Friday , September 22 2017
Home / مضامین / آندھراپردیش میں اقلیتوں کی ترقی پر توجہ

آندھراپردیش میں اقلیتوں کی ترقی پر توجہ

محمد علیم الدین
ریاست آندھراپردیش میں بدلتی سیاسی صورتحال کے دوران اب اقلیتیں بھی مرکز توجہ بن گئی ہیں۔ ریاست میں برسر اقتدار تلگودیشم کے سربراہ کو بھی مسلم اقلیت کی فکر لاحق ہوگئی ہے اور اب وہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کرچکے ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتوں بالخصوص اہم اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان کی بڑے پیمانے پر تلگودیشم میں شمولیت کے ساتھ صدر تلگودیشم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ناراض ووٹ بینک جو وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو تائید دیئے ہوئے اب اس ووٹ بینک کو بھی اپنی جانب راغب کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ حالانکہ ریاست کے 13 اضلاع میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے جبکہ ریاست کے سب سے بڑے علاقہ رائلسیما میں مسلمان 20 فیصد سے زائد پائے جاتے ہیں۔ اضلاع، کڑپہ، کرنول، اننت پور اور چتور میں مسلمان خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ تلگودیشم کی بی جے پی سے غربت اور انتخابات میں متحدہ مقابلے سے مسلمانوں نے اپنا موقف وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو دیا اور اس پارٹی سے4  مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ تلگودیشم کو بھاری اکثریت سے کامیابی کے باوجود ایک بھی مسلم امیدوار منتخب نہیں ہوا۔ لیکن اب جبکہ چندرابابو مسلمانوں کو قریب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور بی جے پی سے ان کی تلخ دوری بڑھتی جارہا ہے۔ ایسے میں وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے شاید پہلے سال کی بہ نسبت دوسرے سال میں انھوں نے مسلمانوں کے لئے 700 کروڑ کا بجٹ مختص کیا اور پارٹی کے ایک سینئر اور بھروسہ مند و دیانتدار قائد احمد شریف کو رکن قانون ساز کونسل منتخب کرلیا جس کے بعد وہ پارٹی کی جانب ارکان کو راغب کرنے میں مصروف ہیں۔ اس دوران چندرابابو نائیڈو کو اس وقت مزید راحت ملی۔ جب رکن اسمبلی جلیل خاں (وجئے واڑہ) اور عطار چاند باشاہ (کدری اننت پور) نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو چھوڑ کر تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرلی۔ چندرابابو نائیڈو صدر تلگودیشم اور ان کے فرزند لوکیش نائیڈو نے مسلمانوں کی ترقی کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان دنوں مسلم تحفظات کے لئے چندرابابو کی حکمت عملی اور عدالت میں تحفظات کو بچانے کے لئے وکلاء کی خدمات، بجٹ میں اضافہ اور مسلم ارکان سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے مشورے بابو کی سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسا سمجھا جارہا ہے کہ اب چندرابابو نائیڈو بی جے پی کی خاطر مسلمانوں کو دور کرناچاہتے ہیں اور مسلمانوں کی ناراضگی کو ختم کرتے ہوئے مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے میں بھی جٹ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ریاست کو خصوصی موقف دینے کے مطالبہ پر بی جے پی کی ٹال مٹول پالیسی اور اندرونی اختلافات امکان ہے کہ بہت جلد منظر عام پر آئیں گے اس سے پہلے بابو مسلمانوں کا سہارا لینے میں مصروف ہیں کیونکہ ریاست میں مسلمانوں کی تائید مستقبل میں کام آسکتی ہے۔

اس دوران وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرنے والے رکن اسمبلی کدری (اننت پور) مسٹر عطار چاند باشاہ نے بھی یہ ظاہر طور پر کہہ دیا کہ وہ صرف مسلمانوں کی بہبود اور حلقہ کی ترقی کے لئے پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ ویسے تو چاند باشاہ کی تلگودیشم سے دیرینہ وابستگی رہی ہے تاہم بی جے پی سے قربت اور وقتیہ ناراضگی نے انھیں دوسری جماعت میں شامل ہونے پر مجبور کیا تھا۔ چاند باشاہ نے بتایا کہ چندرابابو ریاست آندھراپردیش کی ترقی بالخصوص دارالحکومت امراوتی کی تعمیر میں مثالی رول ادا کررہے ہیں جو کسی اور قائد کے ذریعہ ممکن نہیں تھا۔ انھوں نے بڑے آبپاشی پراجکٹوں، پٹو سیما، پولاورم ، کالیرونگری، ہندرنیوا پراجکٹوں کی تکمیل کے اقدامات کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جاریہ سال چندرابابو نائیڈو نے ریاستی بجٹ میں مسلمانوں کے لئے 710 کروڑ روپئے مختص کئے۔ اس کے علاوہ مزید اور لامحدود خرچ کرنے کے لئے وہ سنجیدہ ہیں اور احکامات جاری کرچکے ہیں۔ ریاست آندھراپردیش میں بالخصوص رائلسیما کے علاقہ میں مسلمان روزانہ کی محنت مزدوری پر منحصر ہیں۔ اور تعلیم سے مسلم طبقہ دن بہ دن دور ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں مسلم اقلیت کی فلاح و بہبود کے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور وقت کی حکومت مسلمانوں کی ترقی کا بہترین منصوبہ رکھتی ہے۔ انھوں نے وائی ایس آر پارٹی کو چھوڑ کر تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرنے پر تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ان سے قبل کئی سرکردہ قائدین جیسے بھوما ناگی ریڈی، مانیورا ریڈی، ادی نارائنا ریڈی و دیگر نے پارٹی کو چھوڑ دیا۔ اس وقت اس طرح بڑے پیمانے پر تنقیدیں اور اخبارات میں بیانات جاری نہیں کئے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مسلم رکن نے جب پارٹی کو ترک کیا تو ہنگامہ کیا جارہا ہے۔ جو پارٹی قیادت کی ذہنیت اور فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔ عطار چاند باشاہ نے کہاکہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے تلگودیشم پارٹی قیادت بالخصوص چندرابابو کے جواں سال فرزند لوکیش نائیڈو مسلم قائدین سے تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اور رائے مشورے حاصل کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری جماعت میں کسی بھی مسئلہ پر کسی بھی رکن کا کوئی رائے مشورہ حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اب چندرابابو نائیڈو ایس سی، ایس ٹی طبقات کی طرز پر مسلمانوں کی ترقی کے لئے منصوبہ تیار کررہے ہیں جو پارٹی اور مسلمانوں کے لئے خوش آئند اقدام ہے۔

TOPPOPULARRECENT