Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / آر ایس ایس دفتر کے قریب دہلی پولیس کا احتجاجیوں پر ظلم

آر ایس ایس دفتر کے قریب دہلی پولیس کا احتجاجیوں پر ظلم

روہت ویمولہ کی موت کیخلاف مظاہرہ کرنے والی طالبات سے بدسلوکی ، سوشیل میڈیا پر ویڈیو
نئی دہلی۔ یکم فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی پولیس کو آج ایک ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد پریشان کن صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا جس میں مرد پولیس کانسٹبلس کو دانستہ طور پر احتجاجیوں بشمول خواتین پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ احتجاجی دلت اسکالر روہت ویمولہ کی موت کے خلاف آر ایس ایس ہیڈآفس کے قریب احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے۔ یہ ویڈیو سوشیل میڈیا پر انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل گیا جس کے بعد شدید عوامی ردعمل بھی سامنے آیا۔ دو جرنلسٹس نے الزام عائد کیا کہ 30 جنوری کو احتجاج کے دوران پولیس نے انہیں بھی زدوکوب کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاجیوں پر پولیس کی یہ کارروائی بلااشتعال تھی۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار سے جب ویڈیو کے بارے میں پوچھا گیا کہ انہوں نے کہا کہ اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے پولیس عہدیدار اس ویڈیو کی جانچ کررہے ہیں ، ساتھ ہی مقام احتجاج پر موجود پولیس کی جانب سے کی گئی ویڈیو گرافی کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ 30 سیکنڈ کی اس کلپ میں پولیس کے علاوہ دیگر چند افراد کو بھی جو یونیفارم میں نہیں ہیں، ایک نوجوان کو زدوکوب کرتے دکھایا گیا ہے۔ ایک کانسٹبل کو خاتون کے سَر کے بال پکڑ کر اسے زمین پر گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا۔ عام آدمی پارٹی دہلی کنوینر دلیپ پانڈے نے اس ویڈیو پر شدید تنقید کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’’ہندوستانی سیاست میں کتنی گراوٹ آگئی ہے۔ مرد کانسٹبلس اب خاتون احتجاجیوں کو زدوکوب کررہے ہیں۔ آر ایس ایس کا رکن بھی اس ظلم میں دہلی پولیس کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں‘‘۔ دہلی کمیشن فار ویمن کی صدرنشین سواتی ملیوال نے کہا کہ یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے احتجاجی مظاہرین کو قابو میں کرنے کیلئے خاتون کانسٹبلس کی غیرموجودگی کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار سوشیل جسٹس نے یہ احتجاج منظم کیا تھا۔ اس دوران زدوکوب کا نشانہ بننے جرنلسٹ نے کہا کہ وہ احتجاجی مظاہرہ کے رپورٹنگ کیلئے وہاں گئے تھے لیکن دہلی پولیس نے ان پر بھی حملہ کردیا اور ان کا کیمرہ چھین لیا۔ ان ملازمین پولیس کا رویہ انتہائی جارحانہ تھا کیونکہ وہ ریالی کے پیچھے سے فلمبندی کررہے تھے۔ مرد پولیس عملہ نے طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی، انہیں گھسیٹا اور پیچھے کی طرف ڈھکیل دیا۔ وہ ان مناظر کو کیمرہ میں قید کررہے تھے کہ پولیس نے ان پر حملہ کردیا۔ ان کے ساتھ موجود فوٹو جرنلسٹ نے بھی جو احتجاج کا کوریج کررہے تھے، بتایا کہ پولیس نے ان کا کیمرہ چھین لیا اور انہیں زدوکوب کیا۔

TOPPOPULARRECENT