Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / آزادی کے 68سال بعد بھی ہندوستان میں خواتین غیر محفوظ

آزادی کے 68سال بعد بھی ہندوستان میں خواتین غیر محفوظ

بزم جوہر کے مذاکرے سے ڈاکٹر مجید بیدار ، ڈاکٹر ناظم علی، مسعود فضلی، ڈاکٹر راہی کا خطاب
حیدرآباد۔/9اپریل، ( پریس نوٹ ) آزادی کے 68سال بعد بھی ہندوستان میں خواتین غیر محفوظ ، اسلام نے جو مرتبہ خواتین کو دیا ہے وہ کسی بھی مذہب میں نہیں ہے، سماج میں مَردوں کو آج بھی برتری حاصل ہے۔ ڈاکٹر مجید بیدار نے 8اپریل کو مسدوسی ہال مغلپورہ میں بزم جوہر کے ماہانہ مذاکرے سے ’ عالمی یوم خواتین اور ہندوستان‘ کے زیر عنوان خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ یوروپی ممالک میں خواتین کوکوئی حقوق حاصل نہیں ہیں اور نہ کسی قسم کے تحفظات حاصل ہیں۔ 1913 تک تو وہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق بھی حاصل نہیں تھا۔ ڈاکٹر ناظم علی سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج نظام آباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام حجاب کے ذریعہ خواتین کو مکمل تحفظ عطا کرتا ہے۔ ڈاکٹر م ق سلیم وائس پرنسپل شاداں کالج نے کہا کہ بین المذاہب شادیوں کو انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں رواج دیا تھا۔ ڈاکٹر نادرالمسدوسی نے کہا کہ کسی بھی یوم کو منانے کی اجازت نہیں اسلام کا نظام ساری انسانیت کیلئے مفید ہے۔ جناب مسعود فضلی صدر انجمن ترقی اردو نے کہا کہ حکومت 33فیصدی تحفظات کی باتیں اور وعدے ضرور کرتی ہے لیکن قانونی طور پر اس کی عمل آوری کیلئے مخلص نہیں ہے۔ ڈاکٹر راہی نے اپنے کلیدی نوٹ سے مذاکرہ کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی بے حرمتی اور اجتماعی جبری توہین پھر اس کے بعد ان کے قتل کے ذمہ داروں کو پھانسی سرعام دینے کا قانون منظور کرنا چاہیئے۔ ڈاکٹر عباس متقی کی صدارت میں مشاعرہ ہوا، ڈاکٹر غیاث عارف، سمیع اللہ سمیع، ڈاکٹر سلیم عابدی، ڈاکٹر راہی، ڈاکٹر نادرالمسدوسی، انیس احمد انیس، ڈاکٹر فرید صادق، جہانگیر قیاس، یوسف روش، باقر تحسین ، سید رضا منظور اور روبینہ شبنم بختیار نے کلام سنایا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT