Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / آدھار دستوری آزمائش میں بھی کامیاب ہوگا، وزیر فینانس کو یقین

آدھار دستوری آزمائش میں بھی کامیاب ہوگا، وزیر فینانس کو یقین

یو پی اے حکومت کے مقابل بہتر تبدیلیوں کے ساتھ آدھار اب زیادہ مفید ، حق رازداری کا تحفظ :ارون جیٹلی

نئی دہلی۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج اعتماد ظاہر کیا کہ آدھار کے متعلق قانون دستوریت کی آزمائش میں کامیاب ہوجائے گا اور کہا کہ اس قانون سازی میں ڈاٹا کے تحفظ اور اس کے غلط استعمال سے روکنے کیلئے معقول حفاظتی گنجائش رکھی گئی ہیں۔ جیٹلی کا تبصرہ یہاں اقوام متحدہ کے زیراہتمام اقتصادی شراکت داری کے موضوع پر منعقدہ اجتماع میں سامنے آیا جبکہ بائیومیٹرک شناختی نمبر آدھار کو حکومتی استعمال کیلئے لازمی بنانے کے خلاف سپریم کورٹ نے قانونی چیلنج بڑھتا جارہا ہے۔ آدھار کو انکم ٹیکس سے جڑا پیان (PAN) سے بھی مربوط کیا جارہا ہے۔ آئندہ سماعت کی تاریخ نومبر میں ہے۔ وزیر فینانس نے کہا کہ آدھار سابقہ یو پی اے حکومت کے مقابل بہتری کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے اور یہ بھی فرق نمایاں ہے کہ اسے سابقہ حکومت نے قانون سازی کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے نے اسے مضبوطی کے ساتھ قانون سازی پر مبنی ڈھال فراہم کی تاکہ ڈاٹا پروٹیکشن اور پرائیویسی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں قانون سازی ضروری ہے اور مواد کو راز میں رکھنے کیلئے درکار اقدامات بھی کئے جارہے ہیں۔ آدھار قانون کو منظوری دی جاچکی ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ دستور کے چوکٹھے میں بھی کامیاب ثابت ہوگا۔ گزشتہ ماہ کے اوائل میں فاضل عدالت کی 9 ججوں پر مشتمل دستوری بینچ نے حق رازداری کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا تحفظ آرٹیکل 21 کے تحت کیا جاتا ہے اور دستور کے پارٹ III کے ذریعہ دی گئی آزادی کی ضمانت کا یہ حصہ ہے۔

جیٹلی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلہ میں واجبی تحدیدات کے تعلق سے بات بھی کہی ہے جبکہ رازداری کے معاملے کو دستور کے آرٹیکل 21 کے تحت اہم دستوری ضمانت کے طور پر برقرار بھی رکھا ہے۔ پرائیویسی کے بارے میں بعض شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ یہ چیزیں قانون کی مطابقت میں ہونا پڑے گا۔ ان میں معقولیت ہونا چاہئے اور بعض مثالی تحدیدات قومی سلامتی کے عظیم تر مفاد میں ہے، یا پھر جرم کا پتہ چلانے کے مقاصد کیلئے ہے یا سماجی فوائد پہنچانے کا مقصد بھی ہوسکتا ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ تیسری کسوٹی بہت سوجھ بوجھ کے ساتھ رکھی گئی ہے کیونکہ وہی بنیادی مقصد ہے جس کے لئے اس کی شروعات ہوئی اور زائد از ایک بلین آدھار نمبرس تشکیل دیئے گئے ہیں جنہیں زائد از ایک بلین بینک کھاتوں اور موبائیل فون نمبروں کے ذریعہ مربوط کیا گیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مخصوص ٹارگٹ کے بغیر سبسڈی کے نتیجہ میں وسائل ضائع ہوتے ہیں اور کہا کہ جب آپ شناخت پر مبنی نیٹ ورک تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں تو پھر یقینی ہوجاتا ہے کہ سماجی فوائد آبادی کے تمام گوشوں تک پہونچیں گے جن کیلئے ریاستوں کے وسائل کو خصوصیت کے ساتھ مختص کیا گیا ہے۔ اقتصادی معاملہ میں تمام طبقات کو شامل کرنے اور سب کی ترقی کو یقینی بنانے کے تعلق سے جیٹلی نے کہا کہ 30 کروڑ خاندانوں نے ہندوستان کی سب سے بڑی بینک کھاتہ کھولنے کی مہم شروع ہونے کے بعد سے اپنے جن دھن بینک کھاتے حاصل کرلئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT