Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / آم کو کیمیکل سے پکانے کا طریقہ نقصان دہ

آم کو کیمیکل سے پکانے کا طریقہ نقصان دہ

پولیس کو ماضی کی طرز پر توجہ دینے کی ضرورت ، متعدد شکایتوں سے صارفین فکر مند
حیدرآباد۔22مارچ (سیاست نیوز) شہریان حیدرآباد کو کیمیکل سے پاک اور کاربائیڈ کے بغیر قدرتی طریقہ سے پکائے گئے آم کھانے کو مل پائیں گے؟ محکمہ پولیس ساؤتھ زون کی جانب سے سال گذشتہ میوہ کی بھٹیوں میں جہاں میوہ جات پکائے جاتے ہیں دھاوے کرتے ہوئے اس بات کو ممکن بنایا گیا تھا کہ زہریلے اورنقصاندہ کیمیکل کے ذریعہ میوؤوں کو پکانے کا سلسلہ ترک کیا جائے اور اب جبکہ پھلوں کے بادشاہ کی آمد کا موسم ہے اور شہر میں آم فروخت ہونے لگے ہیں ایسے میں شہری ایک مرتبہ پھر ساؤتھ زون پولیس کی جانب توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں کہ کب پولیس کی جانب سے آم کو قدرتی طریقہ سے پکانے کے اقدامات کو یقینی بنائے گی۔ پھلوں کو جلد پکانے کیلئے استعمال کئے جانے والی ممنوعہ اشیاء کے ذریعہ پکائے جانے کی شکایات موصول ہونے کے بعد سال گذشتہ پولیس نے بڑے پیمانے پر کاروائی کرتے ہوئے بھٹیوں پر دھاوے کئے تھے جس کے بعد کافی طویل مدت تک بازار میں دستیاب میوہ جات میں کوئی ملاوٹ نظر نہیں آئی لیکن ان کاروائیوں کے دوران کئے جانے والے اقدامات کا اثر دیرپا ثابت رکھنے کے لئے شہریوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے دھاوے کئے جاتے رہنے چاہئے کیونکہ اس طرح کی کاروائی سے نہ صرف شہریو ںکی صحت بہتر رہے گی بلکہ تجارتی دھاندلیو ں میں ملوث افراد میں بھی سدھار لایا جاسکے گا۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں فروخت کئے جانے والے آم جو گھاس میں پکائے جانے چاہئے انہیں جلد پکانے کی غرض سے کاربائیڈ میں پکایاجاتا تھا اور اس کے علاوہ بعض پھلوں پر تو اسپرے کے ذریعہ رنگ کرتے ہوئے فروخت کیا جانے لگا تھاان شکایات کے بعد ڈی سی پی ساؤتھ زون مسٹر وی ستیہ نارائنہ اور ایڈیشنل ڈی سی پی ساؤتھ زون مسٹر کے بابو راؤ کی نگرانی میں کئے گئے دھاؤوں کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے تھے اور ٹھیلہ بنڈیوں پر موجود آم پر بغیر کاربائیڈ کے بورڈ آویزاں دیکھے جانے لگے تھے لیکن اب دوبارہ وہی صورتحال دیکھی جانے لگی ہے ۔ پرانے شہر ہی نہیں بلکہ پرانے شہر میں کی گئی پولیس کی اس کاروائی کا اثر شہر کے دیگر علاقوں پر بھی دیکھا گیا تھا اور بیشتر علاقو ںمیں موجود بھٹی والوں نے پھلوں کو پکانے کیلئے قدرتی طریقہ کار اختیار کرنے شروع کردیئے تھے جس کے سبب کافی طویل عرصہ تک شہریو ں کو معیاری اور خوش ذائقہ پھل کھانے کو ملنے لگے تھے۔

TOPPOPULARRECENT