Tuesday , September 19 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کے درجہ کیلئے سی پی آئی کی حمایت :اے راجا

آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کے درجہ کیلئے سی پی آئی کی حمایت :اے راجا

نئی دہلی 9اگست (سیاست ڈاٹ کام ) سی پی آئی لیڈر اے راجا نے واضح کیا کہ آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کے درجہ کیلئے ان کی پارٹی حمایت دے گی ۔اس مسئلہ پر آندھراپردیش کی اصل حزب اختلاف وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے ان سے قومی دارالحکومت نئی دہلی میں ملاقات کی۔اس ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اے راجا نے کہا کہ اس مسئلہ پر جگن سے ان کی ثمرآور بات ہوئی ہے ۔ حکومت نے اے پی کو خصوصی درجہ کی یقین دہانی کرائی تھی ۔ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی،اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی جانب سے دیئے گئے اس وعدہ کا احترام کریں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اسے انتخابی مسئلہ بنایا تھا اور اب عوام کے ساتھ دغا بازی کررہی ہے ۔ خصوصی درجہ کیلئے سی پی آئی جدوجہد کرتی رہے گی جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی دیگر جماعتوں سے بھی مشاورت کرتے ہوئے اس سلسلہ میں مستقبل کے لائحہ عمل پر فیصلہ کیا جائے گا تاکہ اے پی کے عوام کے مفادات اور حقوق کا تحفظ کیا جاسکے ۔ انہوں نے انسداد انحراف قانون میں ترمیم پر بھی زور دیا ۔سی پی ایم کے قومی چیف سکریڑی سیتارام یچوری نے جگن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی ہمیشہ اے پی کو خصوصی درجہ کے مسئلہ کی حمایت کرتی آرہی ہے ۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ جگن موہن ریڈی نے کہا کہ جی ایس ٹی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اے پی کو خصوصی ریاست کے درجہ کا مسئلہ کافی اہم ہوگیا ہے کیونکہ قبل ازیں سیلز ٹیکس ریاستی حکومت کے حدود میں تھا لیکن اب جی ایس ٹی کے بعد مرکز کے تحت سیلز ٹیکس ہوگیا ہے ۔ اس سے ترغیبات دینے ،خصوصی طور پر سیلز ٹیکس کی معافی کی ریاستی حکومت کی اہلیت ختم ہوگئی ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ نئی صنعتوں کے قیام پر انہیں ریاستی حکومت کی جانب سے ترغیبات اور سیلز ٹیکس کی معافی کی پیشکش کی جاتی تھی جو اب جی ایس ٹی کے بعد نہیں رہی کیونکہ جی ایس ٹی نے یہ اختیار ریاستی حکومتوں سے چھین لیا ہے ایسے میں کم انفرا اسٹرکچر اور دیگر ریاستوں کی طرز پر ترقی یافتہ نہ ہونے والی ریاستوں میں صنعت کار کیوں اپنی صنعتیں قائم کریں گے ۔ اے پی کو حیدرآباد سے محروم کیا گیا اور خصوصی درجہ بھی نہیں دیا جارہا ہے ۔ ایسے میں نئی ریاست میں نئی صنعتیں قائم کرنے کوئی بھی کیوں آگے آئے گا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی ایس ٹی کی منظوری کے بعد اے پی کو خصوصی درجہ دینا اہم ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT