Thursday , August 24 2017
Home / مضامین / آسام انتخابات مسلمانوں کے سیاسی تدبر کا امتحان

آسام انتخابات مسلمانوں کے سیاسی تدبر کا امتحان

زینت اختر
آسام کی کانگریس قیادت میں موجودہ حکومت کی میعاد اگرچہ امسال جون میں ختم ہورہی ہے لیکن نئی اسمبلی کے لئے انتخابات کا اعلان دو ماہ پہلے ہی کردیا گیا ہے ۔ جس کے تحت صوبہ کی 14 ویں اسمبلی منتخب کرنے کیلئے 4اور 11 اپریل کو دو مرحلوں میں رائے دہی کا انعقاد عمل میں آئے گا ۔بہرحال یہ انتخابات حکمراں کانگریس سے زیادہ ریاست کے 35 فیصد سے زائد مسلمانوں کے لئے سخت آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان کے لئے آزمائش اس لئے بڑھ گئی ہے کہ ایک طرف کانگریس ہے تو دوسری طرف مولانا بدرالدین اجمل کی آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ ( اے آئی یو ڈی ایف ) ان دونوں جماعتوں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کا راست فائدہ فرقہ پرست تنظیموں کو مل سکتا ہے جیسا کہ مئی 2014 ء کے پارلیمانی انتخابات میں دیکھنے میں آیا تھا جس کے نتیجہ میں بی جے پی کو خلاف توقع ریاست کے 14 میں سے سات پارلیمانی حلقوں میں کامیابی ملی تھی جو اب اس حساس صوبہ میں قدم جمانے کے لئے تمام تر حربے استعمال کررہی ہے جس کیلئے وہ جانی جاتی ہے۔
تشویش کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں برطانیہ سے مستعار لیا ہوا جو انتخابی نظام رائج ہے ، First Past The Post کہا جاتا ہے ۔اس میں کوئی جماعت یا امیدوار محض ایک تہائی سے بھی کم ووٹ لے کر کامیاب ہوسکتا ہے جیسا کہ بی جے پی کو گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں فقط 31 فیصد ووٹ ملے تھے لیکن وہ آسانی سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ۔ یہی خطرہ آسام میں بھی ہے ۔

وہیں اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ آسام میں مسلمان اس موقف میں ہیں کہ وہ ایک بڑی سیاست قوت بن سکتے ہیںجس طرح جنوبی ہند کی ساحلی ریاست کیرالا میں مسلمان ایک مستحکم سیاسی قوت رکھتے ہیں۔ مزید برآں آسام کے آبادیاتی نقشہ پر نظر ڈالے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنیادی طورپر قبائیلی ریاست ہے جہاں کی تقریباً 40 فیصد آبادی مختلف قبائل پر مشتمل ہے ۔ یعنی ان کا ہندو دھرم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہی ڈر اور خوف فرقہ پرستوں کو ستاتا ہے کہ انتخابی نظام کی کمزوری کے سبب کہیں مسلمان اقتدار پر فائز نہ ہوجائے ۔ چنانچہ صوبہ میں نام نہاد بنگلہ دیشی کے نام پر بنگالی آبادی کو ہراساں کرنے کے مقصد انہیں سیاسی اقتدار سے دور کرنے کی ایک بڑی سازش ہے ۔ اس فتنہ کا آغاز اس وقت ہوا کہ جب پہلی مرتبہ 1978 ء میں منعقدہ اسمبلی کے چھٹے انتخابات میں 17.16 مسلمان منتخب ہوئے ۔ بس کیا تھا کہ آسمان سر پر اُٹھالیا گیا کہ آسام کو ایک ’’اسلامی ریاست ‘‘ میں تبدیل کرنے کیلئے بنگلہ دیشی مسلمانوں کا ایک ریلا چلا آرہا ہے ۔ اس طرح 1979 ء میں فرقہ پرست تنظیموں اور حکومتوں کی درپردہ حمایت سے طلبا کی ایک تحریک کھڑی کی گئی ۔ آل آسام اسٹوڈنٹس یونین نے صدیوں سے آباد بنگالی آبادی کے خلاف پرتشدد اور خونیں مہم چلائی ۔ اس دوران 1983 ء فروری میں آزاد ہندوستان کی تاریخ کا قتل عام کا سب سے بڑا واقعہ پیش آیا ۔ ضلع نوگاؤں کے قریہ نیلی میں موت کا بازار گرم کیا گیا، جس میں تین سے پانچ ہزار لوگوں کو بڑی بیدردی سے قتل کردیا گیا تھا ان میں بچے اور عورتیں اور بوڑھے سب شامل تھے ۔ لیکن اس بہیمانہ قتل عام کے مجرموں کو آج تک کوئی سزا نہیں ملی۔ اس واقعہ کو ایسے دبادیا گیا جیسے کچھ ہوا تھا ہی نہیں ۔ بنگالی مسلمانوں کے خلاف اس مہم چلانے والی آسام اسٹوڈنٹس یونین کے بطن سے نکلی آسام گن پریشد کو بطور انعام اقتدار سونپ دیا گیا۔
اس کے بعد اب تک ’’بنگلہ دیشی دراندازوں‘ کا نام نہاد مسئلہ فرقت پرست جماعتوں کے لئے ایک مجرب سیاسی حربہ بنا ہوا ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے اپنی خو کے مطابق بنگلہ دیشی کارڈ کھیلتے ہوئے ترون گوگوئی کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ اے آئی ڈی یو ایف کے ساتھ سازش کرکے ایک ’’خفیہ منصوبہ‘‘ بنارہی ہے تاکہ آسام کو بنگلہ دیش کا ایک صوبہ بنایا جائے ۔ جب مرکز کی حکمراں جماعت کا سربراہ اس کی طرح کی بے تکی بات کرسکتا ہے تو چھٹ بھیئے نیتاؤں کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بی جے پی ریاست اکائی کے صدر سربانند سونوال نے کہا کہ اگر بی جے پی برسراقتدار آئی تو دس فیصد بنگلہ دیشیوں کو ریاست کی آبادی سے کم کیا جائے گا ۔ تو ان کی پارٹی نے مرکز میں برسراقتدار رہتے ہوئے اب تک اس عمل کو کیوں نہیں کیا؟ سونوال وہی لیڈر ہیں جو آل آسام اسٹوڈنٹس یونین سے وابستہ رہے اور پھر آسام گن پریشد چھوڑکر بی جے پی میں شامل ہوئے جنھیں موی حکومت میں وزیر بنایا گیا ہے ۔ امیت شاہ اور ان سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم مودی نے اپنی پارلیمانی انتخابی مہم کے دوران آسام میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اقتدار میں آنے کی صورت میں آسام سے ایک بھی ’’بنگلہ دیشی ‘‘ کو رہنے نہیں دیا جائے گا۔ وہ اب تک اپنا یہ وعدہ کیوں پورا نہیں کرسکے جبکہ وہ گزشتہ سال بنگلہ دیش کا دورہ کرچکے ہیں وہاں انھوں نے یہ مسئلہ اپنی بنگلہ دیشی ہم منصب کے ساتھ کیوں نہیں اُٹھایا ؟ اسی طرح وزیر خارجہ سشما سوراج بھی ڈھاکہ کا دورہ کرچکی ہیں لیکن انھوں نے بھی وہاں اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بے اصل مسئلہ صرف اور صرف انتخابی مفاد کے لئے اُٹھایا جاتا ہے ۔

دراصل اس کے پشت پر یہی نفسیات کارفرما نظر آتی ہے کہ آسام کے مسلمان ’’شیر بن کر نہ رہیں ۔ ان کے سر پر شہریت کی تلوار لٹکائی گئی ہے ۔ تقریباً پانچ لاکھ بنگالیوں کو مشتبہ یاڈی ووٹر قرار دیدیا گیا ہے ۔ کسی کو مشتبہ ووٹر قرار دینا سراسر غیرآئینی فعل ہے نیز انھیں بار بار تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ اس کی تازہ مثال جولائی 2012 ء میں بوڈو کونسل کے زیرانتظام اضلاع کوکرا جھار اور گوپال پاڑا میں بوڈو انتہاپسندوں کے پرتشدد حملے ہیں جس کے نتیجہ میں تقریباً چار لاکھ افراد کو عارضی کیمپوں میں جان بچاکر پناہ لینی پڑی تھی ۔ قبائیلی بوڈو انتہاپسندوں کے ان حملوں کے فوری بعد دس بنگلہ دیشی ارکان پارلیمان کے ایک وفد نے گوہاٹی کا دورہ کیا تھا اور ایک پریس کانفرنس میں واضح طورپر کہا کہ ہندوستان کی حکومت اور نہ آسام کی حکومت نے کبھی بنگلہ دیشی شہریوں کی موجودگی کا مسئلہ اُٹھایا ۔ خود ریاست کے وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ آسام میں کوئی بنگلہ دیشی نہیں ہے۔ مرکز میں جب بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت تھی تو اس نے سال 2003 ء میں بوڈو لبریشن ٹائیگر س سے ایک معاہدہ کرکے بوڈود علاقائی کونسل قائم کی تھی ۔ یہ معاہدہ ’جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت کے نسلی حکمرانی ( اپارتھیڈ رول ) کی یاد دلاتا ہے کیونکہ جن اضلاع میں یہ کونسل قائم کی گئی ان میں بوڈو قبائل کی تعداد محض 28 فیصد ہے‘‘ ۔ بوڈو کونسل کے جواز کے خلاف گوہاٹی ہائیکورٹ میں دس پٹیشن دائر کی گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک بھی مسلمانوں کی طرف سے نہیں ہے ۔ اسی پس منظر میں بنگالی بولنے والی آبادی نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے 80 کی دہائی میں یونائٹیڈ مائنارٹیز فرنٹ کے نام سے ایک سیاسی تنظیم بنائی تھی لیکن یہ تجربہ باہمی اختلافات کی وجہ سے زیادہ کامیاب نہیں ہوسکا ۔ حالانکہ اسے اسمبلی اور پارلیمنٹ میں قابل ذکر کامیابی ملی تھی ۔ فرنٹ سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمان بیرسٹر ایف ایم غلام عثمانی (مرحوم) اور دیگر لیڈران کانگریس میں چلے گئے ۔

ریاست کے حالات اور کانگریس حکومت کے رویہ سے مایوس ہوکر اکتوبر 2005 ء میں اس تجربہ کا احیاء کیا گیا ۔ صوبہ کی 13 ملی تنظیموں نے ایک نیا سیاسی محاذ آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ کے نام سے تشکیل دیا ۔ اس کی تشکیل میں ایڈوکیٹ عبدالرشید چودھری کا اہم رول رہا لیکن انھوں نے اس کی قیادت قبول نہیں کی کیونکہ کوئی سیاسی جماعت چلانے کیلئے پیسہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔چنانچہ قرعہ فال عود اور عطر کے بڑے تاجر مولانا بدرالدین اجمل قاسمی کے نام نکلا ۔ ان کی قیادت میں فرنٹ ریاست میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت بن گیا اور پارلیمنٹ میں بھی اس کی نمائندگی ایک سے بڑھ کر تین ہوگئی لیکن انھوں نے بہت جلد اسے اپنی خاندانی جماعت بنانا شروع کردیا ۔ بدرالدین کے علاوہ ان کے چھوٹے بھائی سراج اجمل بھی رکن پارلیمان ہیں اور ان کا ایک بیٹا صوبائی اسمبلی کا رکن ہے ۔ یو ڈی ایف پر بڑھتے ہوئے خاندانی تسلط اور مولانا اجمل کی غلط پالیسیوں اور آمرانہ رویہ کے خلاف بے چینی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ جب وہ اسمبلی ارکان شریمن علی اور عطا الرحمن مزار بھوئیاں نے اس غیرجمہوری طریقہ کار کے خلاف آواز اُٹھائی تو مولانا اجمل نے انھیں پارٹی کی رکنیت سے معطل کردیا ۔ ان ارکان کا الزام ہے کہ مولانا اجمل نے وزیراعلیٰ گوگوئی کو نیچا دکھانے کی غرض سے گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں سب حلقوں میں امیدوار کھڑے کرکے بی جے پی کی کامیابی کا راستہ ہموار کیا تھا ۔ اس مرتبہ بھی انھوں نے 126 میں سے 76 اسمبلی نشستوں پر امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا کہ فرنٹ کے بغیر اس دفعہ کوئی حکومت نہیں بناسکے گا ۔ اس دعویٰ کے علی الرغم مولانا اجمل سے آسامی مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ سخت ناراض ہے اور اس بات سے فکرمند ہے کہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کی راہ ہموار نہ ہوجائے ۔ اپنے دورہ آسام میں راقم اس معاملہ پر عام اور خاص ہرطبقہ کی رائے جاننے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ مولانا اجمل کی مقبولیت زوال پذیر ہے ۔ ان پر طرح طرح کے الزامات لگ رہے ہیں ۔ وہ جو فلاحی ادارے چلارہے اور کام کررہے ہیں وہ ان کی کمپنی کی آمدنی کے دو فیصد حصہ سے چلاتے ہیں جسے کمپنی ایکٹ کے تحت خرچ کرنا لازمی ہے ۔ گو آسام میں مسلمان کانگریس سے بھی مطمئن نہیں ہیں ۔ ترقی کے میدان میں مسلم علاقوں کو کیسے نظرانداز کیا جاتا ہے اس کی ایک واضح مثال کریم گنج اور سلچر سے گزرنے والی قومی شاہراہ ہے جو اس بری حالت میں ہے کہ اس پر کسی دیہی راستہ کا گمان ہوتا ہے ۔ راقم یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سڑک کے معاملہ میں یہ امتیاز ہے ، جسے سب استعمال کرتے ہیں تو دیگر معاملوں کا کس طرح کا امتیاز برتا جاتا ہوگا ۔ بہرحال اس وقت مسلمانوں کی ایک سیاسی مجبوری ہے ۔ آسام اور شمال مشرقی ہند کے امیر شریعت مولانا محمد طیب الرحمن نے کہاکہ وہ مسلم ووٹ کو کانگریس اور یو ڈی ایف میں تقسیم نہیں ہونے دیں گے ۔ مسلمانوں کاارتکاز نشیبی آسام اور بارک ویلی میں ہے ۔ امیرشریعت نے بتایا کہ وہ تمام ملی تنظیموں کا ایک اجلاس منعقد کریں گے جس میں کوئی سیاسی لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔ ضلع کریم نگر کے بدر پور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فضل الرحمن لشکر کی بھی رائے ہے کہ یہ انتخابات مسلمانوں کے سیاسی تدبر کا امتحان ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ ریاست میں فرقہ پرست طاقتوں کی پیشرفت کو روکنے کے لئے ہر سطح پر کوشش کی جائے گی ۔ انھوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے ریاست کے تین سو سے زائد مدرسوں کو تسلیم کیا ہے یعنی ان کے اساتذہ کو سرکاری اسکیل کے مطابق تنخواہ ملے گی جہاں دین اور عصری علوم پڑھاے جاتے ہیں ۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے بانی اور چانسلر ڈاکٹر محبوب الحق نے کہاکہ بدرالدین اجمل نے ریاست کے مسلمانوں کو اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے خودمختار اور کفیل بنانے کے لئے کبھی کوشش نہیں کی ۔ وہ قوم کو جاہل اور غریب رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کی بندھوا ووٹر بنی رہے ۔ انھوں نے کہاکہ فرقہ پرستوں کا راستہ روکنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی ۔

مولانا بدرالدین اجمل نے بہار کی طرز پر سیکولر جماعتوں کا ایک عظیم تر اتحاد تشکیل دیا ہے جس میں راشٹریہ جنتادل اور جنتادل ( یو ) شامل ہے لیکن ان دونوں جماعتوں کا وہاں کوئی خاص اثر نہیں ہے ۔ کانگریس کو بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے لیکن اس نے اپنی سیاسی مجبوریوں سے ایسا کرنے سے منع کردیا ہے ۔یو ڈی ایف نے 76نشستوں پر اور باقی نشستیں حلیف جماعتوں کے لئے چھوڑی ہیں ۔ ریاست میں گزشتہ پندرہ سال سے برسراقتدار وزیراعلیٰ ترون گوگوئی (79 سالہ ) اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ان کا تعلق ریاست کے سابق حکمران طبقہ آہوم سے ہے ۔ ادھر بی جے پی نے بوڈو پیپلز فرنٹ اور سابق حکمراں جماعت اے جی پی اور دیگر چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کر رکھا ہے ۔ بوڈو فرنٹ اس سے پہلے کانگریس کی حلیف جماعت تھی۔ اب بھی اس کا ایک دھڑا کانگریس کے ساتھ ہے ۔ خیال رہے آسام کی 126 رکنی موجودہ اسمبلی میں کانگریس کی 78 نشستیں ، اے آئی یو ڈی ایف کی 18 اوربی پی ایف کی 12 نشستیں ہیں ۔ جبکہ آسام گن پریشد کو 16 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا تھا ۔ بقیہ آٹھ نشستوں میں سے پانچ بی جے پی کے پاس ہیں۔
جغرافیائی اعتبار سے صوبہ آسام تین حصوں میں بٹا ہوا ہے ۔ لور ( نشیبی ) آسام جو مغربی علاقہ ہے ، اپّر (بالائی) آسام جو مشرقی علاقہ ہے اور بارک ویلی جو جنوبی علاقہ ہے ۔ بی جے پی کو اپر آسام میں سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے جہاں اس کاووٹ تناسب 13 سے بڑھ کر 45 فیصد ہوگیا تھا اور اس کی وجہ سے اسے یہاں پارلیمان کی چار اضافی نشستیں ملی تھیں۔ اس کامیابی کے نشہ میں بی جے پی نے ’مشن 84‘ کا اعلان کیا تھا لیکن دہلی اور بہار میں ذلت آمیز شکست کے بعد اس مشن کی ہوا نکل گئی ہے ۔ پارٹی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس ریاست گیر نوعیت کا کوئی لیڈر نہیں ہے نہ ہی کوئی عوام کے سامنے اپنی کارکرگی پیش کرنے کا کوئی ٹھوس ثبوت۔
انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق نئے انتخابات میں کسی ایک جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت ملنے کا امکان کم ہے جو حکومت بناسکے جو جماعت یا اتحاد قبائلی آبادی کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگا، اس کے امکانات زیادہ روشن نظر آتے ہیں ۔ ویسے ایک بنگالی ہندو ووٹر مسٹر جوگندر پال نے راقم سے بڑے پتہ کی بات کہی تھی کہ یہاں انتخابات میں اصل مسائل کی بجائے ہندو مسلم مسئلہ کھڑا کردیا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT