Wednesday , June 28 2017
Home / ہندوستان / آسام میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے جمعیت علماء سر گرم عمل

آسام میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے جمعیت علماء سر گرم عمل

ناانصافی روکنے کا مطالبہ ۔ 48 لاکھ لوگوں کی شہریت کا معاملہ اٹھایا گیا۔ چیف منسٹر سونوال سے نمائندگی
نئی دہلی13اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جمعیت علمائے ہند کی آسام یونٹ کے صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل قاسمی کی سربراہی میں جمعیت علما ء صوبہ آسام کے ایک وفد نے آسام کے چیف منسٹر سرب نند سونوال سے گزشتہ روز یہاں اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کرکے آسام کے مسلمانوں کو در پیش مسائل بالخصوص قومی رجسٹر برائے شہریت میں ان کا نام اندراج ہونے میں پیش آنے والی دشواری ،اسی طرح گزشتہ چند ماہ کے دوران عموماً صرف مسلمانوں کو نشانہ بناکر ان کے علاقوں کو اجاڑنے کی مہم (اِکوکشن ڈرائیو) چلائے جانے پر تبادلہ خیال کیا اور مسلمانوں کے خلاف ہو رہی نا انصافی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ ملاقات کے دوران وفد نے چیف منسٹر سے پر زور انداز میں مطالبہ کیا کہ حکومتِ آسام سپریم کورٹ میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے 28فروری 2017 کو دئیے گئے اس فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کرے جس نے لنکیج سرٹیفکیٹ کے طور پر پنچایت سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ اور بی ڈی او یاسرکل آفیسرکے ذریعہ تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ کو قومی رجسٹر برائے شہریت کے لئے معاون ڈکیومنٹ ماننے سے انکار کر دیا ہے ،جس کی وجہ سے آسام کے 48 لاکھ لوگوں خصوصا عورتوں کا نام قومی رجسٹر برائے شہریت میں اندراج ہونا دشوار ہو گیا ہے ،جس نے لوگوں بالخصوص متاثرہ عورتوں میں بے چینی پیدا کر دیا ہے ۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حکومتِ آسام اور حکومتِ ہند کو حکم دیا تھاکہ وہ آسام میں قومی رجسٹر برائے شہریت (این آر سی) کو از سرِ نو تیار کر نے کا کام جلد از جلد مکمل کرے ۔اس کے بعد سپریم کورٹ کی ہدایت پر حکومت آسام نے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی جس کو این آر سی میں اندراج کے لئے قابلِ قبول دستاویز کی فہرست تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے تمام سیاسی اور غیرسیاسی جماعتوں اور متعلقہ گروپوں سے مشورہ کے بعد دستاویز کی جو فہرست تیار کی ان میں سے 12 کو تو اصل کی حیثیت والا قرار دیا گیا جبکہ 3 کو معاون دستاویز کی حیثیت دی گئی۔ان معاون دستاویز میں سے ایک گاؤں پنچایت کے ذریعہ جاری شدہ اور بی ۔ڈی ۔او یا پھر سرکل آفیسر کے ذریعہ تصدیق شدہ وہ سرٹیفکیٹ ہے جو عورتوں کے شادی کے بعد اپنے ماں باپ کے گھر سے شوہر کے گھر منتقل ہونے کو ثابت کرنے کے لئے ہے اور جسے لنکیج سرٹیفکیٹ کہا جاتا ہے ۔ اسے ریاستی اور مرکزی سرکار اور اسی طرح ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور رجسٹرار جنرل آف انڈیا نے منظوری دے دی تھی۔ان سب ہدایات پر عمل کرتے ہوئے این آر سی پریپریشن کا کام تقریبا 80فی صد مکمل ہو چکا تھا، مگر 28فروری2017 کو گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں اس سرٹیفکیٹ کو بے حیثیت اور بے معنی قرار دیا۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے 8مارچ 2017کو ہدایت دی ہے کہ این آر سی ڈرافٹ کو جلد از جلد شائع کیا جائے اور 48 لاکھ لوگوں کا نام فی الحال چھوڑ دیا جائے ۔
ان حالات کی وجہ سے ان 48 لاکھ عورتوں کی قسمت داؤ پر لگ گئی ہے جنہوں نے پنچایت سرٹیفکیٹ کو لنکیج سرٹیفکیٹ کی حیثیت سے جمع کیا تھا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا اجمل نے کہا کہ ہم نے جمعیت علماء ہند صوبہ آسام کی جانب سے سپریم کورٹ میں گو ہاٹی ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی ہے اور اس کے لئے ہم نے سینئر وکلا ء کی خدمات حاصل کی ہے جس پر,19اپریل2017 کوسماعت ہونی ہے اور ہمیں امید ہے کہ عدالتِ عظمی سے انصاف ملے گا۔اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں بھی ہم نے اس کے خلاف آواز بلند کی ہے اور وزیر داخلہ ،وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کو میمورنڈم دیکر ان سے ان48 لاکھ لوگوں کو انصاف دلانے کی اپیل کی ہے ۔اور اسی سلسلہ میں آسام کے وزیر اعلی سے بھی ملاقات کی ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ مولانا سید محمود مدنی اور حضرت سید قاری عثما ن منصور پوری کی زیر سر پرستی جمعیۃ علماء صوبہ آسام مسلسل سیاسی،سماجی اور قانونی سطح پر آسام کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف مختلف سطح پر لڑائی لڑ رہی ہے ۔فی الحال جمعیت علماء صوبہ آسام مسلمانو ں کی شہریت سے متعلق درجنوں مقدمات سول کورٹ، گوہاٹی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں میں لڑ رہی ہے ۔ا ن میں سے سب سے اہم مقدمہ کوعدالتِ عظمی میں آئینی بنچ کے سپرد کر دیا گیا ہے جس پر 11 مئی2017 کو سماعت ہونی ہے ۔ یہ مقدمہ اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے ہے کہ کسی آسامی شخص کوہندوستانی قرار دینے کے 25 مارچ، 1971 کو پیمانہ قرار دیکر اس سے پہلے تک ہندوستان آنے والے لوگوں کو ہندوستانی اور اس کے بعد آنے والے لوگوں کو غیر ملکی قرار دیا جائے جیسا کہ آسام اکورڈ میں کہا گیا ہے اور جسے حکومتِ ہند،حکومت آسام اور تمام سیاسی ،غیر سیاسی اور دیگر گروپوں نے قبول کیا تھا۔ یہی جمعیۃ علماء کا بھی موقف ہے اسی کے لئے ہم مقدمہ لڑ رہے ہیں،یا پھر 1951 کی ووٹر لسٹ کو پیمانہ قرار دیا جائے جیسا کہ فریق مخالف کا مطالبہ ہے ، اگر ایسا ہوا تو پھر لاکھوں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دینے کی سازش کامیاب ہوجائے گی۔مولانا نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا موقف بالکل واضح ہے کہ جو غیر قانونی طور پر اس ملک میں رہ رہے ہیں انہیں فورا نکالا جانا چاہئے لیکن جوحقیقی ہیں ان کو پریشان نہیں کیا جانا چاہئے اور اس کے لئے ہر سطح پر کوشش جا ری ر ہے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT