Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / آسام میں ترقی کے فقدان کیلئے کانگریس ذمہ دار

آسام میں ترقی کے فقدان کیلئے کانگریس ذمہ دار

شمال مشرقی ریاست میں بی جے پی کی انتخابی مہم کا عملا آغاز ۔ وزیر اعظم مودی کار یلی سے خطاب
کوکرا جھار 19 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) آسام میں کانگریس کے 15 سالہ اقتدار اور راجیہ سبھا میں آسام کی نمائندگی کرنے والے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزْر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ریاست میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے ریاست میں عملا پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کردیا اور دو برادریوں کو قبائلی موقف کا اعلان کیا ۔ بی جے پی اور اس کی نئی حلیف جماعت بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ کی جانب سے منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ بی جے پی بوڈو لینڈ علاقائی کونسل کے علاقوں کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنائے گی جسے کانگریس نے دھوکہ کا شکار کیا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ایک ہی حکومت یہاں پندرہ سال سے کام کر رہی ہے تو پھر ترقی کیوں نہیں ہوئی ہے ۔ ریاست نے دس سال تک ایک وزیر اعظم کو بھیجا ہے ۔ دونوں بھی مل کر پندرہ سال تک ریاست کو درپیش مسائل نہیں کرسکے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ میں یہ مسائل 15 مہینے میں حل کردوں ۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ میرے ساتھ ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کی ایک طویل فہرست ہے ۔ ریاست میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے ۔ وزیر اعظم نے آسام کی کانگریس حکومت اور مرکز کی سابقہ یو پی اے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ دونوں بھی ریاست کے عوام کے خواب اور ان کی خواہشات کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میری حکومت کے تعلق سے سوال کر رہی ہے ۔ لیکن خود اس نے آسام میں 15 سال اور مرکز میں 10 سال اقتدار رکھنے کے باوجود کیا کیا ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ دس سال تک آسام کی نمائندگی کرنے والی شخصیت ملک کی وزیر اعظم رہی ہے ۔

نہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی عوام کو صرف الجھن کا شکار کرنا چاہتی ہے ۔ عوام کو چاہئے کہ وہ کانگریس کے 15 سال کے اور میرے 15 مہینے کے اقتدار کا موازنہ کریں۔ عوام کو خود فرق محسوس ہوجائیگا ۔ مودی نے اعلان کیا کہ آسام کے میدانی علاقوں میں رہنے والے کربی اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے بوڈو عوام کو قبائلی موقف دیا جائیگا اور اس کیلئے کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ مودی نے کہا کہ علاقہ کو جو کچھ بھی مسائل درپیش ہیں ان کا واحد حل تقری ہے اور انہوں نے اس علاقہ کیع وام کی خواہشات اور خوابوں کو پورا کرنے اپنا دل اور اپنا ہاتھ دونوں ہی کھول دئے ہیں۔ ریاستی حکومت ان خوابوں اور خواہشات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے ہدایت دے رکھی ہے کہ شمال مشرق کے علاقہ کے نوجوانوں کو دہلی پولیس میں شامل کیا جائے اور یہ عمل بھی شروع ہوچکا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کوکرا جھار میں موجود ایک سنٹرل ٹکنیکل انسٹی ٹیوٹ کو ڈیم یونیورسٹی کا موقف دیا جائیگا ۔ سیالڈہ ۔ گوہاٹی کنچن جنگا ایکسپریس کو وادی بارک تک توسیع دی جائیگی جبکہ دھوبری میں ائرپورٹ کو انڈین ائر فورس حاصل کرلے گی ۔آسام کی 126 رکنی اسمبلی کیلئے انتخابات امکان ہے کہ جاریہ سال اپریل ۔ مئی میں ملک کی چار دیگر ریاستوں کے ساتھ منعقد ہونگے ۔ بی پی ایف نے 2016 اور 2011 میں کانگریس سے اتحاد کیا تھا لیکن اب بی جے پی سے مفاہمت کی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT