Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کیلئے مساعی

آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کیلئے مساعی

سپریم کورٹ وکلاء سے وزیر پلے رگھوناتھ ریڈی کے ساتھ اعلیٰ سطحی وفد کی مشاورت
حیدرآباد۔/26فبروری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کے وزیر اقلیتی بہبود ڈاکٹر پلے رگھوناتھ ریڈی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے نئی دہلی پہنچ کر سپریم کورٹ کے کئی وکلاء سے بات چیت کی اور 4فیصد مسلم تحفظات کے مقدمہ میں آندھرا پردیش حکومت کے موقف سے واقف کرایا۔ چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو نے اعلیٰ سطحی ٹیم کو نئی دہلی روانہ کیا ہے تاکہ سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات مقدمہ کی پیروی کیلئے نامور وکلاء کا انتخاب کیا جاسکے۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ہمراہ رکن اسمبلی جلیل خاں، رکن قانون ساز کونسل ایم اے شریف، سابق رکن پارلیمنٹ سیف اللہ، سابق وزیر خلیل باشاہ کے علاوہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ ایل عبدالقادر، سکریٹری اقلیتی بہبود وجئے کمار، سکریٹری بی سی ویلفیر پراوین کماراور دیگر عہدیدارہیں۔ 29 فبروری کو سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات مقدمہ کی سماعت کا امکان ہے لہذا آندھرا پردیش حکومت نے اپنی طرف سے وکلاء کے انتخاب کی کارروائی شروع کی ہے۔ نئی دہلی میں مختلف ماہرین قانون سے مشاورت کے بعد پی پرمیشور راؤ اور پربھو پاٹل ایڈوکیٹس کے ناموں کو قطعیت دی گئی ہے جبکہ راجیو دھون کے نام پر غور کیا جارہا ہے۔ آندھرا پردیش کی ٹیم نے مسلم تحفظات کیلئے سروے رپورٹ پیش کرنے والے ریٹائر آئی اے ایس عہدیدار پی ایس کرشنن سے بھی مشاورت کی اور مقدمہ میں حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ پی ایس کرشنن نے وفد کو مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق سروے رپورٹ کے ساتھ عدالت کو دلائل سے واقف کرائیں۔ جمعیتہ العلماء کی جانب سے مقدمہ کی پیروی کرنے والے شکیل احمد سید ایڈوکیٹ سے بھی آندھرا پردیش کے قائدین نے بات چیت کی۔ اس موقع پر جمعیتہ العلماء کے ذمہ دار بھی موجود تھے۔ توقع ہے کہ آندھرا پردیش کا یہ وفد وزیر اقلیتی اُمور ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ سے ملاقات کرے گا اور آندھرا پردیش میں اقلیتوں کو درپیش مسائل سے واقف کیا جائے گا۔ مرکزی اسکیمات میں آندھرا پردیش کو مناسب حصہ داری کیلئے نمائندگی کی جائے گی۔ بعد میں شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کافی سنجیدہ ہیں اور اس کی برقراری کے حق میں ہیں۔ حکومت تعلیم و روزگار میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کررہی ہے تاکہ ان کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی دور کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی ہدایت پر وزیر اقلیتی بہبود کے ہمراہ اعلیٰ عہدیدار نئی دہلی کے دورہ پر ہیں اور وہ آندھرا پردیش کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ مختلف مرکزی وزراء سے بھی ملاقات کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT