Wednesday , October 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / آرمور کو ریونیو ڈیویژن کا درجہ، حکومت کے احکام

آرمور کو ریونیو ڈیویژن کا درجہ، حکومت کے احکام

دیرینہ مطالبہ کی تکمیل، چیف منسٹر و ڈپٹی چیف منسٹر سے رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی کا اظہار تشکر

آرمور۔/16ڈسمبر( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ ریاستی حکومت نے آرمور کو ریونیو ڈیویژن کی حیثیت سے درجہ دیتے ہوئے احکامات جاری کیا۔ رکن اسمبلی آرمور جیون ریڈی کی اطلاع کے بموجب پرنسپل سکریٹری بی آر مینا نے جی او نمبر 566 کو جاری کرتے ہوئے آرمور، بالکنڈہ دونوں حلقہ کے 8 منڈلوں پر مشتمل ریونیو ڈیویژن کی حیثیت سے نیا ریونیو ڈیویژن قائم کیا ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے آرمور ریونیو ڈیویژن کی حیثیت سے درجہ دینے کیلئے نمائندگیاں کی جارہی تھی ۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نے انتخابات کے موقع پر ٹی آرایس حکومت اقتدار میں آنے کے بعد آرمور کو ریونیو ڈیویژن کی حیثیت سے درجہ دینے کا اعلان کیا تھا جبکہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی چند دنوں قبل آرمور دورہ کے موقع پر تیقن دیا تھا کہ آرمور کو ریونیو ڈیویژن میں شامل کیا جائے گا اور اسی کے تحت کل جی او جاری کرتے ہوئے نندی پیٹھ، ماکلور، آرمورکے علاوہ بالکنڈہ حلقہ کے ویلپور، بالکنڈہ، موڑتاڑ، بھیمگل، کمرپلی منڈلوں کو آرمور ریونیو ڈیویژن کی حیثیت سے منتخب کیا گیا۔ اس کے علاوہ نظام آباد ریونیو ڈیویژن میں واقع نوی پیٹھ منڈل کو بودھن ریونیو ڈیویژن میں تبدیل کیا گیا۔ آرمور نظام آباد ڈیویژن میں تھا اور نظام آباد ریونیو ڈیویژن کے علاقہ میں 14 منڈلس تھے جن میں نظام آباد، ڈچپلی، نندی پیٹھ، ماکلور، آرمور، بالکنڈہ، ویلپور، کمر پلی، بھیمگل، موڑتاڑ، جکران پلی، سرکنڈہ، درپلی، نوی پیٹھ منڈل تھے لیکن آرمور اور بالکنڈہ کی عوام کو نظام آباد دور ہونے کے علاوہ ترقیاتی کام متاثر ہونے کی وجہ سے گذشتہ 20سال سے ریونیو ڈیویژن کی حیثیت سے تبدیل کرنے کیلئے مسلسل مطالبہ کیا جارہا تھا۔ لیکن متحدہ ریاست میں اس خصوص میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے تھے۔ رکن اسمبلی آرمور جیون ریڈی اس پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو  اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا فیصلہ عوام کیلئے بے حد فائدہ مند ثابت ہوگا۔ حکومت کے اعلان کے بعد آرمور  ٹی آرایس قائدین نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مٹھائی تقسیم کی۔ رکن اسمبلی آرمور نے اپنے مکان پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ آرمور کو ریونیو ڈیویژن میں شامل کیا جانا میری اور یہاں کے عوام کی بہترین کامیابی ہے۔ حلقہ اسمبلی آرمور کی ترقی کیلئے 1400 کروڑ روپئے فنڈس منظور کروائے لیکن ریونیو ڈیویژن کا انتخاب اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عوام کو آر ڈی او دفتر کو کام کیلئے نظام آباد جانے کی ضرورت تھی۔ نظام آباد کمرپلی سے تقریباً 60کلو میٹر کے فاصلے پر تھا جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ریونیو ڈیویژن کے دفتر کو آرمور تحصیلدار دفتر کے قریب تعمیر کیا جائے گا۔ ڈیویژن کے دفتر اور دیگر سہولیات کیلئے 40 کروڑ روپئے بجٹ مختص ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT