Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / آصف سابع کا عہد حکومت ، قومی یکجہتی کا خوشگوار گہوارہ

آصف سابع کا عہد حکومت ، قومی یکجہتی کا خوشگوار گہوارہ

میر عثمان علی خاں آصف جاہ سابع کو دبستان جلیل شعبہ خواتین کا خراج
حیدرآباد ۔ 6 ۔ مئی : ( پریس نوٹ ) : دبستان جلیل شعبہ خواتین کا جلسہ خراج عقیدت میر عثمان علی خاں آصف سابع 30 اپریل جلیل منزل نور خاں بازار محترمہ حامدی بیگم کی صدارت اور محترمہ رابعہ نیاز جلیلی کی نگرانی میں منعقد ہوا ۔ محترمہ فخر النساء فہیم جلیلی اس جلسہ کی کنوینر محترمہ انیس قریشی ناظم اور محترمہ رابعہ نیاز جلیلی داعی تھیں ۔ محترمہ انیس قریشی کی قرات کلام پاک کے بعد سلمیٰ جلیلی نے حضور نظام کا حمدیہ کلام اور محترمہ ثریا خیر الدین نے اعلی حضرت کی لکھی نعت شریف سنائی ۔ اپنے کلیدی خطبہ میں ڈاکٹر اشرف رفیع نے بتایا کہ میر عثمان علی خاں کو ان کے والد نظام ششم میر محبوب علی خاں نے ایسے جید اساتذہ سے تعلیم دلوائی تھی کہ حضور نظام بڑے سے بڑے علماء اور ماہرین فن سے نہایت اعتماد کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ۔ محترمہ نسیمہ تراب الحسن نے اپنے مضمون میں بتایا کہ آصف سابع نے اپنے عہد حکومت میں قومی یکجہتی کا بڑا ہی خوشگوار ماحول بنا رکھا تھا ۔ وہ اپنی رعایا کو بلا تفریق مذہب ان کی عیدوں اور تہواروں پر خود مبارکباد دیا کرتے اور عوام بھی اپنے اپنے تہواروں کے موقع پر گھر کے بنے مخصوص پکوانوں سے ایک دوسرے کی ضیافت کیا کرتے ۔ ڈاکٹر فاطمہ پروین نے حضور نظام بحیثیت فرزند موضوع پر خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی شخصیت سازی میں والدین کی تربیت کا بڑا اثر رہا ۔ میر عثمان علی خاں نے جہاں اپنی والدہ سے ہمدردی و دردمندی کا درس لیا وہیں اپنے والد سے اپنی ذات کے لیے جز رسی اور عوام کے لیے دریا دلی کا سبق سیکھا ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے مزید کہا کہ حضور نظام کو اپنی والدہ سے اتنی عقیدت تھی کہ انہوں نے والدہ کے نام سے مادر دکن ٹرسٹ ضرورت مندوں کے لیے قائم کر رکھا تھا ۔ سقوط دکن کے وقت ہی میر عثمان علی خاں نے معاہدہ کرلیا تھا کہ ہر آر ٹی سی بس پر ان کی والدہ کے نام کا پہلا حرف ’’Z ‘‘ ضرور تحریر کیا جائے گا ۔ محترمہ تسنیم جوہر نے کلام عثمان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حضور نظام نے اپنے کلام میں سلاست فصاحت اور روانی کے ساتھ ذاتی تجربات و احساسات کو بڑی ہی خوبی سے پیش کیا ہے ۔ صدر محترمہ حامدی بیگم نے محترمہ آمنہ انصاری کو تدریس کے شعبہ میں ان کی گرانقدر خدمات کے لیے آصف جاہ سابع ایوارڈ پیش کیا ۔ محترمہ آمنہ انصاری نے حضور نظام کی سادہ زندگی اور عوام کے لیے بے شمار فلاحی کاموں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ محترمہ ممتاز جہاں عشرت ، محترمہ شبینہ فرشوری ، محترمہ خیر النساء علیم اور محترمہ فخر النساء فہیم جلیلی نے میر عثمان علی خاں کا کلام پیش کیا ۔ محترمہ سیدہ غوثیہ بیگم کی دعا کے بعد ڈاکٹر حمیرا جلیلی نے شکریہ ادا کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT