Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش میں 5ماہ میں 400کروڑ روپئے وقف آمدنی کا نشانہ

آندھرا پردیش میں 5ماہ میں 400کروڑ روپئے وقف آمدنی کا نشانہ

اندرون ایک ہفتہ وقف بورڈ کی وجئے واڑہ منتقلی، اقلیتی بہبود کیلئے آندھرا پردیش میں موزوں عہدیداروں کی تلاش، شیخ محمد اقبال کا بیان
حیدرآباد۔/3نومبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں اوقافی جائیدادوں کی آمدنی میں اضافہ کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال نے 5 ماہ میں 400کروڑ روپئے کی آمدنی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ شیخ محمد اقبال جو آندھرا پردیش میں اقلیتی اُمور کے عملاً انچارج عہدیدار ہیں آج اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا۔ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اقلیتی بہبود کے دفاتر جلد از جلد وجئے واڑہ منتقل کردیئے جائیں۔ پہلے مرحلہ میں وقف بورڈ کا دفتر حج ہاوز سے وجئے واڑہ منتقل کردیا جائے گا اور توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ منتقلی کا کام مکمل ہوجائے گا۔ وجئے واڑہ میں امداد گھر کی عمارت میں آندھرا پردیش وقف بورڈ کا دفتر رہے گا۔ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ وقف بورڈ اپنی کارکردگی کا آغاز وجئے واڑہ سے کریگا۔ انہوں نے بتایا کہ مرحلہ وار انداز میں دیگر اداروں کو بھی وجئے واڑہ منتقل کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش تمام سرکاری اداروں کی وجئے واڑہ منتقلی کیلئے کافی سنجیدہ ہیں۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ آندھرا پردیش میں اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے ذریعہ وہ پانچ ماہ میں 400کروڑ روپئے کی آمدنی کا نشانہ مقرر کرچکے ہیں۔ آندھرا پردیش کے کئی اضلاع میں ہزاروں ایکر قیمتی اوقافی اراضی موجود ہے جنہیں کمپنیوں کو لیز پر یا پھر انہیں ڈیولپ کرتے ہوئے بھاری آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پانچ ماہ میں وہ 400کروڑ کے نشانہ کو پورا کرلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس آمدنی کو اقلیتوں کی بھلائی پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش میں اوقافی جائیدادیں اس قدر موجود ہیں کہ اقلیتی بہبود کے علحدہ بجٹ کی ضرورت نہیں۔ اوقافی جائیدادوں کی ترقی اور ان کے بہتر استعمال کے ذریعہ وقف بورڈ اقلیتی بہبود کے کام انجام دے سکتا ہے۔ آندھرا پردیش میں جاریہ سال اقلیتی بہبود کا بجٹ 380 کروڑ روپئے مختص کیا گیا تھا تاہم ریاست کی تقسیم اور اقلیتی اداروں کی تقسیم میں تاخیر کے سبب اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سُست ہے۔ شیخ محمد اقبال کے مطابق تلنگانہ میں عہدیدارں کی کمی ہے اور دیگر محکمہ جات کے عہدیدار اقلیتی اداروں میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سروے کمشنر وقف، وقف ٹریبونل، کمشنر اقلیتی بہبود اور دیگر اداروں پر تقررات کیلئے موزوں عہدیداروں کی تلاش جاری ہے۔ اس سلسلہ میں بعض عہدیداروں کی فہرست منظوری کیلئے چیف منسٹر کو روانہ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے ذریعہ وہ غریب لڑکیوں کی شادی، بیواؤں کو پنشن، بیروزگار نوجوانوں کو قرض اور تعلیم اور ٹریننگ کیلئے مختلف پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس نشانہ کی تکمیل کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے تمام ضلع کلکٹرس کو مکمل تعاون کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے اوقافی ادارے اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش کے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی حیثیت سے شیخ محمد اقبال نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے ذریعہ عوامی مقبولیت حاصل کی تھی۔ آندھرا پردیش میں جملہ 3546 اوقافی اداروں کے تحت 67973 ہزار ایکر اراضی موجود ہے جس میں 24167 ایکر اراضی ناجائز قبضوں کے تحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناجائز قبضوں کی برخواستگی ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ کرنول، وشاکھاپٹنم اور دیگر علاقوں میں کی ہزار ایکر اوقافی اراضی کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ریونیو ریکارڈ سے اُسے حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وقف بورڈ کی تقسیم کے بعد60 رکنی اسٹاف کو آندھرا پردیش کیلئے الاٹ کیا گیا جن میں 30 ملازمین اضلاع میں برسر خدمت ہیں جبکہ وقف بورڈ کے آفس میں تقریباً 20ملازمین ہی اوقافی اُمور کی یکسوئی کرسکتے ہیں جبکہ باقی کلاس فورتھ اور دیگر رتبہ کے ملازمین ہیں۔ آندھرا پردیش میں اقلیتی اداروں میں مزید تقررات کیلئے حکومت کو رپورٹ پیش کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT