Saturday , May 27 2017
Home / اداریہ / آدتیہ ناتھ کا انتخاب لمحہ فکر

آدتیہ ناتھ کا انتخاب لمحہ فکر

جنوں کا نام خرد رکھ دیا خرد کا جنوں
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
آدتیہ ناتھ کا انتخاب لمحہ فکر
بی جے پی نے ایسا لگتا ہے کہ اپنے حقیقی عزائم اور منصوبوں پر عمل آوری کا فیصلہ کرلیا ہے اور اسی وجہ سے اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی شکل میں ایک ایسے چہرے کو چیف منسٹر کی حیثیت سے نامزد کردیا جن کا نام ہی فرقہ پرستی کی علامت بن گیا تھا ۔ سارا ملک جانتا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ بی جے پی کے کٹر ہندوتوا بریگیڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماضی میں کئی ایسے موقع آئے تھے جب آدتیہ ناتھ نے انتہائی اشتعال انگیز اور زہریلے بیانات جاری کرتے ہوئے تنازعات پیدا کردئے تھے اور ان موقعوں پر بی جے پی خود اپنی بغلیں جھانکتی ہوئی دکھائی دی تھی ۔ کئی موقعوں پر بی جے پی کے سینئر قائدین نے آدتیہ ناتھ کے بیانات اور ان کے خیالات سے اتفاق کرنے سے گریز کیا تھا حالانکہ مسلم مخالفت میں بی جے پی بھی کبھی بھی کسی سے پیچھے رہنا نہیں چاہتی ۔ سیاست کو پاک صاف بنانے کا دعوی کرنے والی بی جے پی کو اس بات کو جواب دینے کی ضرورت ہے کہ آدتیہ ناتھ کے خلاف جتنے مقدمات ہیں اب ان کا کیا ہوگا ۔ ان کے خلاف کئی سنگین مقدمات بھی درج ہیں اور اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کوبنیاد بناکر بھی بی جے پی نے عوام سے ووٹ طلب کیا تھا ۔ ریاست میں لا اینڈر آر ڈر کی ابتری کے مسئلہ پر بی جے پی نے سماجوادی پارٹی کی سابقہ حکومت کو نشانہ بنایا تھا لیکن اب خود اس نے ایک ایسے شخص کو ریاست کی باگ ڈور سونپ دی ہے جن کے خلاف خود کئی سنگین مقدمات درج ہیں۔ آدتیہ ناتھ مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اظہار میں سب سے آگے رہتے ہیں۔ کئی موقعوں پر انہوں نے ایسے متنازعہ بیانات جاری کئے تھے جن کی وجہ سے تنازعات پیدا ہوگئے تھے ۔ وہ اپنی ریاست میں مسلمانوں کو برداشت کرنے تیار نہیں ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔ ان کے حلف لینے سے قبل ہی یو پی میں دو مقامات پر ایسے پوسٹرس لگائے گئے تھے جن میں مسلمانوں کو وہاں سے چلے جانے کو کہا گیا تھا ۔ ان میں ایک مقام خود یوگی آدتیہ ناتھ کا حلقہ انتخاب گورکھپور بھی تھا ۔ یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ ہو یا رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ ہو ‘ مسلمانوں کے بیف کھانے کا مسئلہ ہو یا پھر ہندووں کی بالادستی کا مسئلہ ہو ہر مسئلہ پر آدتیہ ناتھ زہرافشانی کرچکے ہیں اور مسلمانوں سے انتہائی نفرت کا اظہار کرچکے ہیں۔
آدتیہ ناتھ اترپردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف بھی لے چکے ہیں اور ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اترپردیش کو اتم پردیش میں بدل دینگے اور ریاست کو بہت زیادہ ترقی دلائیں گے ۔ خود نریندر مودی نے ہندوستان بھر میں عوام کو سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کے ذریعہ ترقی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن نہ مرکزی حکومت نے اس نعرہ کے مطابق اب تک کوئی کام کیا ہے اور نہ اترپردیش میں اس کی امید کی جاسکتی ہے ۔ ریاست کی ترقی کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ سماج کے تمام طبقات کے مابین یکجہتی اور ہم آہنگی کی فضا کو بحال کیا جائے ۔ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کو بہتر بنایا جائے اور ترقی کیلئے ماحول سازگار بنایا جائے لیکن یوگی آدتیہ ناتھ کا انتخاب ان سب کے برخلاف کہا جاسکتا ہے ۔ اترپردیش بی جے پی میں بھی کئی ایسے چہرے ضرور موجود ہیں جن کے ذریعہ ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے لیکن آدتیہ ناتھ کے انتخاب کے ذریعہ بی جے پی نے یہ تاثر پیش کردیا ہے کہ اس کے عزائم ترقی کے نہیں بلکہ کچھ اور ہیں۔ یہاں فرقہ پرستی کو ایک بار پھر عروج حاصل ہوسکتا ہے اور یہ فرقہ پرستی ریاست اور ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ اترپردیش میں بی جے پی کو جو کامیابی حاصل ہوئی ہے وہ اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کیلئے نہیں بلکہ ریاست کی ترقی کیلئے ہے ۔ اس سے بی جے پی کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن ابتداء ہی سے اشارہ مل گیا ہے کہ پارٹی ذمہ داریوں کی تکمیل کی بجائے ایجنڈہ کی تکمیل کو ترجیح دینا چاہتی ہے ۔
اب جبکہ آدتیہ ناتھ کا انتخاب کرلیا گیا ہے اور وہ ریاست کے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف بھی لے چکے ہیں تونہ صرف خود ان کی بلکہ بی جے پی کی مرکزی حکومت اور اس کے دوسرے قائدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کو ترجیح دیں۔ ریاست کے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے نہ دیا جائے ۔ ان کی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ ریاست کے عوام نے ترقی کی جس امید میں پارٹی کو اس قدر بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی ہے اس امید کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ ریاست اور ریاست کے عوام کو درپیش مسائل کی یکسوئی کیلئے جدوجہد کی جائے ۔ فرقہ پرستی کے زہر کو سماج میں پھیلنے سے روکا جائے اور جو عناصر سماجی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہوں ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ فرقہ پرستی کی آگ ملک کو ایک بار پھر پسماندگی کی راہ پر لا سکتی ہے جبکہ پارٹی کو اقتدار ترقی کے وعدہ پر حاصل ہوا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT