Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / آر ایس ایس کی مددکیلئے مسلم رکن پارلیمنٹ نے مہرہ کا رول ادا کیا

آر ایس ایس کی مددکیلئے مسلم رکن پارلیمنٹ نے مہرہ کا رول ادا کیا

بھارت ماتا کی جئے نعرہ کی تائید و مخالفت سازشیوں کی میچ فکسنگ : فرحت خان
حیدرآباد۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) ہندوستانی عوام، آر ایس ایس کے نظریات سے بہت اچھی طرح سے واقف ہیں جو سماجی اعتبار سے ہندومت کے ماننے والوں کی اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والے اقتدار کے لالچی گروپ کا تیار کردہ نظریہ ہے اور اس نظریہ کے خلاف اب ہندوستان کے عوام بالخصوص دلت اور مسلمان اُٹھ کھڑہوگیاہے۔روہت ویمولہ کی موت اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی میں کنہیا کمار، عمر خالد  اور انیربن بھٹاچاریہ کے خلاف کی گئی کارروائی سے پیدا شدہ صورتِ حال آر ایس ایس و ہندوتوا نظریہ کے لئے خطرناک ثابت ہونے لگی تھی۔ ان واقعات میں ملک میں آر ایس ایس کے نظریات کے خلاف ایک نیا محاذ تیار کرلیا ہے جس سے توجہ ہٹاتے ہوئے ملک کو مذہبی خطوط پر منقسم کرنے کی کوشش کے تحت ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ شروع کردیا گیا اور رکن پارلیمان حیدرآباد اسدالدین اویسی، آر ایس ایس کی بچھائی گئی بساط کے پیادہ کے طور پر اس کی مخالفت کرتے ہوئے زعفرانی تنظیم کو اپنے مقصد میں کامیاب کرنے کی راہ ہموار کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اگر کوئی زعفرانی ٹولے کی مدد کرتاہے تو وہ اس کی مرضی ہے لیکن اپنی غلطیوں سے سارے ملک کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوئی بھی کوشش ملت اسلامیہ کیلئے ناقابل برداشت ہوگی۔ ترجمان مجلس بچاؤ تحریک جناب مجیداللہ خاں فرحت انجینئر نے آج جاری کردہ ایک بیان میں یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ آر ایس ایس کا مقصد بنیادی طور پر اکثریتی طبقہ کو اُلجھن کا شکار بنائے رکھنا ہے اور اس کے لئے سب سے بڑا چیلنج معمارِ دستور ہند ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے نظریات کو ماننے والے دلت ہیں، اس کے علاوہ بائیں بازو کی تنظیمیں، سوشلسٹ رام منوہر لوہیا، سیکولر طاقتیں، انسانیت نواز اور قوم پرست ہیں جو آر ایس ایس کو ملک میں فروغ حاصل کرنے سے روک رہے ہیں۔ آر ایس ایس کے ایجنڈہ کو انہوں نے ’’فاشسٹ ایجنڈہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ایجنڈہ کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو دَبانے کیلئے جو اِسکرپٹ تیار کی تھی، اس اسکرپٹ کے نتیجہ میں ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا مسئلہ اس قدر تیز ہوا ہے کہ حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے میں کامیابی حاصل کرلی گئی۔       ( سلسلہ صفحہ 8 )

TOPPOPULARRECENT