Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش ریاست کی تیز رفتار ترقی ، تلنگانہ ریاست محرومی کا شکار

آندھرا پردیش ریاست کی تیز رفتار ترقی ، تلنگانہ ریاست محرومی کا شکار

اندرون دو برس اسمبلی و کونسل کی شاندار عمارتوں کی تعمیر ، تلنگانہ کی عمارتیں تباہی کے دہانے پر
حیدرآباد۔  3مارچ  (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی تشکیل اور آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں کی عمر اتنی ہی ہے اور دانشوروں کی نظر میں تلنگانہ ریاست وسائل سے مالا مال ریاست بھی ہے لیکن اس کے باوجود ریاست تلنگانہ و آندھراپردیش میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو کئی مشکلات کے باوجود آندھرا پردیش ترقیاتی امور میں تلنگانہ کو کافی تیزی سے پیچھے چھوڑ آگے بڑھتا جا رہا ہے ۔ ریاست آندھرا پردیش میں نئے صدر مقام امراوتی کے سنگ بنیاد کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ آندھراپردیش کو صدر مقام کی تعمیر کیلئے 20برس درکار ہوں گے اور موجودہ منصوبہ کے مطابق ترقیاتی و تعمیراتی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانا انتہائی مشکل ہے ۔ ریاست کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش کو کئی مشکلا ت کا سامنا رہا جس میں آفات سماوی بھی شامل ہیں کیونکہ آندھرا پردیش میں ایک سے زائد مرتبہ طوفان کی صورتحال پیدا ہوئی جس کے سبب ساحلی علاقہ میں تباہی آئی لیکن ’امراوتی‘ کی ترقی میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوا بلکہ ریاست کے نئے صدر مقام کی تیز رفتار ترقی جاری رہی۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹراین چندرا بابو نائیڈو کو مرکزی حکومت سے مناسب فنڈس اور ریاست کو خصوصی موقف کے حاصل کرنے میں ناکامی کے سبب کچھ احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود بھی ترقیاتی عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی بلکہ اندرون دوبرس حکومت آندھرا پردیش نے آندھرا پردیش قانون ساز کونسل و قانون ساز اسمبلی کے عالمی معیارکی عمارات تعمیر کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ مثبت حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ذریعہ کئے جانے والے اقدمات میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی اور دیانتداری کے ساتھ کئے جانے والے پراجکٹس کی وقت پر تکمیل کو روکا نہیں جا سکتا۔ آندھرا پردیش اسمبلی و قانون ساز کونسل کے اس کامپلکس کی تعمیرکی تکمیل کے بعد گذشتہ دنوں اس کا افتتاح عمل میں لایا گیا اور کہا جا رہا ہے کہ یہ قانون ساز اسمبلی و کونسل کی عمارتوں پر مشتمل کامپلکس ملک کی تمام اسمبلیوں میں عصری اور معیاری ہے اور اس کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جائے تو یہاں تشکیل تلنگانہ کے بعد سے صرف منصوبوں کا اعلان ہو رہا ہے اور تاحال کوئی ایک ایسی عمارت نہیں تیار ہو پائی ہے جس پر شہریان تلنگانہ یہ کہہ سکیں کہ ہم بھی آندھرا پردیش کی رفتار سے ترقی کر رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں چیف منسٹر کے کیمپ آفس کے علاوہ کوئی عمارت ایسی تعمیر نہیں کی گئی جس کی تعمیر کا آغاز تشکیل تلنگانہ کے بعد ہوا ہو۔حکومت تلنگانہ نے سکریٹریٹ کی منتقلی کا اعلان کیا لیکن عمل ندارد‘ سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کا منصوبہ تیار کیا گیا کوئی پیشرفت نہیں‘ رویندر بھارتی کے طرز پر نئے آڈیٹوریم کا اعلان کیا گیا کوئی کاروائی نہیں ‘ ٹینک بینڈ سے متصل اسکائی اسکریپرس کی تعمیر کا ارادہ ظاہر کیا گیا لیکن کوئی عمل آوری نہیں ‘ اسی طرح سے کئی منصوبوں کو متعارف کروایا گیا لیکن عملی اعتبار سے دونوں ریاستوں کی ترقیاتی و تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو حکومت آندھرا پردیش وسائل کی عدم موجودگی اور مسائل کے انبار کے علاوہ مضبوط اپوزیشن کے باوجود تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن حکومت تلنگانہ وسائل اور کمزور اپوزیشن کے فائدے رکھتے ہوئے بھی تعمیری و ترقیاتی کاموں میں کافی پیچھے ہوتی جا رہی ہے ۔تلنگانہ میں ترقی کے نام پر بیرونی ممالک کے سرمایہ کاروں کو ٹی۔ ہب کا مشاہدہ کروایا جا رہا ہے جبکہ آندھرا پردیش میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں کو بیرونی ممالک کے سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ریاست آندھرا پردیش کے ترقیاتی و تعمیراتی سرگرمیو ں کا تلنگانہ کی تعمیری و ترقیاتی سرگرمیوں سے تقابل اس لئے ضروری ہو گیا ہے کیونکہ 10 سال کی مدت حاصل ہونے کے باوجود حکومت آندھرا پردیش نے اپنے بیشتر دفاتر کو تلنگانہ سے منتقل کرلیا ہے اور ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنے کیلئے حائل تمام رکاوٹیس دور کردی ہیں۔ ان حالات میں تقسیم ریاست کے عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ تلنگانہ کے حصہ میں آنے والی عمارتیں حکومت تلنگانہ سے سنبھل نہیں پارہی ہیں اور حکومت آندھرا پردیش نئی عمارتوں کی تعمیر کو ممکن بناتے ہوئے ترقی کی منزلیں طئے کرنے لگا ہے۔حکومت تلنگانہ کے اعلانات اور آندھرا پردیش کی خاموش ترقیکا بیرونیسفارتکار باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات پر توجہ دی جا رہی ہے کہ ریاست آندھرا پردیش میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں کو اپنے ممالک کے صنعتکاروں تک کیسے پہنچایا جا سکے ۔علاوہ ازیں بیرونی سفارتکار چیف منسٹر آندھرا پردیش کے منصوبوںسے مطمئن نظر آرہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT