Sunday , June 25 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا و تلنگانہ میں اُردو زبان کی ترقی کے صرف بلند بانگ دعوے

آندھرا و تلنگانہ میں اُردو زبان کی ترقی کے صرف بلند بانگ دعوے

سرکاری محکمہ جات میں اُردو درخواستیں قبول کرنے کا انتظام نہیں ، سدھیر کمیشن کی سفارشات نظرانداز ، اُردو میڈیم اسکولس پر توجہ بھی ناگزیر
حیدرآباد۔/9فبروری، ( سیاست نیوز) جب کبھی اردو زبان کی ترقی اور ترویج کی بات آتی ہے تو تلنگانہ کے قائدین آندھرائی سیاستدانوں پر اردو کے ساتھ ناانصافی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنا دامن بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کو 3 سال مکمل ہونے کو ہیں لیکن حکومت نے اس عرصہ میں دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے متحدہ آندھرا پردیش میں باقی ایک ضلع کھمم کو شامل نہیں کیا۔ اردو زبان کی ترقی کے سلسلہ میں اسمبلی اور اس کے باہر چیف منسٹر اور وزراء کی جانب سے بارہا بلند بانگ دعوے کئے گئے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ٹی آر ایس حکومت جو خود کو اردو کی حقیقی وارث قرار دیتی ہے اس نے ایک بھی ٹھوس قدم ایسا نہیں اٹھایا جس سے اردو زبان کی ترقی اور ترویج ہوسکے۔ متحدہ آندھرا پردیش کے 10اضلاع کے منجملہ 9 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ کانگریس اور تلگودیشم دور حکومت میں یہ اضلاع شامل کئے گئے۔ متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم تک صرف ایک ضلع کھمم اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔ ریاست کی تقسیم کے بعد برسراقتدار پارٹی اور چیف منسٹر نے ساری ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے اور حقیقی معنوں میں عمل آوری کا وعدہ کیا لیکن تین سال مکمل ہونے کو ہیں آج تک ضلع کھمم میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ اب جبکہ تلنگانہ میں اضلاع کی تعداد 10 سے بڑھ کر 31 ہوچکی ہے ایسے میں حکومت کو تمام اضلاع میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کیلئے ازسر نو قانون میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ توقع کی جارہی تھی کہ حالیہ سرمائی اجلاس میں حکومت اس سلسلہ میں فیصلہ کرے گی۔ اب جبکہ بجٹ اجلاس کا جلد آغاز ہونے کو ہے اردو والوں کو امید ہے کہ حکومت اردو سے ہمدردی کا اظہار ریاست کے 31 اضلاع میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیتے ہوئے قانون سازی کے ذریعہ کرے گی۔ حکومت کیلئے صرف دوسری سرکاری زبان کادرجہ دینا مشکل نہیں لیکن اس پر عمل آوری سنجیدگی کا امتحان ہے۔ تلنگانہ ریاست میں جہاں سابقہ 9 اضلاع عادل آباد، حیدرآباد، کریم نگر، محبوب نگر، میدک، نلگنڈہ، نظام آباد، رنگاریڈی اور ورنگل میں اردو دوسری سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہے لیکن سرکاری دفاتر میں عمل آوری صفر ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے دفتر میں اردو میں درخواستیں قبول کرنے کا کوئی انتظام نہیں جبکہ ہر ضلع دفتر میں اردو کے استعمال کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ٹی آر ایس حکومت نے سرکاری محکمہ جات کو اردو کے استعمال کے سلسلہ میں ابھی تک کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کی ہے۔ ایسے وقت جبکہ اردو کو حکومت کی سرپرستی کی ضرورت ہے ارباب مجاز انگریزی میڈیم اسکولوں کے نام پر مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اردو کو اسی وقت فروغ حاصل ہوسکتا ہے جب اس کے مدارس کو بند ہونے سے بچایا جائے اور وہاں اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں۔ حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ اردو کی ترقی اور تحفظ کے سلسلہ میں حکومت کے دعوے محض زبانی ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گزشتہ ماہ اسمبلی میں اردو زبان میں ڈائیٹ کے انعقاد کا اعلان کیا تھا لیکن اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں کے سلسلہ میں جب محکمہ تعلیم سے تفصیلات حاصل کی گئیں تو بتایا جاتا ہے کہ محکمہ نے حقیقی تعداد پیش کرنے سے گریز کیا ہے۔ بنیادی سطح سے جب تک اردو زبان کو ترقی نہیں دی جائے گی اس وقت تک زبان کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ اردو میڈیم مدارس کی زبوں حالی کے سلسلہ میں سدھیر کمیشن آف انکوائری نے بھی حکومت کی توجہ مبذول کی تھی اور کئی سفارشات کیں لیکن ان سفارشات کو برفدان کی نذر کردیا گیا۔ سدھیر کمیشن نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور اردو مدارس کے حالات پر تفصیلی رپورٹ اعداد و شمار کے ساتھ پیش کی تھی۔ کمیشن نے کہا کہ مسلمانوں میں 29 برس کی عمر تک کے زمرہ میں 13فیصد افراد ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اسکول میں داخلہ نہیں لیا۔ ترک تعلیم کے سلسلہ میں مسلمانوں کا فیصد 31 ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT