Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / آر ایس ایس ، افواہیں پھیلانے والی تنظیم

آر ایس ایس ، افواہیں پھیلانے والی تنظیم

تاریخ کو مسخ کر کے نئی نسل کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش : جئے پال ریڈی
l      جب قوم انگریزوں کے خلاف لڑ رہی تھی
تب آر ایس ایس اس کا ایجنٹ بنی ہوئی تھی
l     بی جے پی میں کوئی مجاہد آزادی نہیں
حیدرآباد ۔ 5 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے سینئیر قائد و سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی نے آر ایس ایس کو انگریزوں کا ایجنٹ اور بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کو گجرات کی گلی کا لیڈر قرار دیتے ہوئے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ کانگریس کے قائد سردار پٹیل سے رشتہ جوڑتے ہوئے انہیں اپنا ماموں قرار دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ حیدرآباد کا پولیس ایکشن یا کشمیر کا آزادانہ موقف یا پھر اکھنڈ بھارت نہرو ۔ پٹیل اور اس وقت کی کابینہ کا مشترکہ فیصلہ تھے ۔ لیکن بی جے پی سردار پٹیل کی ستائش کرتے ہوئے نہرو کی توہین کررہی ہے۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نائب صدر ملو روی بھی موجود تھے ۔ جئے پال ریڈی نے کہا کہ جواہر لعل نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کانگریس کی دونوں آنکھیں تھیں آپریشن پولو حیدرآباد کا انضمام ہندوستانی مملکت کشمیر کا موقف ملک کے چھوٹے بڑے تمام راجہ مہاراجہ ، راجوڑوں کی ہندوستانی مملکت میں شمولیت تمام نہرو پٹیل اور اس وقت کی مرکزی کابینہ کے مشترکہ فیصلے تھے ۔ لیکن آج بی جے پی کے تمام قائدین سردار پٹیل کو ہیرو اور جوہر لعل نہرو کو ویلن کی طرح پیش کررہے ہیں ۔ آر ایس ایس کے اصلی معنی ( رومرس اسپریڈنگ سوسائٹی ) افواہیں پھیلانے والی تنظیم ہے ۔ تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جب گاندھی جی نے ہندوستان چھوڑدو تحریک کا نعرہ دیا تھا ۔ اس وقت بھارتیہ جن سنگھی کے سربراہ موجودہ بی جے پی کے نظریاتی گرو شیام پرساد مکھرجی برٹش گورنمنٹ میں وزیر تھے ۔ ملک کے سارے عوام انگریزوں کے خلاف لڑ رہے تھے ۔ اس وقت آر ایس ایس انگریزوں کی ایجنٹ بنی ہوئی تھی ۔ اس وقت شیام پرساد مکھرجی نے اکھنڈ بھارت کی مخالفت کی تھی کیوں کہ یونائٹیڈ بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور انہوں نے بنگال ہندوؤں کا نعرہ دیا تھا ۔ وہ خود پاکستان کے قیام کے حامی تھے ۔ کانگریس پارٹی تقسیم ہند کی مخالف تھی ۔ لیکن اس وقت حالت اور مجبوریوں کے تحت اس کو قبول کرنا پڑا ۔ پاکستان کے خلاف کانگریس نے ہی جنگ کی تھی ۔ اس وقت کئی ممالک بشمول امریکہ ، روس ، چین ، انگلینڈ کے علاوہ دوسرے ممالک جنگ کے خلاف تھے ۔ سفارتی تعلقات اور مصلحت پسندی کے تحت ہندوستان نے جنگ بندی سے اتفاق کیا ۔ مقبوضہ کشمیر کے لیے اس وقت کئی مسائل تھے ۔ کانگریس کے کئی قائدین نے آزادی کے لیے جیل کی صعوبتیں برداشت کی ۔ بی جے پی کا کوئی ایک لیڈر بھی جیل نہیں گیا ۔ سردار پٹیل اور نہرو کے درمیان خط و کتابت ہوا کرتی تھی ۔ نہرو نے پٹیل کی کسی رائے سے اختلاف نہیں کیا ۔ سردار پٹیل ملک کے پہلے نائب وزیراعظم کے ساتھ وزیر داخلہ تھے اہم قلمدان انکے پاس تھا اس لیے وہ ہر معاملے میں شامل رہے ۔ مگر انہوں نے کوئی بھی تنہا فیصلہ نہیں کیا ۔ جس طرح آج بی جے پی کے قائدین پیش کرتے ہوئے نوجوان نسل کو گمراہ کررہے ہیں ۔ واجپائی کے پسندیدہ قائد نہرو تھے ۔ پاکستان کے ساتھ سرجیکل اسٹرائیک کا بی جے پی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے ملک کو مشکلات سے دوچار کر رہی ہے ۔ جبکہ وہ یو پی حکومت میں وزیر تھے اس وقت پاکستان کے خلاف تین سرجیکل حملے کئے گئے تھے ۔ یہ حساس مسئلہ ہے کانگریس نے اس کو سیاسی مسئلہ نہیں بنایا ۔ بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی تشکیل کے بعد کشمیر کے حالات خراب ہوگئے ہیں ۔ بی جے پی میں کوئی مجاہد آزادی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی قائد جیل گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT