Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / آسام میں بی جے پی کو اقتدارسے باہر رکھا جائیگا

آسام میں بی جے پی کو اقتدارسے باہر رکھا جائیگا

انتخابی نتائج کے بعد سیکولر جماعت کے اتحاد کی تشکیل۔ بدر الدین اجمل کا اعلان
گوہاٹی۔/10مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) آسام کے انتخابات میں معلق اسمبلی وجود میں آنے کی صورت میں ’’ بادشاہ گر ‘‘ کا رول ادا کرنے کے روشن امکانات کے پیش نظر آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ بدر الدین اجمل نے کانگریس، اے جی پی، بی پی ایف اور دیگر جماعتوں پر مشتمل ایک سیکولر فرنٹ کی تشکیل دینے کی پرزورحمایت کی ہے تاکہ بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکا جاسکے حتیٰ کہ انہوں نے پروفلا کمار مہتا کو آئندہ چیف منسٹر بنانے کی تجویز پیش کی جن کی آسام گن پریشد نے بی جے پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کی ہے۔ بدرالدین اجمل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ فرقہ پرست بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے اور آسام اور اس کے عوام کے تحفظ کیلئے واحد راستہ یہ ہے کہ مذکورہ تمام سیاسی جماعتیں ایک تیسرا محاذ تشکیل دیں۔ انہوں نے یہ ادعا کیا کہ ان کی جماعت ( یو ڈی ایف ) 30 نشستوں پر بہ آسانی کامیابی حاصل کرلے گی اور آئندہ حکومت کی تشکیل میں کلیدی رول ادا کرسکتی ہے۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ آئندہ حکومت میں وہ ’ کنگ میکر ‘ ہوں گے اجمل نے کہا کہ ہمارے بغیر کوئی بھی جماعت ریاست میں حکومت تشکیل نہیں دے سکتی اور ہم جس پارٹی کی تائید کریں گے وہی سرخرو ہوگی، اور یو ڈی ایف کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ وہ بھی آئندہ چیف منسٹر بننے کے خواہشمند ہیں؟ اجمل نے کہا کہ میں چیف منسٹر بننے کا خواب نہیں رکھتا، میرا نظر انتخاب تو آسام گن پریشد لیڈر پرفلا کمار مہتا ہیں جو کہ سابق میں 2 مرتبہ چیف منسٹر رہ چکے ہیں کیونکہ ہم نے 10سال تک ان کے ساتھ کام کیا ہے اور حکومت چلانے کا دیرینہ تجربہ ہے اور سابق میں انہوں نے اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی تھی۔

ماقبل انتخابات بی جے پی کے ساتھ اے جی پی۔ جی پی ایف کی مفاہمت کا تذکرہ کرتے ہوئے دھوبری کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق آسام گن پریشد نے خفیہ طور پر کانگریس سے ساز باز کرلی ہے لیکن ظاہری طور پر معاشی مسائل کی وجہ سے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے کیونکہ بی جے پی نے اے جی پی کی مالی اعانت کی ہے۔ پیشرو اسمبلی میں یوڈی ایف کے 18ارکان تھے اور ریاست میں برائے نام وجود ہونے کے باوجود جنتا دل متحدہ اور آر جے ڈی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کی۔ اگرچیکہ یوڈی ایف نے بی جے پی کو شکست دینے کیلئے بہار انتخابات کے خطوط پر عظیم اتحاد تشکیل دینے کیلئے کانگریس اور اے جی پی کو مدعو کیا تھا لیکن یہ کوشش کارگر ثابت نہیں ہوسکی۔ انہوں نے یہ اُمید ظاہر کی کہ کانگریس ہائی کمان کی مداخلت پر یہ پارٹی تیسرے محاذ میں شامل ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ آسام اسمبلی کی 128 نشستوں کیلئے نتائج کا اعلان19مئی کو کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT