Friday , July 28 2017
Home / سیاسیات / آدتیہ ناتھ ترقی کا نہیں آر ایس ایس کا ایجنڈہ رکھتے ہیں

آدتیہ ناتھ ترقی کا نہیں آر ایس ایس کا ایجنڈہ رکھتے ہیں

ووٹنگ مشینوں میں گڑبڑ کے خلاف اندرون تین یوم عدالت میں درخواست‘ مایاوتی
نئی دہلی 20 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے آج چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ ریاست کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کردینگے اور ریاست میں آر ایس ایس کے ایجنڈہ کو آگے بڑھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوگی ۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سماجوادی پارٹی اقتدار میں ہے یا بی جے پی اقتدار میں ہے ۔ یہ لوگ لا اینڈ آرڈر کو برقرار نہیں رکھ سکتے ۔ بی جے پی نے ایک پجاری کو چیف منسٹر نامزد کردیا ہے جو ریاست میں ترقی کے ایجنڈہ کو نہیں بلکہ آر ایس ایس کے ایجنڈہ کو آگے بڑھائیں گے ۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں مایاوتی کی پارٹی کو بری طرح سے شکست ہوئی تھی ۔ ان سے نامہ نگاروں نے یوگی آدتیہ ناتھ کے بحیثیت چیف منسٹر انتخاب کے تعلق سے سوال کئے تھے ۔ ان سے گذشتہ شب الہ آباد میں بی ایس پی کے لیڈر محمد شام کے قتل کے تعلق سے بھی سوال کیا گیا تھا ۔ پانچ مرتبہ کے رکن پارلیمنٹ گورکھپور اور بی جے پی کے ہندوتوا چہرے سمجھے جانے والے یوگی آدتیہ ناتھ نے کل ریاست کے 21 ویں چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لیا تھا ۔ آدتیہ ناتھ پر ان کی مخالف مسلم تقاریر کیلئے تنقیدیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کل واضح کیا کہ ان کی حکومت کسی امتیاز کے بغیر سماج کے تمام طبقات کی ترقی کیلئے کام کریگی اور اترپردیش کی متوازن ترقی کو یقینی بنائے گی ۔ انہوں نے اپنے وزارتی رفقا سے بھی کہا تھا کہ وہ ایسے بیانات جاری نہ کریں جن سے کسی کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔ اس دوران مایاوتی نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کئے جانے کے خلاف آئندہ دو تا تین دن میں عدالت سے رجوع ہوگی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بے قاعدگیوں کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ہے ۔ قبل ازیں الیکشن کمیشن نے مایاوتی کے اس ادعا کو مسترد کردیا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں ۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ بیالٹ پیپر استعمال کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کروانے ان کا مطالبہ ناقابل قبول ہے ۔ بی ایس پی کے گذشتہ اسمبلی میں 80 ارکان اسمبلی تھے اور اس بار اسے صرف 19 پر کامیابی ملی ہے ۔ بی جے پی کو اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ ریاست میں 14 سال بعد اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ اس اتحاد نے جملہ 325 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ سماجوادی پارٹی کو 47 اور کانگریس کو 7 نشستوں سے جیت ملی تھی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT