Tuesday , June 27 2017
Home / شہر کی خبریں / آنجہانی یدھ ویر نے تقسیم ہند کے موقع پر سرحدات پر سرگرم رول ادا کیا

آنجہانی یدھ ویر نے تقسیم ہند کے موقع پر سرحدات پر سرگرم رول ادا کیا

26 ویں یدھ ویر یادگار ایوارڈ کی ڈاکٹر این ناگیشور راؤ کو پیشکشی ۔ صدر نشین فاونڈیشن مسٹر نریندر لوتھر کا خطاب

حیدرآباد۔30 اپریل(سیاست نیوز) 26 ویں یدھ ویر فانڈیشن ایوارڈ تقریب کا ایف ٹی اے پی س سی آئی کے کے ایل این پرساد ہال میںانعقا دعمل میںآیا۔ تقریب کی صدارت چیرمن فاونڈیشن مسٹر نریندر لوتھر نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ماہر امراض قلب ڈاکٹر سوماراجونے شرکت کی۔ ٹرسٹیزیدھ ویر فاونڈیشن ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان ‘ ڈاکٹر بجرنگ لال گپتا‘ڈاکٹرمرلی دھر گپتا‘اور مسٹر پریتم سنگھ بھی شہہ نشین پر موجود تھے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سوما راجو کے ہاتھوں ڈاکٹر گلا پلی ناگیشور رائو کو 26 ویں یدھ ویر ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ اس تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مسٹر نریندر لوتھر نے کہاکہ آنجہانی یدھ ویر کی یاد میں یدھ ویر فاونڈیشن کا26سال قبل قیام عمل میںلایاگیا۔ انہوںنے کہاکہ شری یدھ ویر نہ صرف مجاہد آزادی تھے بلکہ انہوں نے تقسیم ہند کے موقع پر دونوں ملکوں کی سرحدوں پر سرگرم رول ادا کیاتھا ۔ نریند رلوتھر نے کہاکہ 1991میں فاونڈیشن کے قیام کے بعد ممتاز صحافی کالی داس کاشیکر کو سال 1992میں پہلا یدھ ویر یادگار ایوارڈ دیاگیا اس کے بعد سال 1993 میںجناب عابد علی خان مرحوم ‘1994میںکومودینی دیوی‘ 1995میںفینانس منسٹر ڈاکٹر منموہن سنگھ‘ 1996میں آنجہانی آننت پائی‘1997میں پروفیسر یو آر رائو ‘1998 وٹھل رائو‘1999ڈاکٹر بی سوما راجو‘2000ڈاکٹر کے انجی ریڈی ‘2001 مسٹر رامو جی رائو ‘2002 جئے پرکا ش نارائن‘ 2003پدما وبھوشن پنڈت جسراج ‘2004 مسٹر نریندر رائے سریواستو‘2005بدری وشال پیٹی‘2006مسٹر راج بہادر گوڑ ‘ 2007 میں مسرس کملا متل و مسٹر جگدیش متل‘2008مسٹر شنکر ایس مالکوٹے ‘2009 مسٹر شیام بنگال‘2010جناب شیخ سبحان ‘2011میں ڈاکٹر اے سائی بابا‘2012 پروفیسر شانتا سنہا ‘2013سائنہ نہوال‘2014محترمہ ثریا حسن بوس ‘2015 ڈاکٹر سنیتا کرشنن‘2016ڈاکٹر وجئے ویر ودیلانکار‘ اور سال2017میں ڈاکٹر گلا پلی ناگیشوار رائوکو یہ ایوارڈ دیا جارہا ہے ۔ نریندر لوتھر نے کہاکہ فاونڈیشن ایوارڈ کے ساتھ ایک لاکھ روپئے بھی ایوارڈ یافتہ شخص کوپیش کرتا ہے ۔ انہوں نے ڈاکٹر گلا پلی ناگیشوار رائو کی خدمات پر کہاکہ آج کے دور میں دولت کمانے کا آسان طریقہ اسکول یااسپتال قائم کرنا ہے ۔ چیرمن فاونڈیشن نے کہاکہ مگر شعبہ طب کے ذریعہ دولت کمانے کی جدوجہد کے اس دور میں بھی ڈاکٹر گلا پلی ناگیشور رائو جیسے ممتاز ڈاکٹرس بھی ملتے ہیں جنھوں نے اپنے ملک کی خدمت کی خاطر امریکہ اس وقت چھوڑا جب ان کا کیریر عروج پر تھا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ناگیشور رائونے 1987میں ایل وی پرساد آئی اسپتال کی بنیاد ڈالی جس کا مقصد دولت کمانا نہیںبلکہ غریبوں کی مدد کرنا تھا جو آنکھوں کے امراض کے سبب بینائی سے محروم ہورہے ہیں۔ نریندرلوتھر نے کہاکہ جناب زاہد علی خان کی جانب سے کشمیر میںپیلٹ گنس سے متاثر 20بچوں کی نشاندہی پر ان کا مفت علاج کرنے کی بھی ڈاکٹر گلا پلی ناگیشوار رائو نے پیشکش کی ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ ‘ آندھرا‘ اوڈیشہ اور کرناٹک کے دیہی و قبائیلی علاقوں میںانکے 140یونٹ کام کررہے ہیں جہاں معاشی پسماندہ طبقات کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ایل وی پرساد آئی انسٹیٹیوٹ دنیا کا واحد اسپتال ہے جہاں ایک سال میںدوکروڑ سے زائد لوگوں کا رینل ٹرانسپلانٹ کیاگیا ۔انہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے بھی اعزاز سے نوازا گیاہے۔ نریند ر لوتھر نے کہاکہ 16سال قبل ماہر قلب ڈاکٹر سوما راجو ہمارے ایوارڈی تھے اور آج کی اس تقریب میںوہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے ڈاکٹر گلا پلی ناگیشوار رائو کو ایوارڈ عطا کررہے ہیں۔ڈاکٹر لوتھر نے اس موقع پر فاونڈیشن کے ان تمام افراد کا بھی ذکر کیاجنھوں نے تقریب کو کامیاب بنانے کے لئے شب روز محنت کی ہے۔ بعدازاں مسٹر نریندر رائے نے نظم سنائی اورمرلی دھرگپتا نے شکریہ ادا کیا۔ مشہور گلوکار خان اطہر کے قومی ترانے پر تقریب کا اختتام عمل میںآیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT