی ہو اور پھر وہ اعراض کرتے ہوئے اس واجب کو ادا نہ کرے تو اس کو یہ حق حاصل نہیں کہ ہماری عیدگاہ میں آئے اور ہمارے ساتھ شریک ہوکر نماز پڑھے‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو خلوص دل سے قربانی پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT