Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / آل انڈیا ریڈیو تھریسر کے پروگرام پر تنازعہ پیدا ہوگیا

آل انڈیا ریڈیو تھریسر کے پروگرام پر تنازعہ پیدا ہوگیا

ہندو دیوی دیوتاوں کی توہین کرنے کا الزام ۔ بی جے پی کا قانونی کارروائی کا اعلان
تھرواننتا پورم 24 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) آل انڈیا ریڈیو تھریسر سے روزآنہ نشر ہونے والے ایک پروگرام پر بی جے پی نے شدید تنقید کی ہے اور کہا کہ اس پروگرام میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کی گئی ہے اور اس کے خلاف جدوجہد کی جائیگی ۔ آل انڈیا ریڈیو تھریسر ( کیرالا ) کے اسٹاف کا کہنا ہے کہ ان کو بی جے پی کے ایک مقامی لیڈر نے دھمکی دی ہے اور سنگین نتائج و عواقب کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنے کو کہا ہے اگر اس پروگرام میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کا ازالہ نہیں کیا گیا ۔ بی جے پی نے کہا کہ وہ اس پروگرام کے پس پردہ محرکات کے خلاف جلد ہی قانونی کارروائی کریگی ۔ کہا گیا ہے کہ اسکالر ڈاکٹر سی این پرمیشورن نے گذشتہ ہفتے سبھاشیتم پروگرام پیش کیا گیا تھا اور بی جے پی کو اعتراض ہے کہ اس میں دیواس اور اسوراس کے مابین جنگ کو اعلی ذات اور ہندوستان کے عوام کے مابین جنگ کے طور پر پیش کیا گیا تھا ۔ اس پروگرام میں اعلی ذات کو بیرون ملک سے آنے والے افراد قرار دیا گیا تھا ۔

بی جے پی نے الزام عائد کیا کہ صبح کے وقت ہونے والے اس پروگرام میں ہندو لارڈ رام اور لارڈ کرشنا کو طاقت کے بل پر حکومت کرنے والے قرار دیا گیا ہے اور اس سے ہندووں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس مسئلہ پر ایک تنازعہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ بی جے پی کے ریاستی سکریٹری بی گوپال کرشنن نے مبینہ طور پر اس پروگرام کی ایک خاتون ایگزیکیٹیو کے علاوہ اسٹیشن ڈائرکٹر انچارچ کو اس پروگرام کے نشر کرنے پر انتباہ دیا ہے ۔ گوپال کرشنن نے تاہم اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا کہ انہوں نے کسی کو دھمکایا نہیں ہے بلکہ صرف اتنا کہا ہے کہ وہ حقائق کو پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے عہدیداروں سے سوال کیا ہے کہ کس طرح سے اس طرح کا پروگرام پیش کیا گیا جبکہ یہ پروگرام عوام میں بہت مقبولیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب کسی کی جانب سے ہندووں کے دیوی دیوتاؤں کی توہین کی جا رہی ہے تو پھر وہ کس طرح سے خاموش رہ سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT