Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / آشرم اسکولس میں بنیادی سہولتوں کے لیے 239 کروڑ روپئے جاری

آشرم اسکولس میں بنیادی سہولتوں کے لیے 239 کروڑ روپئے جاری

مدارس کی مستقل عمارتوں کی تعمیر کو اولین ترجیح ، ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کا بیان
حیدرآباد ۔ 22 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں آشرم اسکولس ماڈل اسکولس ، کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ میں بنیادی سہولتوں ( انفراسٹرکچر ) کی فراہمی کے لیے حکومت تلنگانہ جملہ 239 کروڑ روپئے جاری کی ہے اور ان رقومات کے ذریعہ مذکورہ مدارس کے لیے مستقل عمارتوں کی تعمیر ، موجودہ مدارس میں ناکافی کلاس رومس کے پیش نظر زائد کلاس رومس تعمیر کرنے ، مدارس کی باونڈری وال ، اسکولس اور ہاسٹلس میں بنیادی سہولتوں بالخصوص سی سی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائے ۔ پینے کے پانی کی فراہمی ، بیت الخلاؤں کی تعمیر ، بائیو میٹرک سسٹم شروع کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ آج یہاں اس سلسلہ میں اعلی عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں مذکورہ فیصلہ کیا گیا ۔ بعد ازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر کے سری ہری نے مذکورہ انکشاف کیا اور بتایا کہ جاریہ تعلیمی سال کے اختتام یعنی 31 مارچ 2016 کے اختتام سے قبل رقومات خرچ کرنے کے لیے متعلقہ عہدیداروں کو سخت ہدایات دی گئی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ تینوں زمروں کے مدارس میں جملہ 1.75 لاکھ طلباء وطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ان طلباء وطالبات کو بہتر و معیاری تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کئے جائیں گے ۔ مسٹر سری ہری نے بتایا کہ تلنگانہ میں پائے جانے والے 182 ماڈل اسکولس کے کاموں کے لیے 100 کروڑ روپئے اقامتی اسکولس میں طلباء کو بہتر رہائشی و تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے لیے 89 کروڑ روپئے ، کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ میں مختلف سہولتوں کی فراہمی کے لیے اور لڑکیوں کے تحفط کے لیے 50 کروڑ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر امور تعلیم نے کہا کہ مذکورہ مدارس میں طلباء وطالبات کو بہتر ماحول پیدا کر کے تمام تر بنیادی سہولیں فراہم کرنے کے مقصد سے ہی حکومت نے مذکورہ رقومات کی منظوری دیتے ہوئے فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر امور تعلیم مسٹر کے سری ہری نے اخباری نمائندوں کے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کنٹراکٹ کی بنیاد پر خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کیلئے حکومت سنجیدہ اقدامات کررہی ہے بلکہ محکمہ ریاستی نظم و نسق کی جانب سے رہنمایانہ خطوط مرتب کئے جارہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT