Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش میں ترقی ، تلنگانہ کی مرہون منت ، متحدہ ریاست کی برقراری پر ترقی ناممکن

آندھرا پردیش میں ترقی ، تلنگانہ کی مرہون منت ، متحدہ ریاست کی برقراری پر ترقی ناممکن

مخالف تلنگانہ سیما آندھرا قائدین تنقید کا نشانہ ، اوپل میں ٹی آر ایس پارٹی کارکنوں کا اجلاس ، کے ٹی راما راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔/7جنوری، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ آندھرا پردیش میں ترقی دراصل تلنگانہ کی مرہون منت ہے، اگر متحدہ ریاست آندھرا پردیش برقرار رہتی تو آندھرا پردیش میں ترقی ممکن نہیں تھی۔ دو نئی ریاستوں کی تشکیل کے بعد سے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ کے ٹی راما راؤ آج حلقہ اسمبلی اوپل کے پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے علحدہ تلنگانہ کی مخالفت کرنے پر سیما آندھرا قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تحریک کے دوران سیما آندھرا قائدین کہہ رہے تھے کہ ریاست کی تقسیم سے دونوں ریاستیں پسماندہ ہوجائیں گی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ آج آندھرا پردیش میں جو کچھ بھی ترقی ہورہی ہے وہ تلنگانہ کی مرہون منت ہے۔ اگر ریاست تقسیم نہ ہوتی تو آج آندھرا پردیش میں خوشحالی کا دور شروع نہ ہوتا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری، ریاستی وزیر مہیندر ریڈی اور پارٹی کے دیگر قائدین نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ آندھرا پردیش کے گناورم میں انٹرنیشنل ایرپورٹ تعمیر کیا جارہا ہے اس کے علاوہ آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے معیاری ادارے قائم ہورہے ہیں۔ اگر آندھرا پردیش متحدہ ریاست ہوتی تو یہ ممکن نہ تھا۔ کے ٹی آر نے بی جے پی پر سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ تلنگانہ ریاست اور عوامی مسائل پر دوہرا معیار اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو مجوزہ گریٹر انتخابات میں سبق سکھائیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ غیر ضروری تنقیدوں کے ذریعہ حکومت کے ترقیاتی اور فلاحی کاموں میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اپوزیشن کو تعمیری رول ادا کرتے ہوئے بہتر کارکردگی کیلئے حکومت کو تجاویز پیش کرنی چاہیئے برخلاف اس کے اپوزیشن جماعتیں ترقی میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنقیدوں سے عوام کی بھلائی نہیں ہوگی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن کو عوام سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں امن و ضبط کی برقراری حکومت کا کارنامہ ہے اور تمام عید اور تہوار پُرامن اور خوشگوار ماحول میں گذرگئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کی صورت میں امن و ضبط کے بے قابو ہونے اور آندھرائی افراد کو عدم تحفظ کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا لیکن تلنگانہ میں آندھرائی اور دیگر ریاستوں کے عوام خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔ کے ٹی آر نے برقی کی صورتحال میں بہتری کا حوالہ دیا اور کہا کہ کسانوں کو 24گھنٹے برقی کی سربراہی کا منصوبہ ہے جو آئندہ تین برسوں میں روبہ عمل لایا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے کہا کہ تلنگانہ سے تلگودیشم پارٹی کا عملاً صفایا ہوچکا ہے۔ انہوں نے بی جے پی ۔ تلگودیشم اتحاد پر تنقید کی اور کہا کہ عوام اس اتحاد پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں۔ آئندہ گریٹر انتخابات میں اپوزیشن کو ورنگل کی طرح رائے دہندے سبق سکھائیں گے۔ سری ہری نے کانگریس پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ گریٹر انتخابات میں کامیابی کیلئے حکومت کے خلاف پروپگنڈہ کررہی ہے اسے ورنگل ضمنی چناؤ کی بدترین شکست یاد رکھنی چاہیئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گریٹر انتخابات میں ٹی آر ایس 100نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے ریاست کے ساتھ مرکزی حکومت کے سوتیلے رویہ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں دن بہ دن کمی واقع ہورہی ہے۔ حال ہی میں بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج اس کا ثبوت ہیں۔ مودی کی انتخابی مہم کے باوجود پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے وزیر اعظم بنتے ہی دہلی کے عوام نے بی جے پی کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بی جے پی کی مقبولیت گھٹتی جارہی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مجوزہ انتخابات میں کانگریس اور تلگودیشم کو شکست سے دوچار کریں۔

TOPPOPULARRECENT