Thursday , August 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / آفریدی ہندوستان کیخلاف ناکامیوں کا سلسلہ توڑنے کے خواہاں

آفریدی ہندوستان کیخلاف ناکامیوں کا سلسلہ توڑنے کے خواہاں

کراچی ۔18ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام )پاکستانی ٹوئنٹی20  ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے امید ظاہر کی ہے کہ ورلڈ کپ میں مشکل گروپ سے ٹیم کو روایتی حریف ہندوستان کو شکست دینی کی تحریک ملے گی۔ 2009 میں ورلڈکپ جیت کر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی پاکستانی ٹیم 8 مارچ سے 3  اپریل تک ہندوستان میں ہونے والے ایونٹ کے گروپ 2 میں موجود ہے جہاں اس کا ہندوستان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ایک کوالیفائر سے مقابلہ ہو گا۔پاکستان کا دوسرا میچ روایتی حریف ہندوستان سے ہے اور آج تک ورلڈ کپ کے علاوہ کسی بھی ورلڈکپ ایونٹ میں شکست نہیں دے سکا۔آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا گروپ کافی مشکل ہے لیکن مجھے امید ہے کہ یہ چیلنج میری ٹیم کو سات سال بعد خطاب جیتنے اور ہندوستان کو شکست دینے کی تحریک دے گا۔2007 کے افتتاحی ورلڈ کپ کے فائنل میں پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ہندوستان کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ اس کے بعد بھی   ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کے  مقابلوں میں پاکستانی ٹیم ہندوستان کے خلاف فتح حاصل کرنے سے قاصر رہی۔پاکستان کو اب تک ہندوستان سے ونڈے میچوں کے ورلڈ کپ میں ہونے والے چھ میچوں میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم آفریدی کا ماننا ہے کہ تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔میں ماضی میں زندہ نہیں رہنا چاہتا، ہندوستان کے خلاف ماضی میں ہونے والے مقابلوں میں ہم نے جو بھی غلطیاں کیں اب ہمیں ان پر قابو پانا ہو گا۔پاکستان اس وقت محدود اوورز کرکٹ کی زیادہ اچھے فارم میں نہیں جہاں اسے حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف ونڈے سیریز میں 3-1 سے شکست کے بعد  ٹوئنٹی20 سیریز  میں بھی 3-0 کی  شکست کا سامنا کرنا پڑا اور جس کے بعد آفریدی کی ٹیم کو عالمی درجہ بندی میں دوسرے سے چھٹے نمبر پر تنزلی ہوئی۔یاد رہے کہ شاہد آفریدی اس ایونٹ کے بعد عالمی کرکٹ سے سبکدوشی کا اعلان کر چکے ہیں۔ورلڈکپ سے قبل پاکستانی ٹیم آئندہ ماہ نیوزی لینڈ کا دورہ کرے گی جہاں وہ تین  ٹوئنٹی20  میچز میں حریف کے مدمقابل ہو گی جبکہ فروری میں چھ ملکی ٹوئنٹی20  ایشیا کپ بھی کھیلا جائے گا جس کی میزبانی بنگلہ دیش کرے گا۔ آفریدی نے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل ہمارے پاس بہت مقابلے ہیں لہٰذا ہم بہتر ٹیم اور کھلاڑیوں کا اشتراک بنانے کی کوشش کریں گے اور مجھے امید ہے کہ ہم ان مقابلوں میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے عالمی ایونٹ میں بھی یہ سلسلہ برقرار رکھیں گے۔

TOPPOPULARRECENT