Wednesday , October 18 2017
Home / ہندوستان / آدھار معاملہ وسیع تر بنچ سے رجوع کرنے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

آدھار معاملہ وسیع تر بنچ سے رجوع کرنے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

نجی معاملات کو بنیادی حق تصور کیا جائے یا نہیں، مختلف نکات نظر اور سابقہ عدالتی فیصلوں کا حوالہ

نئی دہلی ۔ 6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی جانب سے تمام شہریوں کو آدھار کارڈس جاری کرنے کے پراجکٹ کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواستوں کو دستوری بنچ سے رجوع کرنے کی اپیل پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا۔ جسٹس جے چلمیشور کی زیرقیادت تین ججس پر مشتمل بنچ نے کہا کہ مرکز نے جو سوالات اٹھائے ہیں، اسے وسیع تر بنچ سے رجوع کیا جانا چاہئے یا نہیں اس بارے میں وہ اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ رازداری کا حق فی الواقع بنیادی حق ہے یا نہیں جس کی دستور ہند کے حصہ سوم میں طمانیت دی گئی ہے۔ انہوں نے ایم پی شرما مقدمہ میں 8 ججس پر مشتمل بنچ کے فیصلہ اور کھرک سنگھ مقدمہ میں 6 ججس کی بنچ کے فیصلہ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حق رازداری کو بنیادی حق تصور کیا جائے تو پھر رازداری کے حقوق کے بارے میں بھی کئی سوالات ابھرتے ہیں۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پنکی آنند نے بھی مرکز کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے ایسے سوالات اٹھائے جنہیں وسیع تر بنچ سے رجوع کیا جانا چاہئے  تاکہ قطعی فیصلہ ہوسکے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں وسیع تر بنچ کے فیصلہ میں یہ کہا گیا تھا کہ حق رازداری کوئی بنیادی حق نہیں ہے۔

بنچ نے جن میں جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس سری ناگپن بھی شامل ہیں، کہا کہ وہ ان تمام سوالات پر غوروخوض کے بعد منگل کو اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ مرکز نے کل آدھار کے خلاف دائر کردہ تمام درخواستوں کو وسیع تر بنچ سے رجوع کرنے کی خواہش کی تھی اور کہا تھا کہ دو ججس یا تین ججس کی بنچ اس پر فیصلہ نہیں کرسکتی۔ تاریخی مقدمات جیسے کے گوپالن، مینیکا گاندھی اور بینکوں کو قومیانے پر فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک سرکردہ لا آفیسر نے کہا کہ بعض بنیادی حقوق کی ترجمانی صرف وسیع تر بنچ ہی کرسکتی ہے۔ روہتگی نے یہ کہا کہ سپریم کورٹ نے کافی عرصہ پہلے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ نجی معاملات بنیادی حقوق نہیں ہوسکتے۔ تاہم بعدازاں عدالتوں کی چھوٹی بنچس نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نجی معاملات ایک بنیادی حق ہے اور اس ضمن میں دستور کی دفعہ 21 (حق زندگی) کا حوالہ دیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے اس معاملہ کو وسیع تر بنچ سے رجوع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 8 اور بعدازاں 6 ججس پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ نجی معاملات بنیادی حق نہیں ہے۔ قبل ازیں حکومت نے اس درخواست کی بھی مخالفت کی جس میں حکومت، ریزرو بینک اور دیگر کے خلاف تحقیر عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی خواہش کی گئی تھی جو مختلف اسکیمات کیلئے آدھار کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT