Sunday , June 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / آخر راحت کب ملے ؟ عوام کا ہر طبقہ فکر مند

آخر راحت کب ملے ؟ عوام کا ہر طبقہ فکر مند

پرانے نوٹوں کی منسوخی اور نئے نوٹوں کی قلت سے رقمی لین دینے کے معاملہ ٹھپ، کاروبار بند، مریضوں کو مشکلات

شاد نگر۔/27نومبر، ( منصور علی خاں کی رپورٹ) نوٹ بندی کے طوفان کی لہروں میں ملک بھر کی عوام آج بھی بھٹک رہی ہے۔ نوٹ بندی کا طوفان ابھی بھی عوام کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔اس طوفان کی وجہ سے ملک کی معیشت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ ملک کی حکومت عوام کو راحت پہنچانے کے بجائے نوٹوں کے اندھیرے میں ڈھکیل دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس کو تو پورا نہیں کرپائے مگر ملک بھر کی عوام کو نوٹ بندی کی وجہ سے پریشان کررکھا ہے۔ نوٹ بندی کی وجہ سے ملک بھر کے سواسو کروڑ عوام کی راتوں کی نیند اور دن کا چین چلا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے نوٹوں پر پابندی کے متعلق بیان کے بعد سے ملک بھر کے عوام اپنے روز مرہ کے کاموں کو چھوڑ کر بینکیوں اور اے ٹی ایمس کے چکروں میں اپنا دن گذار رہے ہیں۔ اکاؤنٹ ہولڈرس اپنے کھاتے میں سے رقم نکالنے پر اکثر بینکس اکاونٹ ہولڈرس کو دو ہزار کے نوٹس تھمادے رہے ہیں عام آدمی دو ہزار کی جدید نوٹ لے کر بازار میں روز مرہ زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء کی خریدی کرنے پر بازار میں دکانداروں کے پاس دو ہزارکے نوٹ کا چلر نہیں مل رہا ہے۔ ایک طرف پرانے نوٹ مارکٹ یا پھر بازار میں نہیں چل رہے ہیں، دو ہزار کے نوٹوں کا چلر نہیں مل رہا ہے۔ نوٹ بندی کی پابندی کے ساتھ ہی پرانے نوٹوں کو جدید نوٹوں میں تبدیل کرنے کیلئے کمیشن کا بازار بڑے پیمانے پر چل رہا ہے۔ نوٹوں کی تبدیلی کا کمیشن 30تا 50فیصد یا پھر پرانے نوٹ رکھنے والی عوام بھروسہ مند تاجر کے حوالے کررہے ہیں۔ اکاؤنٹ ہولڈر بینک سے رقم نکالنے کیلئے پہونچنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اکثر بینکوں میں رقم ختم ہونے کی شکایت موصول ہورہی ہے، اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کیلئے بھی عوام کو لمبی قطاروں میں لمبے عرصہ تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے جن افراد کے بینک عہدیداروں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں انہیں کسی بھی طرح رقم حاصل ہورہی ہے اور بعض افراد اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر کسی طرح بینک سے رقم تبدیل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ رقم نکالنے کیلئے بینک پہونچے تو بینک میں رقم نہیں اور اگر اے ٹی ایم پہونچے تو اے ٹی ایم میں یا تو رقم نہیں یا پھر اے ٹی ایم خراب پڑے ہوئے ہیں۔ اور اگر کسی سے قرض حاصل کرنے کیلئے کوشش کریں تو قرض نہیں مل رہا ہے۔ جدید دو ہزار کے نوٹوں کا چلر طلب کرنے پر بازار میں چلر نہیں مل رہا ہے۔ انڈسٹریز میں کام کرنے والوں کو وقت پر تنخواہ نہیں مل رہی ہے۔ بینک سے رقم نکالنے کی حد مقرر کردی گئی ہے۔ بسوں، ریل اور دیگر خانگی گاڑیوں کے ذریعہ سفر کرنے والے مسافرین کو بھی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر کسی کے پاس چلر ہے تو وہ دینے سے گریز کررہا ہے جس کے پاس چلر نہیں وہ بھی پریشان ہے۔ روز مرہ کے کام کرکے زندگی گذارنے والوں کو نوٹوں پر عائد پابندی کی وجہ سے مزدوری وقت پر نہیں مل رہی ہے۔ مزدوروں کو کام نہیں مل رہا ہے ملک کی عوام نوٹوں پر پابندی کی وجہ سے محتلف الجھن میں ہے۔ ملک بھر کے عام آدمی کی تیز رفتار زندگی تھم سی گئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کی تجارت پوری طرح ٹھپ پڑی ہوئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے تاجرین فی الحال خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انڈسٹریز میں کام کرنے والے مزدوروں کو کام نہیں مل رہا ہے۔ عام آدمیوں کے درمیان رقم کے لین دین کا معاملہ بھی پوری طرح ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ ملک کا عام آدمی اپنا کام چھوڑ کربینک کے اور اے ٹی ایم کے چکر کاٹنے اور رقم نکالنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ بینکس اور اے ٹی ایمس کے ذریعہ رقم نکالنے والے افراد کو کسی کو رقم مل رہی ہے اور کسی کو مایوسی کے ساتھ واپس لوٹنا پڑ رہا ہے۔ نوٹوں پر پابندی عائد کرنے سے کسی کے گھر میں شادی یا پھر اور کوئی تقاریب ہے ان کی پریشانیوں میں نریندر مودی نے مزید اضافہ کردیا ہے۔ نوٹ بندی کی وجہ سے ملک بھر کی عوام کی زندگی سڑکوں پر آچکی ہے۔ پرانے نوٹوں کی تبدیلی یا پھر بینکوں میں ڈپازٹ یا پھر بینکوں سے رقم نکالنے یا اے ٹی ایمس سے رقم نکالنے کیلئے در در بھٹک رہے ہیں۔ نوٹوں کی تبدیلی اور اس کے حصول کے دوران ملک بھر کے مختلف حصوں میں کئی ایک ضرورت مند افراد اپنی قیمتی جانیں گنوادی ۔ نوٹوں کی منسوخی کی وجہ سے ملک کے کئی ایک مریضوں کا علاج نہیں ہوپایا۔ مرکزی حکومت ہو یا پھر وزیر اعظم نریندر مودی نوٹوں کے متعلق لئے گئے سخت فیصلہ سے عوام حد سے زیادہ پریشان ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا دباؤ، احتجاج یا پھر دھرنا یا نمائندگی چاہیئے۔ لوک سبھا ، راجیہ سبھا میں عوام کے درپیش مسائل کو سننے یا پھر سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہندوستان ایک آزاد ملک ہے، آزاد ملک ہونے کے باوجود ملک بھر کی عوام پر پابندی عوام کیلئے فکر کے لمحات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ملک بھر کی عوام اس بات کو لیکر کافی فکر مند ہیں کہ ان پریشان کن  لمحات سے آخر کب راحت ملے گی۔ ملک کے عوام کے ووٹوں سے اقتدار کی اہم کرسی پر بیٹھنے والے نریندر مودی کو آنے والے دنوں میں یہی عوام سبق سکھاکر رہے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT