Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / آج ہند بمقابلہ آسٹریلیا ، فاتح ٹیم سیمی فائنل کھیلے گی

آج ہند بمقابلہ آسٹریلیا ، فاتح ٹیم سیمی فائنل کھیلے گی

موہالی۔ 26 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان موہالی میں کل کھیلا جانے والا مقابلہ عملاً رواں ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل مقابلہ ہوچکا ہے کیونکہ دونوں ہی ٹیموں نے اپنے ابتدائی 3 مقابلوں میں 2 فتوحات کے ذریعہ فی کس 4 نشانات حاصل کئے ہیں اور اس مقابلے میں کامیاب ہونے والی ٹیم سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرے گی، چونکہ گروپ 2 سے نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلے ہی سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرچکی ہے۔ ہندوستانی ٹیم جسے ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل خطاب کی سب سے مضبوط دعویدار ٹیم قرار دیا جارہا تھا لیکن اسے اپنے افتتاحی مقابلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف حیران کن طور پر 47 رنز کی شکست برداشت کرنی پڑی جس کے بعد اس نے کٹر حریف پاکستان کے خلاف 6 وکٹوں کی کامیابی کے ذریعہ ٹورنمنٹ میں واپسی کی۔ بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے میں ایک رن کی کامیابی نے ہندوستان کی سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات کو برقرار رکھا ہے لیکن کل آسٹریلیا کے خلاف شکست کا مطلب 2007ء کی چمپین ہندوستانی ٹیم کا ورلڈ کپ سے اخراج ہوگا۔ دوسری جانب آسٹریلیائی ٹیم جسے بھی نیوزی لینڈ کے خلاف افتتاحی مقابلے میں شکست کے بعد ہر مقابلے میں بہتری ظاہر کرتے ہوئے فتوحات حاصل کی ہے، جس نے یہاں اپنے گزشتہ مقابلے میں پاکستان کے خلاف ہمالیائی اسکور کھڑا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے۔ آسٹریلیائی آل راؤنڈرس کی جوڑی جیمس فالکنر اور شین واٹسن نے اعتراف ضروری کیا ہے کہ ہندوستان کو ہندوستان میں شکست دینا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے، لیکن وہ اس چیلنج کیلئے تیار ہے۔ ہندوستان جس نے آسٹریلیا کو حالیہ سیریز میں اُسی کی سرزمین پر 3-0 کی شکست دی ہے

،وہ ان فتوحات سے حاصل ہونے والے اعتماد کے ساتھ میدان سنبھالے گی لیکن سریش رائنا اور یوراج سنگھ کے ناقص مظاہرے میزبان ٹیم کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔ اگر ہندوستانی ٹیم نشانہ کا تعاقب کرتی ہے تو پھر ویراٹ کوہلی میزبان ٹیم کیلئے کلیدی کھلاڑی ہوں گے لیکن ایک کھلاڑی پر انحصار اس کیلئے کافی نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔ بولنگ شعبہ میں بولروں نے بہتر مظاہرہ کیا ہے، خصوصاً اسپنرس کی جوڑی روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ کے مظاہرے اطمینان بخش ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف اعصاب شکن لمحات میں مظاہرہ کرنے کے بعد یہ جسپریت بومرا کے لئے ایک بہتر تجربہ ہوچکا ہے، جن کے ہمراہ آشیش نہرا کا تجربہ بھی ہندوستان کے لئے اہم ہوگا۔ موہالی کی وکٹ اسپنرس کے لئے سازگار نہیں لیکن اشون اور جڈیجہ بہتر مظاہرہ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

علاوہ ازیں اسپنرس کے خلاف ہندوستانی بیٹسمین جنہیں جدوجہد کرنی پڑی ہے، ان کے لئے نوجوان اسپنر ایڈم زمپا کا چیلنج ضرور رہے گا جنہوں نے گزشتہ 2 مقابلوں میں اہم مواقع پر وکٹس حاصل کرتے ہوئے اپنے کپتان اسٹیون اسمتھ کی امیدوں کو پورا کیا ہے۔ آسٹریلیائی ٹیم جس نے گزشتہ مقابلے میں ہی پاکستان کے خلاف ہمالیائی اسکور کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے، اس کے لئے بائیں ہاتھ کے اوپنر عثمان خواجہ، اسمتھ ، واٹسن کا شاندار فام اہمیت کا حامل ہے۔ مڈل آرڈر میں ڈیوڈ وارنر کے ساتھ واٹسن کی موجودگی کے بیٹنگ شعبہ کو مستحکم کرتی ہے جبکہ گلین میکسویل اور جیمس فالکنر ٹیم کو کامیابی کی مطلوبہ لکیر کے پار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فالکنر جنہوں نے گزشتہ مقابلے میں 5 وکٹس حاصل کی ہیں، وہ موہالی کی وکٹ سے واقف ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT