Saturday , July 29 2017
Home / ہندوستان / آدھار کے لزوم پر سپریم کورٹ بنچ کی منگل سے دو روزہ سماعت

آدھار کے لزوم پر سپریم کورٹ بنچ کی منگل سے دو روزہ سماعت

نئی دہلی ۔ 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اس کے پانچ ججوں کی دستوری بنچ کا 18 اور 19 جولائی کو اجلاس ہوگا، جس میں شخصی رازداری کے پہلوؤں کے بشمول آدھار سے متعلق مختلف امور و مسائل پر سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ڈی وائی چندراجوڑ پر مشتمل بنچ سے یہ مسئلہ رجوع کیا گیا تھا، جس نے کہا کہ اس کے پانچ ججوں پر مشتمل دستوری بنچ، آدھار سے متعلق معاملات پر سماعت کرے گی۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال اور ایک سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان نے مختلف سرکاری فلاحی اسکیموں سے استفادہ کیلئے آدھار کو لازمی بنانے مرکزی حکومت کے اقدام کو چیلنج کرنے والے درخواست گذاروں کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے مشترکہ طور پر بنچ سے اس مسئلہ کو رجوع کیا اور درخواست کی کہ دستوری بنچ کی جانب سے اس پر عاجلانہ سماعت کی جائے۔ وینو گوپال اور دیوان سے دریافت کیا کہ آیا یہ مسئلہ سات ججوں کی دستوری بنچ سے رجوع کیا جائے، دونوں فریقوں نے کہا کہ پانچ ججوں کی بنچ کو اس کی سماعت کرنا چاہئے۔ جسٹس چلمیشور نے جو اس معاملہ کی آخری سماعت کے موقع پر تین ججوں کی بنچ کی قیادت کررہے تھے، کہا تھا کہ ’’میرا نظریہ ہیکہ کوئی مسئلہ ایک مرتبہ کسی دستوری بنچ سے رجوع کیا جاتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والے دیگر مسائل بھی دستوری بنچ کی طرف سے ہی نمٹے جائیں۔ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ 9 ججوں کی بنچ کی طرف سے اس معاملہ کا تصفیہ کیا جائے‘‘۔ عدالت عظمیٰ کے دو ججوں کی بنچ نے 27 جون کومرکزی اعلامیہ کے خلاف عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس اعلامیہ کے ذریعہ سرکاری فلاحی اسکیموں سے استفادہ کیلئے آدھار کو لازمی بتایا گیا تھا۔ بنچ نے اس تاثر کا اظہار کیا تھا کہ محض درخواست گذاروں کے ظاہر کردہ اس اندیشہ پر کہ آدھار کے نہ ہونے کی صورت میں کوئی مستحق مختلف سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم ہوسکتا ہے بالخصوص ایسے وقت جب ایسا کوئی متاثرہ شخص بھی بنچ کے روبرو حاضر نہیں ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT