Thursday , August 24 2017
Home / سیاسیات / آزاد کیخلاف آر ایس ایس، بی جے پی کا شدید ردعمل

آزاد کیخلاف آر ایس ایس، بی جے پی کا شدید ردعمل

دہشت گرد تنظیم سے تقابل کے ریمارکس سے دستبرداری کا مطالبہ
نئی دہلی ، 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے آج آر ایس ایس اور دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے درمیان تقابل کیا، جس پر ہندوتوا تنظیم اور بی جے پی کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا، جنھوں نے اُن سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر نے جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتمام ایک جلسہ میں کہا: ’’ہم آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیموں کی اُسی طرح مخالفت کرتے ہیں جیسے ہم آر ایس ایس کے مخالف ہیں۔ اگر اسلام میں ہم میں سے بھی کوئی غلط کام کریں تو وہ آر ایس ایس سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔‘‘ اس پر جوابی وار کرتے ہوئے آر ایس ایس ترجمان نے ناگپور میں جہاں اس تنظیم سے وابستہ لوگوں کی اہم میٹنگ جاری ہے، کہا کہ اس طرح کے تقابل سے کانگریس کا ’’عقلی دیوالیہ پن‘‘ اور کٹرپسند و ظالم قوتوں جیسے آئی ایس آئی ایس سے نمٹنے میں اس کی عدم آمادگی کا اظہار ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس آزاد کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کرے گی۔ بی جے پی بھی فوری اپنی نظریاتی سرپرست کے دفاع میں آگے آتے ہوئے اسے قوم پرست تنظیم قرار دیا اور آزاد سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی نیشنل سکریٹری سریکانت شرما نے کہا کہ یہ ’’بدبختانہ‘‘ ہے کہ آزاد نے اس طرح کا تبصرہ کیا ہے اور سربراہ کانگریس سونیا گاندھی سے آزاد کے ریمارکس سے لاتعلقی ظاہر کرنے اور اگر وہ ان سے دستبردار نہ ہوں تو اُن کے خلاف کارروائی بھی کرنے پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ متعدد کانگریس قائدین بشمول جواہر لعل نہرو اور راجیو گاندھی نے اس تنظیم کو کچلنے کی کوشش کی لیکن یہ تو ’’زیادہ طاقتور‘‘ ہوکر ابھرتی رہی ہے۔ بی جے پی نے آج ہی کے ایونٹ کیلئے سونیا گاندھی کے اس تحریری پیام کو ’’سیاسی مقصدبراری پر مبنی‘‘ بھی قرار دیا کہ ملک ’’نازک مرحلے‘‘ سے گزر رہا ہے کیونکہ برسراقتدار لوگ سکیولرازم کو نشانہ بناکر ’’نفرت پھیلا رہے‘‘ ہیں۔ شرما نے کہا کہ کانگریس سربراہ اس روایت کے مغائر بول رہی ہیں جس پر خود اُن کی پارٹی نے ہمیشہ عمل کیا ہے۔ کانگریس نے قوم کو ذات پات، مذہب اور علاقائی خطوط پر تقسیم کیا۔ انھیں بی جے پی کو درس نہیں دینا چاہئے۔ بی جے پی لیڈر نے کانگریس پر سیاسی وجوہات کی بناء قوم دشمن عناصر کی ’’تائید و حمایت‘‘ کا مورد الزام ٹھہرایا، جو جے این یو تنازعہ کا حوالہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT