Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / آصف جاہی سلاطین کے طرز حکومت اور ان کی تاریخ سے نئی نسل کو واقف کروانے پر زور

آصف جاہی سلاطین کے طرز حکومت اور ان کی تاریخ سے نئی نسل کو واقف کروانے پر زور

نواب میر محبوب علی خاں کی نایاب تصاویر کی نمائش ، نواب رونق یار خاں ، محمد صفی اللہ اور دیگر کی شرکت
حیدرآباد۔ 17 اگسٹ ( سیاست نیوز ) آصف جاہ ششم نواب میر محبوب علی خان المعروف محبوب علی پاشاہ کے 150ویں یوم پیدائش کے موقع پر ’’دی دکن ہیریٹیج ٹرسٹ ‘‘ کے زیر اہتمام نواب میر محبوب علی خان کی نایاب تصاویر پر مشتمل تصویری نمائش کا اہتمام عمل میں لایا گیا۔ چو محلہ پیالس میں منعقد کی گئی اس نمائش کے دوران شہر کی اہم شخصیتوں نے نمائش کا مشاہدہ کرتے ہوئے آصف جاہ ششم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آشنا ہوئے۔ تہنیت محل چو محلہ میں منعقدہ اس نادار و نایاب تصاویر پر مشتمل نمائش کا افتتاح نواب میر محبوب علی خان کے پڑپوتے نواب رونق یار خان نے انجام دیا۔ جناب محمد صفی اللہ منیجنگ ٹرسٹی دکن ہیریٹیج ٹرسٹ نے بتایا کہ آصف جاہ ششم کی حیات پر مشتمل مختلف تصاویر کے علاوہ بعض خطوط کو نمائش میں شامل رکھا گیا ہے۔ اس نمائش میں نواب میر محبوب علی خان کی اہم تصاویر میں ایک ایسی نایاب تصویر بھی شامل ہے جس میں فرماروان دکن اپنے دور حکومت کے دوران بھیس بدل کر کس طرح رعایا کے حالات سے آگہی حاصل کرتے تھے۔ اس تصویری نمائش میں موجود یہ تصویر آصف جاہ ششم کی رعایا پروری اور حالات سے بہ نفس نفیس آگہی حاصل کرنے سے دلچسپی کی مثال ہے۔ تہنیت محل خلوت مبارک میں اس نمائش کے انعقاد کے مقاصد کے متعلق جناب محمد صفی اللہ نے بتایا کہ آصف جاہی سلاطین کے طرز حکومت اور ان کی تاریخ سے نئی نسل کو واقف کروانے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اس نمائش کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے۔ چومحلہ پیالس کے مشاہدہ کیلئے پہنچنے والے بیشتر سیاحوں نے اس نمائش کا مشاہدہ کیا علاوہ ازیں نمائش کے مشاہدے کیلئے خصوصی طور پر کئی لوگ چومحلہ پیالس پہنچے۔

نمائش میں نواب میر محبوب علی خان کے دہلی دربار میں شایان شان جلوس کی تصاویر اور شیر کے شکار کی نایاب تصاویر بھی موجود ہیں۔نمائش کا مشاہدہ کرنے والو ںمیں منیجنگ ڈائریکٹر شاداں انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس و ڈاکٹر وی آر کے ویمنس میڈیکل کالج ڈاکٹر صارب رسول خان کے علاوہ کئی اہم شخصیتیں شامل ہیں جنہوں نے آصف جاہ ششم کی حیات و طرز حکمرانی و رعایا پروری پر مشتمل تصویری نمائش کا مشاہدہ کیا۔نواب میر محبوب علی خان کے 150ویں یوم پیدائش کے موقع پر ٹرسٹ کی جانب سے تاریخی مکہ مسجد کے صحن میں موجود مزار پر گلہائے عقیدت پیش کئے گئے۔ علاوہ ازیں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کاکتیہ‘ قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں کی تاریخ کو شامل نصاب کرنے کیلئے حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے آصف جاہی حکمرانوں کی ستائش اور ان کے کارناموں کی متعدد مرتبہ سراہنا کے باوجود انہیں شامل نصاب کرنے کے اقدامات نہیں کئے گئے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے سلاطین آصفیہ کی زندگیوں اور ان کے طرز حکمرانی و کارہائے ناموں کو تلنگانہ کے نصاب میں شامل کئے جانے کی صورت میں نئی نسل ان کی خدمات سے واقف ہو سکے گی اسی لئے یہ ضروری ہے کہ تمام حکمرانوں کے حالات زندگی اور ان کی خدمات سے عوام کو واقف کروایا جائے۔ آصف جاہ ششم نواب میر محبوب علی خان نے اپنے دور حکومت میں پوسٹل اسٹامپ‘ نظام ریلوے‘ باغ عامہ ‘ چادر گھاٹ اسکول ‘ مدرسۂ عالیہ کا آغاز عمل میں لایا تھا۔

اسی طرح انہوں نے ریاست دکن حیدرآباد میں سرکاری زبان فارسی کو تبدیل کرتے ہوئے اردو زبان کو سرکاری زبان کا موقف عطا کیا تھا۔ چارمینار کے چاروں سمت گھڑیوں کی تنصیب بھی نواب میر محبوب علی خان کے دور حکمرانی میں عمل میں لائی گئی تھیں۔علمی خدمات میں نواب میر محبوب علی خان نے مدرۂ عالیہ و چادرگھاٹ اسکول کے قیام کے علاوہ کتب خانۂ آصفیہ اور دائرۃالمعارف قائم کیاجن کے فیضان علوم آج بھی جاری ہیں۔

TOPPOPULARRECENT