Thursday , August 17 2017
Home / اضلاع کی خبریں / آر کے انجیئرنگ کالج کے طلباء کو فیس بازادائیگی میں تاخیر

آر کے انجیئرنگ کالج کے طلباء کو فیس بازادائیگی میں تاخیر

بودھن /8 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع نظام آباد میں واقع ایک مسلم میناریٹی انجینئیرنگ کالج کے طلبہ کے ساتھ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کی ناانصافی پر برہم طلبہ کی کثیر تعداد نے آج ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے ہفتہ واری سرکاری پروگرام پرجاوانی سے طلبہ رجوع ہوئے اور طلبہ نے ضلع کلکٹر نظام آباد کو اپنے مسائل پر مبنی یادداشت پیش کی ۔ جس میں طلبہ نے DMWO نظام آباد مسٹر پریم کمار پر الزام عائد کیا کہ ان کی جانب داری کے باعث ضلع نظام آباد کو منظورہ فیس باادائیگی کا بجٹ سوائے مسلم میناریٹی انجینئیرنگ کالج کے دیگر تمام کالجس کو تقسیم کردیا گیا ۔ چارسالہ انجینئیرنگ کورس مکمل کرنے والے مسلم طلبہ کو ان کی سال آخر کی فیس نہ ملنے کی وجہ سے انکا تعلیمی ادارہ اسناد حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ طلبہ نے بتایا کہ وہ اتنی خطیر رقم نقد ادا کرنے کے قابل نہیں ہے ۔ طلبہ نے کلکٹر کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے ضلع نظام آباد میں زیر تعیلم طلبہ کی فیس بادایگی کیلئے حال ہی میں 77 لاکھ روپئے رقم کی اجرائی عمل میں آئی ۔ DMWO نظام آباد نے سوائے آر کے انجینئیرنگ کالج بودھن کے ضلع میں موجود تقریباً تمام کالجس کے طلبہ کو فیس بادائیگی کی رقم جاری کردی ۔ ضلع کلکٹر کی عدم موجودگی پر آج ایڈیشنل جوائنٹ کلکٹر مسٹر راجہ رام نے انجینئیرنگ کالج کے طلبہ کے مسائل کی شنوائی کی اور پرجاوانی پروگرام میں موجود انچارج DMWO مسٹر پریم کمار کو سہ نشین کے قریب طلبہ کے AJC نے طلبہ کی شکایتوں کا برسر موقع ازالہ کردینے کی ہدایت دی ۔ طلبہ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا پریم کمار نے فوری طور پر کوئی جواب نہ دے سکے ۔ انہوں نے دفتر محکمہ اقلیتی بہبود میں موجود آفس سپرنٹنڈنٹ جناب صوفی سے رجوع ہونے کی طلبہ سے خواہش کی ۔ طلبہ نے DMWO آفس پہونچکر تقریباً ایک گھنٹہ تک آفس سپرنٹنڈنٹ کا گھیراؤ کیا ۔ جناب صوفی نے آج متعلقہ کلکٹر غیر حاضر ہونے کا عذر پیش کرتے ہوئے طلبہ سے ان کے مسائل سے ہیڈ آفس حیدرآباد کو واقف کرنے کا تیقن دیا اور اندرون دو دنوں میں فیس بادائیگی کی رقم کی آحری قسط کی اجرائی کے تعلق سے طلبہ کو تاریخ سے واقف کرنے کا تیقن دیا ۔ قبل ازیں آج صبح طلبہ کی کثیر تعداد ضلع کلکٹر آفس کی طرف بڑھتے ہوئے دیگر پولیس نے طلبہ کو روک دیا تھا ۔ طلبہ کے بے حد اصرار پر صرف 7 طلبہ کو سیکوریٹی آفیسر کی نگرانی میں ضلع کلکٹر کے سامنے پیش کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT