Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / آلیر انکاونٹر متاثرین کو انصاف دلوانے حکومت غیر سنجیدہ

آلیر انکاونٹر متاثرین کو انصاف دلوانے حکومت غیر سنجیدہ

خاطیوں کو سزا دلانے میں ناکام : سیول لبرٹیز مانیٹرنگ کمیٹی لیڈر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔5اپریل (سیاست نیوز) حکومت‘ عدلیہ اور مسلم قیادت کوئی بھی آلیر انکاؤنٹر کے متاثرین کو انصاف دلوانے کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔ آلیر انکاؤنٹر فرضی تھا یہ ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھ پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ حکومت ایک سال گزرنے کے باوجود مظلوم خاندانوں کو انصاف اور خاطیوں کو سزا دلوانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ سیول لبرٹیز مانٹرنگ کمیٹی قائد جناب لطیف محمد خان نے آج متوفی نوجوانوں کے افراد خاندان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے آلیر انکاؤنٹر واقعہ جس میں 5مسلم نوجوانوں کی موت واقع ہوئی تھی اس واقعہ کی برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کے مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ جناب لطیف محمد خا ن نے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ وہ آلیر انکاؤنٹر پر جواب دینے تیار ہیں لیکن آج تک بھی وہ جواب نہیں دے پائے ہیں۔ جناب لطیف محمد خان نے معاشرے میں قیام امن کو یقینی بنانے کیلئے انصاف رسانی کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نئی ریاست اور حکومت سے عوام کوجو توقعات وابستہ ہیں انہیں پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس پریس کانفرنس کے دوران ان کے ہمراہ متوفی نوجوان وقار کے والد کے علاوہ ڈاکٹر حنیف کی اہلیہ اور بچے موجود تھے۔ وقار کے والد نے اس موقعہ پر بتایا کہ ملک کے معروف ماہر قانون نے اس واقعہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ جو نوجوان عدالتی تحویل میں تھے ان نوجوانوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی عدلیہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حصول انصاف کیلئے وہ اپنی جد وجہد جاری رکھیں گے اور خاطیوں کو گرفتار کرتے ہوئے کاروائی کروانے پر ہی خاموش رہیں گے۔ جناب لطیف محمد خان نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ریاست میں پولس راج چل رہا ہے اور جمہوری طریقہ سے منتخبہ حکومت کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ انہوں نے آلیر انکاؤنٹر واقعہ کی تحقیات کیلئے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس موقعہ جاری احکامات میں متوفی نوجوانوںکو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے حکومت نے ان زیر دریافت نوجوانوں کے پولس کے ہاتھوں قتل کا بلواسطہ دفاع کیا ہے جس کے نتیجہ میں آج تک بھی عہدیدار پورے معاملہ کی چھان بین میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT