Tuesday , May 23 2017
Home / Top Stories / آر ایس ایس کا سیاست میں کوئی کردار نہیں

آر ایس ایس کا سیاست میں کوئی کردار نہیں

آدتیہ ناتھ کے چیف منسٹر بننے کے بعد اعلان ‘ مغربی بنگال میں جہادی حملوں میں اضافہ پر تبادلہ خیال
کوئمبتور۔19مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) ان قیاس آرائیوں کے پس منظر میں کہ آر ایس ایس نے یوگی آدتیہ ناتھ کو چیف منسٹر یو پی کا امیدوار بنایا ہے ‘ آر ایس ایس نے آج کہا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے اور آر ایس ایس کا چیف منسٹروں کے انتخاب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بی جے پی اپنی زیرقیادت ریاستوں کا چیف منسٹر اپنی مرضی سے مقرر کرتی ہے ۔ آر ایس ایس کی جانب سے آدتیہ ناتھ کے انتخاب پر سوال کا جواب دیتے ہوئے آر ایس ایس کے جوائنٹ جنرل سکریٹری بھاگیا نے کہا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا اور آر ایس ایس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس چیف منسٹروں کے انتخاب کیلئے بی جے پی پر کوئی دباؤ نہیں ڈالتی ۔ پجاری سے سیاستداں بننے والے یوگی آدتیہ ناتھ سخت گیر ہندو توا کی متنازعہ علامت ہیں ‘ انہیں کل یو پی کا آئندہ چیف منسٹر نامزد کیا گیا ۔ بی جے پی کے اس اقدام نے کئی افراد کو حیرت زدہ کردیا ۔ ریاستی بی جے پی کے صدر کیشو پرساد موریا جو خود بھی چیف منسٹری کے دعویدار تھے اور دنیش شرما کو ڈپٹی چیف منسٹرس مقرر کیا گیا ہے ۔ افواہیں گرم ہیں کہ یہ انتخاب آر ایس ایس کی بناء پر کیا گیا ہے ۔ جوائنٹ جنرل سکریٹری بھاگیا نے اکھل بھارتیہ پرتی نیدھی سبھا ( آر ایس ایس کی مجلس عاملہ ) مغربی بنگال میں جہادیوں کے حملوں میں اضافہ پر تشویش میں مبتلا ہے اور وہ ان حملوں کی خاموش تماشائی بنی نہیں رہ سکتی ۔

جہادیوں کی خوشامد کیلئے ریاستی حکومت اسلامی بنیاد پرستوں کے حملوں کو نظرانداز کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی قومی مجلس عاملہ اس پر تبادلہ خیال کرے گی ۔ اس مسئلہ پر تین روزہ آر ایس ایس کے اجلاس میں مباحث کے بعد ایک قرار داد منظور کی جائے گی اور مرکز کو روانہ کی جائے گی تاکہ سماج پر جہادی حملوں کے انسداد کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ مغربی بنگال حکومت کو چاہیئے کہ بنیاد پرستوں کو قابو میں رکھے ۔ بھاگیا نے الزام عائد کیا کہ ترنمول کانگریس حکومت کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے اور ان حملوں کی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ سماج کو دہشت گردی اور ان حملوں سے بچانے کے بجائے وہ جہادیوں کی خوشامد کے لئے ان حملوں میں ملوث ہورہی ہے ۔ یہاں تک کہ جہادیوں نے عوام کو سرسوتی پوجا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی اور انہیں میلادالنبیؐ منانے کیلیء مجبور کیا ۔ اس قسم کے جہادی حملے قومی سلامتی اور مفادات پر بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں ۔ آر ایس ایس کارکنوں کی سی پی آئی ایم کے ہاتھوں کیرالا میں ہلاکت پر بھی انہوں نے اظہار تشویش کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT